مشرف اور سیاستدان


ibarhim kunbhar

اس کے وکیل آئے دن عدالتوں اور ٹی وی چینلوں پر کہتے پھرتے تھے کہ پرویز مشرف کو یہاں رہتے رہتے وہ تمام بیماریاں لگ چکی تھیں جن کی وجہ سے عدالتوں میں حاضری ممکن ہی نہیں۔ بقول ملزم کے دفاعی وکیل چودھری فیصل کے ان بیماریوں کا پاکستان میں علاج ممکن ہی نہیں اور مشرف کی ملک سے روانگی کے چار گھنٹے پہلے تک یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ وہ یہاں سے جلدی امریکا پدھارجائیں گے کیونکہ انہیں ریڑہ کی ہڈی کا ایسا مرض لاحق ہوا ہے کہ سوائے امریکا کے باقی قرہ ارض پر اس کا علاج ہی نہیں۔ لیکن یہ کیا ہوا وہ دبئی پہنچے پر کسی اسپتال نہیں گئے، نہ ہی ان کو لینے کے لئے کوئی ایمبولنس آئی بلکہ وہ ائیرپورٹ سے سیدھا اپنے گھر گئے اور وہاں پر پہلے سے پہنچی اپنی ہم خیال قیادت سے ملاقات کی جس کے بعد پارٹی کا اجلاس طلب کردیا گیا۔ جس کو علاج کی خاطر باہر بھیجا گیا اس نے اترتے ہی سیاست شروع کردی، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی فضاؤں کو چھوڑتے ہی سابقہ فوجی آمر کے درد کو آدھی دوا مل چکی ہے  اور باقی دکھڑے دور ہونے میں بھی دیر نہیں لگے گی۔

بیمار شخص سے ہمدردی ہونی چاہئیے لیکن یہ کون سی بیماری ہے کہ اپنے ملک میں رہتے ہوئے مقدموں میں طلبی کے باوجود عدالتوں کے سامنے پیش ہونے کے بجائے ان تاریخوں میں اسپتالوں میں منتقل ہوا جائے اور تمام تاریخوں پر ایک جیسے میڈیکل سرٹیفیکیٹ اور طبی رپورٹیں بھیج دی جائیں اور ان ہی رپورٹوں کی بنیاد پر ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں مہنگے ترین وکیلوں کی معرفت داد رسی لی جاوے اور پھر عدالتی فیصلوں کو بنیاد بنا کر حکومت سے علاج کی درخواست کی جائے۔ جب جہاز پرواز کی تیاری پکڑے تو طبیعت میں بہتری آنے لگے اور جب جہاز ملکی حدود پار کر کے فضا میں پہنچے تو طبعیت اتنی باغ و بہار ہو جائے کہ دبئی ائیرپورٹ سے اسپتال نہیں سیدھا گھر جانے کی بات کی جاوے۔ یہ تو جادو ہی ہوگیا کیونکہ جب تک ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل تھا تب تک توخاندانی ذرائع سے یہ خبریں فیڈ کی جاتی رہیں کہ پرویز مشرف کو ایئر ایمبولنس میں دبئی لے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔اور دبئی ائیر پورٹ سے تو گاڑی تک خود چل کر جانا اس بات کی دلیل ہے کہ بیماری دیسی ہی تھی جو پردیس پہنچتے خود ختم ہوگئی۔

اس سارے معاملے کا دوسرا اہم پہلو ہماری سیاست ہے جو ان دنوں مشرف زدہ ہو چکی ہے۔ مشرف کے جاتے ملک کے سارے سیاستدان جیسے بلوں سے نکل پڑے ہیں اور بیان پر بیان داغتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک سندھی کہاوت ہے کہ”نانگ ویو نکری لیکو پیو کٹجی” جس کا ترجمہ ہے کہ “سانپ نکل گیا اور لکیر پیٹی جا رہی ہے”، پرویز مشرف پرواز پکڑ کر دبئی کیا گئے سیاستدانوں اور حکومتی اکابرین کی بس لاٹری ہی تو نکل آئی ہے، جب تک وہ ملک میں تھا ہر طرف کسی قدر سناٹا ہی تھا۔ یہ ایسے ہی کہ “جب تک بکا نہ تھا کوئی پوچھتا نہ تھا، تو نے خرید کر انمول کردیا”۔ سنگین غداری کیس کا ملزم عدالتی سمن جاری ہونے پر ان اسپتالوں میں جا کر پناہ لیا کرتا تھا جہاں سویلین “بندہ نہ بندے دی ذات” پہنچ سکتی تھی اور تو اور حکومتِ وقت کے بھی پر اور پیر دونوں جلتے تھے۔ عدالتیں سمن جاری کرتی رہیں،ملزم کے وارنٹ نکلتے رہے، لیکن حکومت کے تابع دارالحکومت کی انتظامیہ کو جرات نہیں ہو سکی کہ ملزم کو پکڑ کر کٹہڑے میں کھڑا کر سکے۔ پرویز مشرف قتل جیسے بڑے مقدموں میں حاضری سے خود کو استثنیٰ دیتارہا، یہ سب کچھ اسی ملک میں انہی پارٹیوں اور ان کے سربرہان کے سامنے ہوتا رہا لیکن کسی نے بھی تو آواز نہیں اٹھائی۔ بس میڈیا میں کچھ حقائق آتے لیکن پھر معاملہ ٹھنڈا پڑجاتا تھا۔

