تہذیبی ورثے سے انحراف


ranaطنز و مزاح کو کسی معاشرے کے حسن اور تہذیب کا جز لاینفک مانا جاتا ہے بشرطیکہ اس میں کسی کی دل آزاری نہ ہو اور کسی کو تضحیک کا نشانہ نہ بنایا جائے، شائستگی کا دامن نہ چھوٹنے پائے۔ بدقسمتی سے یہ بات ماننی پڑے گی کہ آج کل جو طنز و مزاح کے پروگرام ہمارے ٹیلیویزن پر دیکھائے جا رہے ہیں ان کو دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

ہم اپنے تہذیبی ورثے سے انحراف کے مرتکب ہورہے ہیں۔ طنز و مزاح میں جو بزلہ سنجی، شائستگی اور شیفتگی جو کہ اردو زبان کا خاصہ تھی وہ ہمیں اب کہیں نظر نہیں آتی، ایک تضحیک اور بے شرمی کا عمل ہے جو کہ پوری ڈھٹائی کی ساتھ جاری و ساری ہے۔

لوگوں کا ٹھٹھا اڑانا خاص طور پر کسی کی قومیت کے بارے میں یا ان کے پیشے کے بارے میں بعض لوگوں کے نزدیک تفنّن طبع کا باعث ہوسکتا ہے لیکن میرے خیال میں یہ بہت سوں کی دل آزاری کا موجب بھی بن سکتا ہے. پہلے تو مشق ستم سیاستدان ہی تھے اب ہم کم نظری اور بدتہذیبی کے نئے مدار میں داخل ہورہے ہیں. اب اپنی ریٹنگ بڑھانے کیلیے ہم اپنے ان صاحب طرز فنکاروں اور ان مشاہیر کو بھی بخشنے کیلیے تیار نہیں جن پر اس قوم کو ناز کرنا چاہیے۔

پاکستان کے ایک مشہور ٹیلیویژن پروگرام پر کچھ عرصہ قبل مرزا اسد اللہ خان غالب کا جس طرح مذاق اڑایا گیا انتہائی قابل مزمت اور باعث شرم تھا۔ افسوس صد افسوس اس پروگرام کے میزبان پاکستان کے نامور وکلا میں سے شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ نہ صرف فنون لطیفہ سے اپنی وابستگی کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے ہیں بلکہ ان کا شمار اردو کے تہذیبی ورثے کی حفاظت کرنے والوں میں ہوتا ہے۔ ان کی میزبانی میں غالب کی تضحیک اردو سے محبّت کرنے والوں کی دل آزاری کا باعث تھا۔ حضرت دلاور فگار یاد آگئے

دین آدھا رہ گیا، ایمان آدھا رہ گیا

پھر تعجب کیا جو پاکستان آدھا رہ گیا

ناپ کر دیکھا تو قد میں کچھ درازی آگئی

تول کر دیکھا تو ہر انسان آدھا رہ گیا

آج سے دو روز پہلے اسی پروگرام میں اسی انداز بےحیائی سے مرحوم نصرت فتح علی خان اور ان کے فن گائیکی اور موسیقی کے ہنر کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ نصرت فتح علی خان نہ صرف یہ کہ دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان تھے۔ ایک زمانہ ان کے فن کا معترف اور قدردان تھا اور ہے۔ ان کا گھرانہ پاکستان میں اور دنیا بھر میں فن موسیقی میں ایک خاص مقام رکھتا ہے جو کہ ہمارے ملک کے لیے باعث فخر ہے لیکن ہم تہذیب سے عاری لوگ کوتاہ فہمی کے مارے ہوے زندہ اور مردہ کا فرق بھی نہیں جانتے۔ ہم کو تو صرف اپنے اپنے چینل کی ریٹنگ بہتر کرنی ہے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کے ہمارا معاشرہ تمیز اور تہذیب سے دور ہو رہا ہے.

جب ہم ضابطہ اخلاق کی بات کرتے ہیں تو اس کا اطلاق ان ٹیلی ویژن پروگرام کے میزبانوں پر کیوں نہیں ہوتا، فن میزبانی کا بھی کوئی تو معیار ہونا چاہیے، ان کو سکھایا جاے کہ اپنے اسلاف کی عزت کرنا سیکھیں کیونکہ کوئی قوم بھی اپنے تہذیبی ورثے سے انحراف کرکے تہذیب یافتہ کیسے ہوسکتی ہے.


Comments

FB Login Required - comments

رانا امتیاز احمد خان

رانا امتیاز احمد خاں جاپان کے ایک کاروباری ادارے کے متحدہ عرب امارات میں سربراہ ہیں۔ 1985 سے کاروباری مصروفیات کی وجہ سے جاپان اور کیلے فورنیا میں مقیم رہے ہیں۔ تاہم بحر پیمائی۔ صحرا نوردی اور کوچہ گردی کی ہنگامہ خیز مصروفیات کے باوجود انہوں نے اردو ادب، شاعری اور موسیقی کے ساتھ تعلق برقرار رکھا ہے۔ انہیں معیشت، بین الاقوامی تعلقات اور تازہ ترین حالات پر قلم اٹھانا مرغوب ہے

rana-imtiaz-khan has 21 posts and counting.See all posts by rana-imtiaz-khan