پسپائی اور محبت کی آخری نظم


naseer nasirجب کشتیاں دریاؤں سے
اور کنارے پانیوں سے اوب جائیں
اور راستے بستیوں کے نواح سے گزرتے ہوئے
اچانک کسی ہائی وے کی زد میں آ کر کچلے جائیں
تو سمجھ لینا
زمین پر میرے اور محبت کے دن پورے ہو چکے ہیں
اور میں آخری معرکہ بھی ہار چکا ہوں
اور تمہاری بھیجی ہوئی دعاؤں کی کمک
اور محافظ تعویزوں سمیت مارے جانے سے پہلے
کسی تنگ نشیبی راستے میں
زخموں کی تاب لانے
اور تاب کار شعاعوں سے آکسیجن کشید کرنے کی
بے سود کوشش کر رہا ہوں
اور عین جنگاہ میں
تمہارے لیے لکھی ہوئی نظمیں
اور امن خوابوں سے بھری ہوئی ڈائریاں
ان درختوں کے ساتھ ہی کوئلہ بن چکی ہیں
جو شعاعی حملے سے پہلے
پھولوں سے لدے ہوئے تھے
اور جن کے نیچے میں آخری بار بیٹھا تھا
اور سوکھی روٹی کے ٹکڑے بمشکل حلق سے اتارے تھے
اور پانی کے بچے کھچے چند قطروں سے ہونٹ تر کیے تھے

اور جب تم دیکھو
کہ وقت اچانک رک گیا ہے
اور شام کی اذانیں بلند ہونے سے پہلے دن طویل ہو گیا ہے
اور کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے
تمہیں ہر چیز بدلی ہوئی لگے
تو بے چین ہو کر مجھے یاد نہ کرنا
ورنہ وہ آسانی سے
تمہارے دل کے راستے سے مجھ تک پہنچ جائیں گے
اور میری موت کو
فتح کی نشانی کے طور پر حنوط کر لیں گے

اور جب میرے بجائے
قنطور یا جانور نما کوئی مخلوق
تمہارے فارم ہاؤس پر پہنچے
تو حیران مت ہونا
اور چپکے سے دروازہ کھول دینا
اور وہ استقبالی بوسے
جو تم نے میرے لیے پس انداز کررکھے ہیں
کسی خلائی بھیڑیے کے برقی ہونٹوں سے مَس کرتے ہوئے
رو مت پڑنا
ورنہ زمین پر ہمیشہ کے لیے دھویں کے بادل چھا جائیں گے

اور جب ہوا کا آخری جھونکا
پورٹیکو میں سے گزرتے ہوئے
سرگوشیوں میں میرا پیغام ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کرے
تو اُس طرف مڑ کر مت دیکھنا
ورنہ وہ تمہاری روح کے کمزور ترین حصے سے واقف ہو جائیں گے
اور وہیں اپنے مشینی دانت گاڑ دیں گے
اور سنو!
مکمل سپردگی سے پہلے
کسی اور نشانی کا انتظار مت کرنا
انسانی ادوار میں
محبت کا مرنا آخری نشانی ہے!!


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “پسپائی اور محبت کی آخری نظم

  • 06-05-2016 at 3:39 pm
    Permalink

    kia kehny — achooti nazam

Comments are closed.