کتاب شناسی کیا ہے


Tasneef

کسی بھی چیز کی تعبیر کا صحیح طریقہ ڈھونڈنا اس بات سے زیادہ ضروری ہے کہ کسی بھی بات کی تعبیرپیش کی جائے۔ ہم سب کچھ کتاب سے حاصل نہیں کرسکتے، مگر کتاب سے ہم کیا حاصل کرسکتے ہیں اسے جاننا بہت ضروری ہے۔ ہماری یونیورسٹیز اور کالجز میں اردو ادب پڑھنے والے طلبا کی حالت خراب کیوں ہے، کیوں آخر ان سے ایم اے، ایم فل یا پی ایچ ڈی کے انٹرویوز میں بھی صرف شعر ہی پڑھوا کر دیکھا جاتا ہے۔ میرا اپنا تجربہ بتاتا ہے کہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم اول و آخر ادب کو صرف اردو شاعری سے حاصل ہونے والی ایک جز وقتی تفریح سے زیادہ اور کچھ نہیں سمجھتے۔ لیکن ہمیں اس صورت حال کو بدلنا چاہیے۔ میں جب ایم فل کا انٹرویو دینے گیا، تو قریب تمام ہی پروفیسران کرام بیٹھے ہوئے تھے، ہیڈ آف دی دیپارٹمنٹ نے پوچھا کہ آپ کس موضوع پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ گل آفتا ب پر۔ کہنے لگے ، یہ کیا ہے؟ میں نے کہا کہ ظفر اقبال کا شعری مجموعہ ہے۔ اس نے اردو شاعری میں جدیدیت پر ایک نئی بحث کا آغاز کیا تھا۔  ایک پروفیسر صاحب نے لقمہ دیا کہ آپ ظفر اقبال کے ساری شاعری پر کام کیوں نہیں کرلیتے۔ میں نے کہا کہ تیس بتیس مجموعے ہونگے ان کے، ایم فل کے سو ، سوا سو صفحات میں ان سے انصاف نہیں کرسکتا، اس لیے ایک ہی مجموعے کا انتخاب کررہا ہوں۔ فوراً ہیڈ آف دی دیپارٹمنٹ اچھل پڑے۔ کہنے لگے  حد ہوگئی:کون صاحب ہیں یہ؟ تیس بتیس شعری مجموعے ہیں جن کے۔ ارے بھائی! کچھ اور کام نہیں ہے کیا انہیں۔ میں اس معاملے کا کچھ نہیں کرسکتا۔ ظفر اقبال تو خیر ایک دور دیس کا شاعر ہے، ہمارے پروفیسران حضرات سے میراجی یا راشد پر بات کیجیے تو برا مانتے ہیں۔ فیض چونکہ ادب میں وبا کی طرح عام ہوگئے ہیں، اس لیے ان پر وہ مریض بھی بات کرلیتے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ یہ بیماری پھیلتی کن وجوہات سے ہے۔

ابھی حال ہی میں میں نے فیس بک پر ایک پروفیسر کااحوال لکھا جو بچوں کو غالب کے بارےمیں پڑھا رہے تھے، اس واقعے کا میں چشم دید گواہ یوں بن گیا کہ کسی کام سے یونیورسٹی گیا تھا، چنانچہ اسٹاف روم میں بیٹھا ہوا کوئی فارم بھر رہا تھا۔ وہیں ایک صاحب نےغالب پر اپنے طالب علموں سے گفتگو چھیڑ دی۔ ذوق بے حد شریف تھا اور غالب بالکل شریر مسلمان لونڈوں کی طرح کا ایک شخص، جسے فقرہ بازی میں بہت مزہ آتا تھا۔ ان صاحب نے آب حیات میں بیان کیے گئے ایسے واقعات کو، جنہیں تحقیق و تنقید دونوں بری طرح رد کرچکے ہیں، اس زبان میں بیان کیا کہ میں نے خیال کیا کہ اس سے بہتر تو یہ ہوتا کہ ان بچوں کو گلزار کا ڈرامہ’غالب’دکھادیا جاتا۔ کم از کم زبان کی ایسی تباہ حالی اور زناکاری کے ہنر سے واقف ہونے سے تو یہ بچ جاتے۔ معاملہ دراصل یہ ہے کہ جو باتیں پڑھائی یا سکھائی جاتی ہیں وہ اگر انہی کتابوں سے براہ راست پڑھا دی جائیں ، جن کو اساتذہ بنیادی حوالہ بنایا کرتے ہیں تو کم از کم زبان تو نئی نسل تک صحیح طور پر منتقل ہوجائے۔ وررنہ غالب کو ‘لپاڑیا’ اور ذوق کو ‘اصلی شاعر’ جیسے خطابات سے نوازنے والی ایک نئی قوم تیار ہوتے دیر نہیں لگے گی۔

یہ سارے مسئلے آخر پیدا کیسے ہوتے ہیں۔  یہ مسئلے پیدا ہوتے ہیں ، سنی سنائی پر بھروسہ کرنے سے۔ اور جب آپ نے کسی کی بات سنی ہے تو آپ اسی کے الفاظ میں اسے بیان نہیں کرسکیں گے بلکہ منطقی نقطہ نظر سے یہ بات غلط نہیں کہ جب ہماری بات، کسی اور کے منہ سے نکلتی ہے تو وہ ہرگز ہماری نہیں رہ جاتی۔ الفاظ کا انتخاب اور ان کی ترتیب کسی بھی انسان کے علم اور مطالعے کو عیاں کرنے کی سب سے روشن دلیل ہے۔ آپ وہی لکھیں گے، جو آپ نے پڑھا ہے اور آپ وہی بکیں گے جو آپ نے سنا ہے۔ اس لیے کسی چیزکے بارے میں کچھ سننا اور اس سے تحریک پاکر نہ پڑھنا، جہالت کو رواج دینے کے برابر ہے۔ یونیورسٹی کلچر تباہ ہورہا ہے اور اسے تباہ کرنے میں جو چیز سب سے زیادہ متحرک ہے وہ ہے کتاب سے طالب علم کا رشتہ کٹ جانا، پڑھنے والے کا اس سے دور ہوجانا۔ یونیورسٹی والوں کو چاہیے کہ پڑھنے والوں کو راستہ دیں، خاص طور پر شعبہ اردو کے پروفیسران کو اگر اپنی امیج اچھی کرنی ہے تو انہیں سب سے پہلے تنقید کا پٹہ اپنے گلے سے نکالنا ہوگا۔ تنقید کی بھوک اور اس کی خطرناک روش نے پڑھنے، لکھنے والوں کا بڑا نقصان کیا ہے،مشاعرے کی طرح سیمینار کی بدترین  حالت کی ذمہ داری اس تنقیدی مقالہ نگاری پرزیادہ عائد ہوتی ہے جو بے تکے اصول قائم کرکے، فن پاروں اور ادبی شخصیات کے بارے میں ادھر ادھر کی ہانکتے رہنے کو رواج دیتی ہے۔

میں نے اور زمرد مغل نے اس مسئلے پر بہت غور کیا ہے۔ یہ مسئلہ حل کیسے ہو کہ کتاب سے قاری کا براہ راست رشتہ جوڑا جاسکے۔ اس کے لیے زیادہ ضروری ہے کہ ہم تخلیق کو عام کریں، تخلیق کاروں سے طلبا کی براہ راست ملاقات کرائیں، ان کی تصنیفات سے لوگوں کو واقف کرائیں۔ کچھ پرانی کتابیں، کچھ نئی۔ لیکن اہم، جو کسی نہ کسی اعتبار سے الگ ہوں، ایک نیا اور اہم تخلیقی پہلو لیے ہوئے ہوں، ان سے اتفاق و اختلاف کے پہلوئوں کے ساتھ ایک نیا راستہ تیار کیا جائے اور اس راستے کو عام کرنے کی ذمہ داری سب ہی کو دی جائے۔ جب تک کتاب عام نہیں ہوگی، یعنی کہ تخلیقی کتاب۔ وہ کتاب جو سیدھے مصنف کے قلم سے تخلیق ہو کر قاری یا طالب علم تک نہیں پہنچتی تب تک مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔ تب تک سوچنے والے ذہن پیدا نہیں ہوں گے، اس لیے کتاب پڑھوانے کے لیے  محض اتنا کافی نہیں ہے کہ آپ ان کی رسم رونمائی کروادیں، کیونکہ اکثر ایسی محفلوں میں ہم کتاب کا اور کتاب ہمارا منہ دیکھ کے رہ جاتی ہے۔ ہمیں کتاب کھولنی ہے، اس کے اندر موجود متن کو لوگوں سے واقف کرانا ہے، تخلیق کار کے تعارف کے ساتھ ، اس کی تحریر کی خوبیوں اور خامیوں پر پڑھنے والوں کی رائے کو پھیلانا ہے، تاکہ اس پر مزید بات ہوسکے اور ایسی مزید آرا قائم ہوسکیں جن کا تعلق براہ راست مصنف سے ہے، اس کے تحریر کردہ متن سے ہے۔

اردو کو اگر یونیورسٹی میں زندہ کرنا ہے تو اس میں روح پھونکنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ امتحانات میں تنقیدی سوالات کے بجائے تخلیقی سوالات کیے جائیں۔  مثلاً پوچھا جائے کہ آپ مندرجہ ذیل چار موضوعات میں سے کوئی ایک موضوع کا انتخاب کرکے یا تو نظم لکھ دیجیے یا کہانی۔ اس سے ہمیں ہی نہیں، خود طالب علم کو اپنی تخلیقی اہمیت و حیثیت کا اندازہ ہوگا۔ بہرحال اس موضوع پر مزید بات ہوسکتی ہے۔ بہت بات ہوسکتی ہے۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ‘کتاب شناسی’کے عمل کو عام کرنے کی اس کوشش کو کیا ہم ایک جدید ادبی روایت کے طور پر قائم کرسکیں گے۔ دیکھتے ہیں!


Comments

FB Login Required - comments