اور تو اور یہ جو پرویز مشرف کو باہر جانے کی اجازت پر جو لوگ جذباتی انداز میں سخت احتجاج کرنے کا اعلان کر رہے ہیں وہ پہلے اپنے دور میں مشرف کو ریڈکارپٹ پر دئے گئے گارڈ آف آنرز کا تو حساب دیں۔ یا اس خط جس میں محترمہ بینظیر بھٹو نے خود کو نقصان ہونے کی صورت میں جن لوگوں کو ذمہ دار قرار دینے کی بات کی تھی اس پر ہی بحث فرما لیں اور یہ بھی بتادیں کہ اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں انھوں نے اس ملزم پر قتل کا الزام ثابت کرنے کے لئے کیا عملی کام کیا؟ وہ تو پرویز مشرف کا اقوام متحدہ کمیشن کے سامنے بیان تک نہ دلوا نہیں سکے۔ مان لیتے ہیں کہ یہ پیپلز پارٹی کی ہی حکمت عملی تھی کہ ایک مطلق العنان ایوان صدر سے باہر نکال دیا گیا لیکن اس کے بعد کیا؟ اس کو محفوظ راستہ دینے کئی باتیں نکلتی رہی اور سچ ثابت ہوئیں اور تو اور اس کے غیر آئینی اقدامات کو جائز قرار دینا اور آئینی تحفظ دینے کی کوششوں کا الزام تو آج کے وزیراعظم نے ماضی میں کئی بار لگایا ہے اس کی تردید پیپلز پارٹی کی طرف سے اس شدت سے تو کبھی نہیں آئی جس انداز سے مشرف کے جانے پر رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خالی رد عمل کیوں اصل سوال یہ ہے کہ حکومت یا حکومت سے باہر عملی طور پر کیا کیا گیا کہ کسی آمر کو پھر وہ جرات نہ ہو جو مشرف کو ہوئی۔

دوسری طرف حکومتِ وقت ہے جس کا ہر وزیر سابقہ آمر کے وعدے کو حرف آخر سمجھ بیٹھا ہے کہ وہ واپس آئے گا۔ سیدھی سی بات ہے بھائی، واپس آنے کے لئے کوئی مطلق العنان ملک نہیں چھوڑتا اور یہ جو حکومت پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کرنے، آئین شکنی کا مقدمہ درج کرنے اور تمام حساب کتاب پورا کرنے کا کریڈٹ لے کر باقی پارٹیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے وہ اس بات کا اعتراف بھی تو کر لے کہ مشرف اس ملک کا واحد ملزم تھا جس پر دو قتل کیس اور ایک ایسا کیس تھا جو سب پر بھاری یعنی سنگین غداری کاہے،لیکن وہ اتنا طاقتور تھا کہ اس کے خلاف چاہتے ہوئے بھی ہم کچھ نہیں کر سکے، حکومت مانے کے پہلے دن سے لے کر ای سی ایل سے نام ہٹانے تک ہم عدالتوں پر نظریں لگائے بیٹھے تھے تاکہ اپنی بندوق ان کے کاندھے سے چلاسکیں۔ اگر اس طرح نہیں ہوتا تو حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے دوسرے پیراگراف پر عمل کرنے کی جرات کرکے دیکھتی جس میں عدالت عظمیٰ نے سیدھا سیدھا لکھ دیا ہے کہ اپیل خارج ہونے کا فیصلہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری مقدمہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا اور اگر حکومت یا خصوصی عداالت خود چاہے تو اس کی نقل و حرکت روک سکتی ہے،حکومت پر اس وقت تنقید بھی عدالتی فیصلے کی اس پیرا پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہو رہی ہے۔قصہ مختصر کہ عدالت نے مشرف معاملہ کی بال حکومتی کورٹ میں بھیج دی اور حکومت نے ناگہانی اسباب کی وجہ سے عدالتی فیصلہ کے پیرا ون کا سہارا لے کر ہائیکورٹ کے فیصلے میں ہی اپنی نجات سمجھ کر اپنی گلے کا طوق اتاردیا۔


Comments

FB Login Required - comments

ابراہیم کنبھر

Ibrahim Kumbhar a working journalist, belong and working for sindhi tv channel KTN NEWS as special Reporter and also bureau chief Daily koshish.. Article writer for Daily kawish ,leading sindhi news paper published from Karachi, Hyderabad and Sukkur.

abrahim-kimbhar has 19 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar