ادب کا نوبل پرائز حاصل کرنے والے پہلے ایشیائی ادیب


رابندر ناٹھ ٹیگور ( 7 مئی1861تا 7 اگست1941) کی زندگی۔ مختصر تعارف

’’ تم محض کھڑے ہو کر دیکھتے ہوئے دریا کو پار نہیں کر سکتے۔ ‘‘۔ ۔ ۔ ٹیگور
عظیم ادیب فلسفی مصور موسیقار اور تعلیم دان کا یہ جملہ اس بات کا گواہ ہے کہ خود ان کی زندگی مسلسل حرکت اور جہد سے عبارت تھی۔ انہوں نے سماج کی بہتری کے لئے جس قدر کام کیا اسے محض ایک زندگی میں انجام دینا ایک معجزہ لگتا ہے۔ اپنے فن کے ساتھ مستقل وابستگی، سچائی اور لگن ہی تو تھی کہ ٹیگور کی انسانی محبت اور امن دوستی پہ مبنی تخلیقات کا جادو بنگال سے نکل کر دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل گیا ان کے پیغام کی آفاقیت کا اعتراف ادب کا نوبل انعام ہے جو 1913 میں انہیں اپنی شاعری کی کتاب ’’ گیتا انجلی‘‘ پہ دیا گیا۔ لیکن امن کے اس پیامبر نے شاعری کے علاوہ افسانہ نگاری، ناول نگاری، ڈرامہ نگاری، موسیقی، مضامین، خطوط نویسی، مصوری اور تعلیم کے شعبہ میں بھی اپنے ہنر کا لوہا منوایا۔ ان تمام امور کی انجام دہی کا اعلیٰ ترین مقصد سماج کی بہتری اور فکری وسعت تھا۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں حق و انصاف کی آواز کی شنوائی ہو۔ ٹیگور مذہب، جنس، نسل اور طبقہ کی بنیاد پر انسانی تفریق کے مخالف تھے۔ جبھی انہوں نے غریب اور پریشان حال انسانوں اور بے بس و مجبور عورتوں کو اپنی کہانیوں کا کردار بنایا۔ اور جرات مندی سے بورژوائی نظام کی نا انصافیوں کو چیلنج کیا۔ انہوں نے ہندوستان میں مغربی تسلط کے خلاف وطن کی آزادی کے گیت گائے۔ اور محکومیت کو قبول کرنے سے انکار کیا۔

مردانہ بالا دستی کے سماج میں ایک مرد ہوتے ہوئے بھی انہوں نے عورتوں کی فطرت اور جذبات کا جس قدر گہرا نفسیاتی مشاہدہ کیا اور اسے اپنے کرداروں میں سمویا ہے وہ انہیں باکمال ادیب کے درجہ پر فائز کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم ٹیگور کے حالاتِ زندگی اور ان کی کہانیوں کے حوالے سے انیسویں صدی کے ہندوستان میں عورتوں کی سماجی حیثیت اور معاشرتی نا انصافی اور استحصال کے خلاف بیداری کی لہر اور جدوجہد کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔

عمر کے مختلف ادوار میں انہوں نے سو سے زیادہ کہانیاں تخلیق کیں۔ ان میں ہمیں بدلتے ہوئے معاشرے کی تصویر نظر آتی ہے۔ گو انہوں نے بنگالی اور انگریزی زبان میں لکھا مگر آج دنیا کی اہم زبانوں میں ان کی تحریروں کے تراجم پڑھے جا رہے ہیں۔ اور مقبول ہیں۔ ہم نے ان کی کہانیوں کا تجزیہ کرنے کے لئے جس کتاب کا انتخاب کیا اس کا عنوان ہے ’’ اکیس کہانیاں ‘‘۔ اس کتاب کا ترجمہ ابوالحیات بردوانی نے کیا۔ جبکہ ساہتیہ اکادیمی نے اس کتاب کو1965میں شائع کیا۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ کتاب ٹیگور کے افسانے جن کی کل تعداد119ہے ( گو اس تعداد میں اختلاف پایا جاتا ہے )ان میں سے بہترین کہانیوں کا انتخاب ہے۔ یہ وہ کہانیاں ہیں کہ جن کو ادب کے ناقدین نے موتیوں سے متشابہ قرار دیا ہے۔ تاہم ان کہانیوں کا مختصراً تجزیہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ٹیگور کی زندگی، وابستہ ماحول اور عوامل کا کچھ جائزہ بھی لیا جائے کہ جس نے ان کے فکر اور عمل اور تخلیقی بہاؤکی سمت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مختصر سوانح عمری :رابندر ناتھ ٹیگور نے7 مئی1861کو کلکتہ، بنگال ( ہندوستان ) کے ایک خوشحال، روشن خیال، پڑھے لکھے تخلیقی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ وہ اپنے والدین ساردا دیوی اور دیوبندر ناتھ ٹیگور کی چودہویں اولاد تھے۔ ان کے والد مشہور مذہبی ریفارمر، عالم، ادیب اور روحانی شخصیت تھے۔ جنہوں نے برھما سماج تحریک کا ساتھ دیا۔ اور فرسودہ ہندو روایات کو ماننے سے انکار کیا۔ وہ اپنے حلقہ میں بہت عزت کے قابل سمجھے جاتے تھے۔ ان کا گھرانہ فن، ادب اور موسیقی کا مرکز تھا۔ جہاں تعلیم کے دروازے جنس کی تفریق کے بغیر مرد اور عورت پر یکساں کھلے تھے۔ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی اپنے فکری اور تخلیقی اظہار پہ کسی قسم کی پابندی نہ تھی۔ چونکہ تمام اولادیں ہی مختلف فنون میں ماہر تھیں۔ ان کا گھر فن و ادب کا گہوارہ تھا۔ جہاں موسیقی، ڈرامہ، ناچ، شاعری، نثر نگاری کے تخلیقی چشمے پھوٹتے تھے۔ ٹیگور نے سب سے چھوٹی اولاد ہونے کے ناطے کم عمری سے ہی ان فنون سے سیرابی حاصل کی۔

ٹیگور کی طبیعت شروع ہی سے پر تجسس اور آزاد خیال تھی۔ ان کی فکر کے دھاروں کو روایتی انداز و فکر میں ڈھالنا ایک قدرے مشکل امر تھا۔ انہیں سخت کہنہ سال اصولوں اور بند فکررکھنے والے تعلیمی اداروں سے نفرت تھی کہ جہاں ان کی آزاد اڑان والی تخلیقی طبیعت کا دم گھٹتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے چار اسکول بدلے گئے اور بالآخیر گھر میں ہی تعلیم دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

استادوں کے علاوہ خود ٹیگور کے والد اور بھائی انہیں تعلیم دیتے۔ ہر صبح سورج کے نکلنے سے پہلے ہی ان کی تعلیم کا سلسلہ جسمانی ورزش سے شروع ہوتا، پھر تاریخ، جغرافیہ، بنگالی اور سنسکرت کی تعلیم کے بعد دوپہر میں مصوری، انگریزی اور کھیل کھیلنے کا موقعہ ملتا۔ اتوار کو موسیقی کی تعلیم کے علاوہ سائنسی تجربات کیے جاتے۔ ٹیگور کا خاص رجحان دڑامہ کا تھا۔ وہ کالی داس اور شیکسپئیر جیسے ادیبوں کے دڑامے شوق سے پڑھتے تھے۔

ٹیگور کی غیر روایتی تعلیم میں ملکوں کی سیاحت کا بڑا حصہ تھا۔ جو بارہ سال کی عمر میں شروع ہوا جب وہ ان کے والد انہیں اپنے آبائی علاقہ شانتی نکتن ( کلکتہ ) لے گئے۔ جہاں ان کے والد ہی ان کے استاد تھے۔ جو سنسکرت، اسٹرانومی اور بنیادی مذہبی تعلیم دیتے۔ جس کے بعد فطری مناظر کے ننھے متجسس پجاری ٹیگور، پہاڑوں، جنگلوں، میدانوں کی سیر کو نکل جاتے اور فطرت کے مناظر کا مشاہدہ کرتے۔ انہیں اس طرح گھومنے پھرنے پہ والد کی طرف سے کوئی پابندی نہ تھی۔

سترہ برس کی عمر میں ان کے والد نے اٹھارہ ماہ (1878تا 1880)کے لئے ٹیگور کو تعلیم کی غرض سے لندن بھیج دیا تاکہ وہ انڈین سول سروس کا امتحان پاس کر سکیں یا وکیل بن سکیں لیکن وہ بغیر ڈگری لئے ہی وطن لوٹ گئے۔ تاہم وہاں یورپین ادیبوں کو بہت تواتر اور شوق سے پڑھا۔ جنہوں نے ٹیگور کی فطری بالیدگی اور نشونما میں مدد دی۔ گو پہلی نظم ٹیگور نے آٹھ برس کی عمر میں لکھی لیکن1877میں ان کی پہلی نظم چھپی جب کہ پہلی کہانی بھکارن بھی 1877 میں لکھی۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ادبی شروعات انہوں نے قلمی نام بھانو سنگھا سے کیں۔

1882 میں ٹیگور کی بنگالی شاعری پہ مبنی پہلی کتاب ساند یا سنگیت ( شام کے گیت ) شائع ہوئی۔ 1883 میں تقریبا 23 برس میں ٹیگور کی شادی میرینا لینی دیوی سے ہوئی۔ جن سے ٹیگور کی پانچ اولادیں ہوئیں۔ بدقسمتی سے دو اولادیں پورے شباب پہ پہنچتے ہی موت کے ہاتھوں مرجھا گئیں۔

دیکھا جائے تو ٹیگور کی زندگی کے لئے 1890 سے1895کے سال بالخصوص ان کی کہانیوں کے لئے بہت زرخیز ثابت ہوئے۔ یہ وہ دوارانیہ ہے جب وہ کلکتہ کی تیز رفتارشہری زندگی سے دور خاندانی زمینوں کی دیکھ بھال کے لئے دیہاتی علاقے سلاڈاما( جوکہ اب بنگلہ دیش کے علاقہ میں شامل ہے ) میں زمیندار’’ بابو‘‘ بن کر گئے۔ اس سے پہلے کی شاعری اور تخلیقی عمل میں تصورات زیادہ تھے۔ جب کہ پدما نہر کے کنارے بسے دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں میں غربت، پریشانیاں، دکھ سکھ اور ان کے اطراف ماحول میں فطرت کا ٹوٹتاحسن، پدما کی لہروں کا سنگیت، سرمئی بادل، کھیت، گھنے درخت، ہواؤں کا رقص اور فضا میں رچی مٹی کی مہک نے ٹیگور کی کہانیوں کو ایسے رنگ دیے جس میں تضاد تھا۔ قدرت کے حسن کی فیاضی اور سماج کی نا انصافی کی بدصورتی ان رنگوں کو ٹیگور کی دنیا کے بڑے افسانہ نگاروں کے درمیان انفرادیت دی۔ افسانہ نگاری کے اس زرخیز دور میں اس کی 59 مثالی کہانیوں نے جنم لیا۔

سماج کی نا انصافی پہ ٹیگور کے قلم نے صرف لکھا ہی نہیں بلکہ اگلے قدم بھی اٹھائے۔ ان کا عملی قدم تعلیم کی ترویج تھا۔ ان کے مشاہدے نے بتایا کہ غربت کا توڑ اسی وقت ممکن ہے کہ جب سماج کے افراد ایک دوسرے سے قربت اور یگانت کا رشتہ قائم کریں اور تعلیم کے ذریعہ اپنی معیشت کو بہتر کر کے اقتصادی طور پر خود پر انحصارکریں۔ اور صرف اسی طرح سماج میں تبدیلی ممکن ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ٹیگور نے مسلسل اپنے تخیلات کو عملی جامہ پہنایا۔ انہوں نے اپنے علاقے میں دیہاتی بچوں کے لئے اسکول، ہسپتال اور کو اپریٹوز بنوائیں۔ یعنی ایک دوسرے کے تعاون سے ’’اپنی حالت بدلنے کی راہ ‘‘وہ اپنے اس دور کو ’’سرمانازمانہ ‘‘ کہتے ہیں۔ یعنی وہ زمانہ جب بہتری کی کوششیں کی گئیں۔

1901 میں ٹیگور سلاڈاما سے شانتی نکتن ( مغربی بنگال کے علاقہ جو کلکتہ کے شمال میں ہے )منتقل ہوگئے۔ اور اس تجزیاتی اسکول کی بنیاد ڈالی کہ جس کا ذائقہ خود انہوں نے اپنے بچپن میں چکھا تھا۔ قدرتی مناظر کے درمیان خوبصورت فضا میں درختوں کے نیچے طلبہ آزادی کے ساتھ اپنے تخلیقی فن کا اظہار کریں۔ شانتی نکتن کا اسکول روایتی اسکولوں کی ضد تھا۔ جہاں ہر بچہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں، مزاج، صلاحیتوں اور رجحان کے مطابق تعلیم حاصل کرتا۔ اس اسکول سے متصل آشرم، باغ اور لائبریری بھی تھے۔ اس کے اپنے بچے بھی انہی سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے۔ وہ تعلیم کو صرف عقل بڑھانے کا ہی نہیں بلکہ حسنِ لطیف اور تخلیقی صلاحیتوں کی نشونما کا ذریعہ بھی سمجھتے تھے۔

وہ سزاؤں کے خلاف اور مادری زبان میں تعلیم دینے کے حامی تھے۔ اس سکول کو انہوں نے اپنی جائیداد بیچ کر، نوبل پرائیز کی رقم اور کتابوں سے ملنے والی رائلٹی سے چلایا۔ 1961 میں اس ادارے کے ساتھ ویسوا بھارتیا یونیورسٹی کا قیام بھی عمل میں آیا جس کا مقصد دنیا کے انسانوں کے درمیان انسانیت کا عظیم رشتہ قائم کر کے ایک جگہ پر فن کرافٹ موسیقی اور ڈانس کی تربیت حاصل کرنا تھا۔ آج اس یونیورسٹی میں دنیا کے بہت سے ممالک سے لوگ تعلیم کے حصول کے لئے آتے ہیں۔

1919میں ٹیگور نے کنگ جارج کی جانب سے ملا۔ ’’ سر ‘‘ کا خطاب اس وقت احتجاجاًواپس کر دیا جب جلیانوالہ باغ میں برطانوی فوج نے 400 ہندوستانی، آزادی کے متوالوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ انہیں یہ خطاب 1915میں ملا تھا۔ ساٹھ سال کی عمر میں ٹیگور کا ذہن تخلیقی بارش سے سرشار تھا۔ انہوں نے مصوری کو شروع کیا اور برش اور رنگوں کی مدد سے مصوری کے تین ہزار اعلی نمونے پیش کیے۔ جن کی نمائش دنیا کی مشہور آرٹ گیلریوں میں ہوتی ہے۔

عظیم ٹیگور نے اسی سال کی طویل عمر پائی۔ اور اس زندگی کو تحفہ سمجھ کر بہترین تخلیقی زندگی جینے کا حق ادا کیا۔ ایسی زندگی جو اپنی ذات پہ ختم نہیں ہوتی بلکہ پوری انسانیت کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے محبت اور امن کا آفاقی پیغام دیتی ہے۔ بے شک ٹیگور سے زیادہ ادب و انسانیت کا انعام کا حقدار کون ہوسکتا ہے۔ ٹیگور نے 7 اگست1941 کو کلکتہ میں اسی مکان میں انتقال کیا جہاں اس نے پہلی سانس لی تھی۔
٭٭٭

ٹیگور نے زندگی کی جو آخری نظم کہی اس کا جو اردو ترجمہ ڈاکٹر خالد سہیل نے کیا وہ پیشِ خدمت ہے۔
رابندر ناتھ ٹیگور کی آخری نظم۔ ترجمہ:خالد سہیل
میرا جنم دن قریب آ رہا ہے
مجھے اپنے دوست اور ان لمس چاہیے
مجھے اس دنیا کا آخری پیار چاہیے
میں زندگی کا آخری تحفہ
انسانوں کی آخری دعا
بخوشی قبول کر لوں گا
آج میرا تھیلا خالی ہے

میں نے جو کچھ دینا تھا انسانیت کو دے دیا ہے
اس کے بدلے میں اگر
مجھے کچھ محبت‘کچھ معافی مل جائے
تو میں انہیں اپنا زادِ راہ بنا لوں گا
اور اس کشتی پر سوار ہو جاؤں گا
جو عدم کے دریا کو عبور کرتی ہے
اور خاموشی کے جشن میں شریک ہو جاتی ہے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں