لالے کو لالوں سے ٹکرائیں گے


adnan Kakar

بہت عرصے کے بعد پاکستان اور بھارت کا کلکتہ میں ٹاکرا ہونے جا رہا ہے۔ ایک طرف لالہ شاہد آفریدی کی ٹیم ہے اور دوسری طرف لالوں کی ٹیم ہے۔ اس اہم موقع پر ہم نے مشہور پنڈت اور گیانی لالہ امرناتھ سے بات چیت کی جو کہ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔

ہم: انتم سنسکار لالہ امرناتھ جی۔
لالہ امرناتھ: شبھ شبھ بولو۔ ہمارا جیتے جی ہی انتم سنسکار کر رہے ہو۔
ہم: معاف کیجیے گا۔ ہم آپ کا دل رکھنے کی کوشش کر رہے تھے اور ہندی بول رہے تھے۔ سلام کیا تھا۔
لالہ امرناتھ: نمسکار بولو جی۔ انتم سنسکار تو مردے کا کیا جاتا ہے۔
ہم: لالہ جی، یہ تو شگون ہی نہیں ہو گیا پھر؟ لالوں کی ٹیم کا کلکتہ میں انتم سنسکار تو نہیں ہونے لگا ہے؟
لالہ امرناتھ: مورکھ ! لالے اجیت ہیں۔ ان کی وجے اوش ہو گی۔
ہم: اچھا لالہ جی، یہ میچ پہلے دھرم شالہ میں ہونے جا رہا تھا۔ لیکن وہاں کے راج منتری نے کہا کہ ہم سیکیورٹی نہیں دیں گے۔
لالہ امرناتھ: تمہارے پٹھانوں نے ہمارے پٹھان کوٹ پر حملہ جو کیا تھا۔ چار دن بھارتی سینا ان چار جنوں کو اپنے اڈے میں ڈھونڈتی رہی۔

ہم: دھرم شالہ کا مطلب کیا ہوتا ہے لالہ جی؟
لالہ امرناتھ: اس کا مطلب ہوئے وہ جگہ جہاں دھرم ہو۔ مہمان اور مسافر ٹھہراتے ہیں وہاں۔
ہم: یعنی پاکستانی ٹیم کے مہمان مسافروں سے اب آپ کے راج منتری ڈرنے لگے ہیں۔ سنا ہے کہ آپ کے فوجی تک ڈر گئے تھے۔ آپ کے منتری جی کو کہنے لگے کہ پٹھان کوٹ کے حملہ آوروں کا تو کچھ نہیں کر سکے، لیکن اب آفریدی پٹھان کرکٹ کھیلنے کو ٹیم لا رہا ہے تو پچ اکھاڑ دیتے ہیں۔
لالہ امرناتھ: ہمارے سینک بلوان ہیں۔ وہ ڈرے نہیں تھے۔ آج کل بسنت بہار کا موسم ہوئے، وہ پیڑ پودے لگانے کو میدان میں جمین کھودنے آئے تھے۔
ہم: لالہ جی اگر پٹھانوں سے آپ کے راج منتری اور فوجی تک ڈر گئے تھے تو آپ کی کرکٹ ٹیم تو بہت ڈری ہوئی ہو گی۔ لالوں کی اتنی ڈری ہوئی ٹیم کیسے جیتے گی؟
لالہ امرناتھ: لالے اوش جیتیں گے۔ ورلڈ کپ میں پاکستان آج تک لالوں سے نہیں جیتا ہے۔
kohli-bat-3ہم: لیکن کلکتہ میں آج تک پاکستان لالوں سے ہارا بھی نہیں ہے۔
لالہ امرناتھ: ہم نے کنڈلی نکال کر حساب جوڑا ہے۔ ورلڈ کپ پاکستان پر بھاری ہے۔ لالے ہی جیتیں گے۔
ہم: لالہ جی، آپ کو پتہ ہے کہ آفریدی کو ٹیم میں اور پریس میں کیا کہا جاتا ہے؟

لالہ امرناتھ: ہمیں کیا معلوم اسے کیا کہتے ہیں۔ جیسا وہ کھیلتا ہے، کچھ اچھا تو نہیں کہتے ہوں گے۔
ہم: اسے لالہ کہتے ہیں۔ لالہ یعنی بھائی۔
لالہ امرناتھ: یہ تو تم اچھا نہیں کروت ہو۔ کھیل تو کھیل ہووے ہے۔ اس میں بھائی لوگوں کو ڈالنے کی بھلا کیا جرورت ہے؟ داؤد ابراہیم نے ہی جان عجاب میں کی ہوئی ہے اور تم یہ نیا بھائی لوگ لے آئے ہو۔
ہم: لالہ جی، بس آپ کے گیارہ لالوں کے جواب میں ہمارا ایک لالہ ہی بہت ہے۔ ساری دنیا میں صفر سکور بناتا ہے، لیکن جب بھارت آتا ہے تو اپنی ساری ایوریج وہیں ٹھیک کر لیتا ہے۔
لالہ امرناتھ: اس مرتبہ ہمارے پاس بھی ویرات کوہلی ہووے۔ اس سے مہان بلوان اور کون سا بلے باز ہے؟
ہم: لالہ جی، کوہلی کے فین تو اب لالہ آفریدی کے فین ہو گئے ہیں۔ ادھر اپنے پاکستان میں بھی اوکاڑہ کے گاؤں چون بٹا دو ایل میں ایک عمر دراز نام کا لڑکا کوہلی کا فین تھا۔ اسے ایک مہینہ پنجاب پولیس نے اندر رکھا تو اب وہ کہتا ہے کہ وہ صرف شاہد آفریدی کا فین ہے۔ کوہلی نے اسے بہت تکلیف دی ہے۔ کلکتہ کے میچ میں کہیں آفریدی بھی آپ کو ویسی ہی تکلیف نہ دے دے اور آپ بھی آفریدی کے فین بن جائیں گے۔ ویسے بھی ٹیم کی سیکیورٹی پر پنجاب پولیس والے آ رہے ہیں۔
kohli-bat-1لالہ امرناتھ: دیکھ بالک، ہم نے شگون نکالا ہے۔ کوہلی کا بلا پاکستان گیند بازوں کے آگے بہت چلے گا۔
ہم: لالہ جی، ہم نے بھی شگون نکالا ہے۔ بھارت کے سب سے مہان بلے باز کوہلی نے اپنا بلا پاکستان کے سب سے مہان گیند باز عامر کو میچ سے پہلے ہی  دے دیا ہے۔ اب وہ میچ میں بھی خود ہی اپنی وکٹ عامر کو دے دے گا۔
لالہ امرناتھ: ہائے ہائے، یہ کیا ابھ شگن کر دیا کوہلی نے۔ یہ بات تو بھارت پر بڑی بھاری پڑ جاوے گی۔

ہم: لالہ جی پھر ایک شعر سنیں

سانولے تن پہ قبا ہے جو ترے بھاری ہے

لالہ کہتا ہے چمن میں کہ یہ گردھاری ہے

kohli-bat-2لالہ امرناتھ: اس کا کیا مطلب ہووے؟
ہم: لالہ جی، گردھاری پہاڑ اٹھانے والے کو ہی کہتے ہیں نہ؟ تو ہمارا لالہ شاہد آفریدی کہتا ہے کہ پاکستانی باؤلروں کے سامنے تو تمہارے بلے بازوں کو اپنی وردی بھی بھاری لگتی ہو گی، تو جب میدان میں کھیلنے آؤ گے تو ان کو اپنا بلا بھی پہاڑ جیسا بھاری لگے گا۔ اسی لیے کوہلی نے میچ سے پہلے ہی اپنا پہاڑ عامر کو دے دیا ہے کہ تم رکھ لو، ہم کون سا گردھاری ہیں۔
لالہ امر ناتھ: ہائے کوہلی نے اپنا بلا ہی دے دیا پاکستانی گیند باج کو۔ اب ہمرے پاس بولنے کو کیا رہ گیا ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 328 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “لالے کو لالوں سے ٹکرائیں گے

  • 20-03-2016 at 3:13 am
    Permalink

    purani balky tarikhi baat yad a gaye k tokery main rival ko gift k bajaye matti bhaiji to wo khush hua k made muqabil ny apni sarzameen khud he hawwaly ker de and he won

Comments are closed.