اگنی نہیں دھونی، ابدالی نہیں آفریدی


mubashir

بھارت کا نام آتا ہے تو پتا نہیں کیوں ہتھیلیاں جلنے لگتی ہیں، کان گرم ہوجاتے ہیں، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے، سانس تیز چلتا ہے، خون کھولنے لگتا ہے، زبان قابو سے باہر ہوجاتی ہے۔ کم بخت اول فول بکتی جاتی ہے۔

بھارت کا تذکرہ نکلتا ہے تو محمود غزنوی یاد آنے لگتا ہے، محمد غوری کے گھوڑے کی ٹاپیں سنائی دینے لگتی ہیں، احمد شاہ ابدالی کے نعرے چہار سو بلند ہونے لگتے ہیں، چشم تصور میں غزنوی، غوری اور ابدالی میزائلوں کے دھماکے بپا ہونے سے ایمان تازہ ہوجاتا ہے۔

بھارت کی کوئی تصویر نظر آتی ہے تو یہ دل دکن، میسور اور اودھ پر قبضے کو بے قرار ہوجاتا ہے، دلی کے شاہی قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کے لیے شمشیر اٹھانے کو تیار ہوجاتا ہے، دادی اماں کی دادی اماں کا قول یاد آتا ہے کہ دلی کا چاندنی چوک ہمارے پرکھوں کی جائیداد تھا۔ اجی چاندنی چوک کیا، ہندوستان میں جہاں جہاں چاندنی چھٹکتی ہے، وہ سب ہماری ہی چھینی گئی جاگیر ہے۔

بھارت سے کوئی ناگوار آواز بلند ہوتے ہی پینسٹھ کی جنگ آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے، ایم ایم عالم کی شجاعت خون گرماتی ہے، نور جہاں کے ترانے کانوں میں رس گھولنے لگتے ہیں، اکہتر کی جنگ کے ذکر پر آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ کارگل کی جنگ کی تلخ یادیں منہ کڑوا کردیتی ہیں۔

بھارت سے مذاکرات ہوتے ہیں تو کبھی نہرو کی یاد آتی ہے جو کشمیر پر وعدے کرکے پھر گئے، کبھی اندرا گاندھی کا خیال آتا ہے جنھوں نے مشرقی پاکستان میں نفرت کے بیج بوئے، کبھی نریندر مودی سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں جن کے دامن پر گجرات فسادات کا داغ ہے لیکن منہ میں دوسروں کے لیے دہشت گردی کے الزامات۔

بھارت سے میچ ہوتا ہے تو شارجہ میں میاں داد کے چھکے کی یاد سے دل خوشی سے بھر جاتا ہے، چنئی میں سعید انور کی اننگز کی جھلکیاں طبعیت ہشاش باش کردیتی ہیں، کلکتے میں سلیم ملک کی تباہ کن بیٹنگ جسم میں سنسنی دوڑادیتی ہے۔ آسٹریلیشیا کپ کے اسکور کارڈ آنکھوں میں رنگ بکھیر دیتے ہیں۔

اتفاق سے آج بھی پاکستان اور بھارت کا کرکٹ میچ ہے۔ ہاں، آج سرحد کے دونوں جانب کروڑوں افراد کے کان گرم ہوں گے، سانسیں تیز چلیں گے، چہرے سرخ ہوجائیں گے، سچ کہ بہتوں کا خون جوش مارے گا۔

لیکن میری طبعیت میں چند دن سے ٹھہراؤ ہے، مزاج میں اعتدال ہے، خون کی روانی معمول پر ہے، چہرے پر مسکراہٹ ہے، منہ میں مٹھاس گھلی ہوئی ہے۔ بھارت کے نام پر غصہ نہیں آرہا، لرزہ نہیں چڑھ رہا، زبان نہیں بھڑک رہی۔

آج نئی دلی میں میری کتاب 100 لفظوں کی کہانی کا ہندی ترجمے، یا یوں کہیے کہ دیوناگری رسم الخط والا ایڈیشن ایک تقریب میں پیش کیا جائے گا۔ کچھ مسلمانوں اور کچھ ہندوؤں نے مل کر اسے چھاپا ہے۔ ایک مسلمان اور ایک ہندو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میری کہانیوں پر گفتگو کریں گے۔ کئی مسلمان اور کئی ہندو اس کتاب پر گفتگو سننے آئیں گے۔

تصنیف حیدر اور ڈاکٹر زمرد مغل نے اس تقریب کا عنوان کتاب شناسی رکھا ہے۔ اس بہانے بھارت میں کچھ لوگ میرے نام سے آشنا ہوجائیں گے، کچھ لوگ میری کہانیاں سن لیں گے۔

میں نئی دلی نہیں جارہا، کراچی میں بیٹھ کر ٹیلی وژن پر کرکٹ دیکھوں گا۔ لیکن پہلی بار اسے جنگ نہیں، کھیل کا مقابلہ سمجھ کر لطف لوں گا۔ عوامی رابطوں کا مطلب اور مقصد پہلی بار میری سمجھ میں آیا ہے۔

یہ کرکٹ دوستی اور کتاب شناسی اگر چلتی رہے، کرکٹ والے اور کتاب والے ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آتے جاتے رہیں تو کیا خبر کسی دن بڑے بڑے مسائل بڑے بڑے میزائل چلائے بغیر حل ہوجائیں۔ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس دن غزنوی اور اگنی چل گئے اس دن لاکھوں کروڑوں افراد مر جائیں گے۔ آفریدی اور دھونی جس دن چل جاتے ہیں اس دن لاکھوں کروڑوں لوگ خوش ہوجاتے ہیں۔ کون سے میزائل بہتر ہیں؟

؟


Comments

FB Login Required - comments

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 51 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi