ہم گِدھ ہیں


zafar imran

ایک مدت ہوئی ناول ‘راجا گدھ’ کو پڑھے ہوئے؛ اس کا ‘خیال’ یہ تھا، کہ مردار رزق بالآخر جنون میں مبتلا کرتا ہے۔ ذرا ماضی قریب پہ نظر کیجئے۔ کیا ہم یہ سنتے نہیں آئے، کہ تقسیم پاک و ہند کے بعد جو کلیم داخل کئے گئے، ان میں بڑے پیمانے پر ہیر پھیر ہوا۔ پھر ہوش سنبھالا، دیکھا کہ میٹرک کی سند میں عمریں کم کر کے لکھوائی جاتی ہیں۔ ملازمت کے لیے انٹرویو دیتے جھوٹ بولے جاتے ہیں، حتیٰ کہ حسب نسب بھی بدلتے دیکھے ہیں۔ مان لیجئے کہ جھوٹ ہماری گھٹی میں پڑا ہے۔

ہم چوری کا مل خریدتے ہچکچاتے نہیں، جس سافٹ ویئر کے سہارے یہ تحریر رقم کر رہا ہوں، وہ بھی مسروقہ (پائریٹڈ) ہے۔ پائریٹڈ کانٹینٹ ڈاون لوڈ کرتے کبھی سوچا ہی نہیں، کہ یہ بھی جرم ہے۔ جھوٹا نسلی تفاخر، دھوکا دہی، بہتان تراشی، ذخیرہ اندوزی، جعل سازی، اپنی ناکامیوں کا ذمے دار دوسروں کو ٹھیرانا، مال و زر کی مجنونانہ ہوس، الغرض کون سی خوبی ہے، جو ہم پاکستانیوں میں موجود نہیں؟۔۔ ہمارا کچھ پردہ تھا، تو نائن الیون کو جڑواں مناروں کے گرتے ہی وہ لباس اتر گیا۔

ہم اپنا بیج اگانے سے معذور ہیں، علم و تحقیق کے میدان میں نام و نشان نہیں۔ خیرات کے ٹکڑوں (غیر ملکی امداد اور قرضوں) پر پلتے ہیں۔ اور ظلم یہ ہے کہ انھی ممالک کو گالی بکتے ہیں، جن سے خیرات لیتے ہیں، دعوے سنیے، تو ایسے ہیں، جیسے کہتے ہوں، کہ ہم کسی کا دیا کھاتے ہیں؟۔۔۔ اب ہمارا مکالمہ سنیے، تو ہمارے رسول نے یہ فرمایا، فلاں صحابی کی یہ شان تھی۔۔۔ اخلاق کا یہ عالم ہے کہ کہتے نہیں تھکتے، تم کافر ہو۔۔ تم قادیانی ہو۔۔ تم ملاں ہو۔۔ تم یہود و ہنود کے ایجنٹ ہو۔

ہم اتنے صفائی پسند ہہیں کہ اپنئی کار کو صاف رکھنے کے لیے، کچرا سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ اور گھر کا گلی میں۔ اتنے قابل ہیں کہ رشوت دے کر نوکری حاصل کرتے ہیں۔ اتنے عالی شان ہیں، کہ قطار میں کھڑا ہونے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اس وقت اسوہ رسول یاد ہی نہیں آتا۔ رسول اور اس کا خدا یاد آتا ہے، تو دوسروں کو مطعون کرنے کے لیے۔

یہاں پیدل چلنے والے کے لیے، کار والا بدمعاش ہے، کہ حق حلال کی کمائی سے گاڑیاں کب خریدی جاتی ہیں، اور کار والوں کے لیے پیدل چلنے والے رذیل ہیں۔ ہماری نظر میں سیاست دان چور ہیں، پولیس بدامنی کا موجب ہے، ٹریفک کی بدنظمی محکمے کی مالی بدعنوانی کی وجہ سے ہے۔ ریل ویز، پی آئی اے، واپڈا، بینک، پٹواری، ڈاکٹر، اساتذہ، محافظ سب کے سب لٹیرے ہیں۔۔۔ اپنے تئیں ایک ہم ہی ہیں۔۔۔ دین کے رکھوالے۔۔ ملک کے خیر خواہ۔۔ ہم ہی ہیں انسانیت کا بھرم، اور نجابت کے آمین۔

حقیقت یہ ہے، کہ ہم ان گِدھوں میں سے ہیں، جو مردار کھا کھا کے، جنون کے زیرِ اثر لرز رہے ہیں، لیکن اپنے آپ کو شاہین سمجھتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 84 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

2 thoughts on “ہم گِدھ ہیں

  • 20-03-2016 at 3:47 pm
    Permalink

    اس تحریر سے قنوطیت ٹپک رہی ہے۔ بہت کچھ اس میں درست ہے، مگر سماج کے اندر مختلف لہریں چلتی رہتی ہیں۔ ایسے بھی لوگ ہیں اور ظاہر ہے اچھی خاصی تعداد میں ہیں جو یہ سب کام کر رہے ہیں، جن کا ذکر ہوا، ایسے حلقے بھی موجود ہیں جو نہ صرف ایسا نہیں کرتے بلکہ ان کے خلاف صف آرا ہیں۔ وہ اپنی گاڑی کا گند سڑک اور گھر کا گند گلی میں نہیں پھینکتے بلکہ دوسروں کو یہ بات سمجھانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ اس طرح کی جنرلائزڈ تحریر مگر صرف ڈپریشن ہی پیدا کرتی ہے، بلکہ وہ ان مثبت سوچ رکھنے والے، تبدیلی کا خواب دیکھنے اور اس کے لئے کچھ نہ کچھ کرنے والے لوگوں کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہے۔ ظفر عمران کی تحریر کا مداح ہوں، اس رائے کو ایک اختلافی نوٹ ہی تصور کیا جائے، برادرم پر تنقید ہرگز مقصود نہں۔

  • 20-03-2016 at 6:51 pm
    Permalink

    عامر خاکوانی بهائی، آپ کی بات سے صد فی صد متفق ہوں. ایسی تحریریں، شاید نہیں لکهی جانی چاہئیں، یا ان کا لہجہ زرا نرم ہونا چاہیے. تحریر چهپنے کے بعد مجهے احساس ہوا، کہ اسی صیغہ واحد متکلم میں لکهتا، تو بہ تر ہوتا. یا شگفتہ انداز اپناتے ہوے یہ بات کہی جا سکتی تهی. اس بار معذرت کرتا ہوں، میں کوشش کروں گا، آیندہ ایسی تلخی کو پی جانا سیکهوں. آپ میری تحریر کے مداح ہیں، یہ تمغا بہت ہے. نوازش.

Comments are closed.