آفریدی لالا آج تو جیت جا


\"wisi

پتہ نہیں کیوں دوبارہ کرکٹ میچ دیکھنا شروع کر دیے ہیں۔ کرکٹ خیر سے کھیلی بھی ہے اور بہت کھیلی ہے،اپنا نہایت بیہودہ قسم کا فیلڈر ہونا بھی یاد ہے۔ اگر کبھی کوئ کیچ پکڑ لیتا تو مخالف بیٹسمین کئی دن ناراض رہتا کہ میرا ہی کیچ کیوں پکڑا۔ کپتانی بھی کی ہے اپنی شتر بے مہار ٹیم کی جو میچ جیتنے پر اور ہارنے پر ایک سا حسن سلوک کرتے تھے اپنے کپتان کی کٹ لگاتے تھے۔

پشاور کے ان اک دو جواریوں سے بھی تھوڑی بہت صاحب سلامت ہے جن کو پتہ ہوتا کے میچ کس نے جیتنا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ میچ والے دن وہ ہمارا فون بھی نہیں سنتے اپنے گھر بھی نہیں آنے دیتے۔ پی سی بی کے ساتھ اک مک ہوئے ایک دو پشوری صحافی بھی جب پکا سوٹا لگا لیں تو بہت قصے سناتے ہیں۔

جب کالج میں داخلہ لینے پہنچے تھے تو سفارش کرائی تھی۔ سفارش کرنے والا ایک کرکٹر تھا جن صاحب سے مدد کی درخواست کی تھی وہ ٹیسٹ امپائر رہے ہیں۔ ان کی پرکھ کا دل سے قائل ہوں کہ جتنی بزتی انہوں نے اس دن ہم سب کی کی تھی یہ کہہ کر
پڑھنے والوں کی شکلیں ایسی نہیں ہوتیں، مدتوں بھول نہ سکے ۔ لیکن انہوں نے حق ہی بیان کیا تھا۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس بنا تو کنسٹرکشن کمپنی کے پراجیکٹ افسر کا ایک بچہ تھا جسے کرکٹ کھیلنے کا جنون تھا۔ سردی گرمی دن رات وہ بس بیٹنگ کرتا رہتا۔ پراجیکٹ افسر کے کہنے پر مزدور اس بچے کو باؤلنگ کراتے رہتے۔ آپ کرکٹ کا کھیل پسند کرتے ہوں اور اس بیٹسمین کی تعریف نہ کریں ہو ہی نہیں سکتا۔ کرکٹ کا ایسا دیوانہ کون ہے جو سعید انور کی بیٹنگ سے متاثر نہیں ہوا۔

\"afridi-2\"

جب ہمیں لگا کہ آفریدی دوست ہمیں ایزی لیں گے اور شاہد آفریدی کی وجہ سے اتراتے پھریں گے تو ہم دوستوں نے مل کر سعید انور کو اپنے سرکل میں شنواری مشہور کر دیا تھا۔ سعید انور سکور کیا کرتا اور شاہد آفریدی وہی کیچنگ پریکٹس کرایا کرتا تھا جو آج کل کراتا ہے۔ ہمارے آفریدی دوست ہم لوگوں کے طعنوں سے پریشان رہا کرتے۔

کرکٹ بس ایک کھیل ہے ہمیں بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ وہی ٹیم جیتے گی جو میچ کے دن اچھا کھیلے گی۔ پاکستان بھارت کے میچ میں بھی روائیتی جزباتی پن کا شکار ہوئے بغیر اچھے کھیل کی ہی داد دی ہے ہمیشہ۔ لیکن ورلڈ کپ کے میچوں میں ہم بھارت سے اتنا ہارے ہیں کبھی جیت نہیں پائے کہ اب
جیتنا بنتا ہے۔

تو آفریدی لالا کچھ کر زیادہ کی فرمائش نہیں ہے بس اتنا کر جو تمھارا قدرتی انداز ہے اسی کے مطابق کھیل ویسے ہی ہٹ مار بس کسی طرح پچاس ساٹھ بال کھیل لے۔ مشکل ہے لیکن کر گزر۔ کیونکہ یہ جھلی قوم اس کے بچے کرکٹ کو قومی مذہب سمجھتے ہیں۔ یہ ایک خوشی ہے جیت ایک خوشی ہے جو انمول ہے پیسوں سے نہیں کارکردگی سے ملتی ہے۔

کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے لیکن ہر ورلڈ کپ میں ہم ہی ہاریں یہ بھی کوئی کسی کتاب میں لکھا ہے کیا۔ کھلاڑی تو ہمارے بس گزارا سے ہی ہیں لیکن یہ کرکٹ ہے جہاں جذبہ بھی بازی پلٹ دیتا ہے۔ جیتو پاکستان۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