اسلامی نظریاتی کونسل نے آنکھ بچا لی


adnan Kakar

فتو قصائی نئے محلے میں آباد ہوا تو اس کے گھر کے دائیں طرف سماجی کارکن شیخ ہمدرد کا گھر تھا، اور بائیں طرف مولانا مولا بخش کا۔ پہلی شام کو ہی فتو قصائی کے گھر سے اس کے چنگھاڑنے اور اس کی بیوی نصیبن کے رونے پیٹنے کی آوازیں آئیں تو شیخ ہمدرد پریشان ہو کر گھر سے باہر نکل آئے۔ اتنی دیر میں فتو قصائی بھی باہر نکلا تو شیخ ہمدرد نے پوچھا کہ فتو بھائی، گھر میں سب خیر تو ہیں نہ؟ مولانا مولا بخش بھی ان دونوں کو دیکھ کر ان کے پاس آ گئے تھے۔

فتو قصائی: خیر کہاں ہونی ہے۔ میری زنانی کو تو بس اللہ ہی پوچھے۔ اماں بتا رہیں تھیں کہ آج اس نے گھر کی صفائی نہیں کی بلکہ سر پر کپڑا باندھے کمرے میں پڑی رہی اور بہانہ یہ کیا کہ سر میں بہت درد ہے۔ بس ہانڈی روٹی کر کے اس کا تو فرض پورا ہو گیا۔
شیخ ہمدرد: بیماری تو خدا کی طرف سے آتی ہے۔ بھابھی کی طبیعت خراب ہو گئی ہو گی۔
فتو قصائی: اجی سارا مکر فریب ہے۔ صفائی ہاتھوں سے ہوتی ہے، سر سے نہیں۔ اس کی نیت ہوتی تو کر دیتی۔ خیر، آج ڈنڈے سے اس کی مرمت کر دی ہے۔ آئندہ ایسا بہانہ کرنے سے پہلے خوب سوچے گی۔
مولانا مولا بخش: یہ بہت اچھا کیا فتو۔ عورتوں کو مار پیٹ کر ہی سیدھی راہ پر رکھا جا سکتا ہے۔ یہ پسلی سے پیدا ہوئی ہے، اس لیے مزاج کی ٹیڑھی ہوتی ہے۔
شیخ ہمدرد: بھیا بس یہ خیال رکھنا کہ بھابھی کہیں تحفظ نسواں قانون کے تحت تمہیں اندر نہ کروا دیں۔
فتو قصائی: تحفظ نسواں قانون؟ وہ کیا ہوتا ہے؟
شیخ ہمدرد: حکومت نے قانون بنایا ہے کہ کوئی مرد اپنی عورت سے مار پیٹ کرے گا تو عدالتی افسر اس کی تفتیش کرے گا۔ پہلے مصالحت کرانے کی کوشش کرے گا۔ مگر یہ مار پیٹ جاری رہی تو عدالت، تشدد کرنے والے مرد کو گھر سے دور رہنے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔
فتو قصائی: گھر سے دور رہوں گا تو بھوکی مرے گی وہ۔
شیخ ہمدرد: تمہیں عدالت خرچہ دینے پر بھی مجبور کرے گی۔
فتو قصائی: تو وہ کون سا ہر وقت گھر پر پہرہ لگائیں گے۔ چپکے سے گھر واپس آ کر اسے ایسے پیٹوں گا کہ کسی کو چوٹ کا نشان نظر بھی نہیں آئے گا اور درد بھی جلدی نہیں جائے گا۔
شیخ ہمدرد: ہر وقت کا پہرہ ہی ہو گا۔ کڑا پہنا دیں گے جو ہر وقت بتاتا رہے گا کہ کس جگہ ہو۔ حکم کی خلاف ورزی کی تو سیدھے بڑے گھر پہنچ جاؤ گے۔
مولانا مولا بخش: یہ تو قطعی غیر اسلامی قانون ہے۔ بیوی کو مار پیٹ کر راہ پر لانے کی اسلام اجازت دیتا ہے۔
شیخ ہمدرد: رحمت العالمینؐ اپنی امت کو حکم دے گئے ہیں کہ اپنی بیوی کے چہرے پر مت مارو اور برا بھلا مت کہو۔ یہ فرمان ہے کہ ایسے مت مارو کہ اس کے جسم پر نشان پڑیں۔ قرآن حکیم ہمیں حکم دیتا ہے کہ ’اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ ، خواب گاہوں میں ان سے علیحدہ رہو اور مارو ، پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لئے بہانے تلاش نہ کرو‘۔
فتو قصائی: شیخ صاحب، فکر مت کریں۔ اسے چہرے پر نہیں مارا ہے۔ دیکھ بھال کر کمر اور ٹانگوں پر ہی ڈنڈے مارے ہیں۔ کسی کو مار پیٹ کا کوئی نشان نظر نہیں آئے گا۔

Islami-Nazriati-Council-Isb-Pkg-02-03مولانا مولا بخش: دین کو ہم سمجھتے ہیں شیخ صاحب، آپ نہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس قانون کو خلاف اسلام قرار دے دیا ہے۔ ساری مذہبی جماعتیں اس معاملے پر اکٹھے ہو کر جلسے جلوس کرنے کو تیار ہیں۔ بیویاں ایسے قانونی شکایتیں لگانے لگیں تو کسی شریف آدمی کےک گھر میں کاہے کو بسیں گی۔ ایسی اگر اڑی کریں تو طلاق دے کر نکال دینا چاہیے۔ فتو اپنی گھر والی کو جیسے مرضی مارو پیٹو، بس چہرے پر مت مارنا، ہاں غلطی سے لگ جائے تو انسان خطا و نسیان کا پتلا ہے۔ مار پیٹ پر تمہیں کوئی ہاتھ بھی لگا دے تو ہمیں پکڑ لینا۔
شیخ ہمدرد: مولانا اگر طلاق ہی دینی ہو گی تو پھر بہتر ہے کہ مار پیٹ کروائے بغیر ہی طلاق لے لی جائے۔ جو مرد غصے میں اتنا دیوانہ ہو جائے کہ ہاتھ اٹھاتے ہوئے نہ سوچے، وہ زبان ہلاتے ہوئے کہاں سوچے گا؟
مولانا مولا بخش: شیخ صاحب، خدا نے مرد کو عورت پر حاکم بنایا ہے۔ اسی سے گھر بچتا ہے۔ جاؤ فتو، جب تک یہ عورت راہ راست پر نہیں آ جاتی ہے، تم اس سے سلوک کرنے میں آزاد ہو۔
اگلے دن فتو قصائی کے گھر سے دل دہلا دینے والی چیز بلند ہوئی تو شیخ ہمدرد اور مولانا مولا بخش وہاں جا پہنچے۔
شیخ ہمدرد: فتو قصائی، سب خیر تو ہے؟
فتو قصائی: خیر ہی ہے۔ آج وہ پھر مکر کیے پڑی تھی کہ کل جو اسے کمر اور ٹانگوں پر مار لگائی تھی تو اب ان میں بہت درد ہے اور اٹھا بیٹھا نہیں جا رہا ہے۔ میری ماں اور بہنیں سارا دن بھوکی بیٹھی رہیں اور اس کم بخت نے کھانا نہیں پکایا۔ واپس آیا تو ایک زور دار ڈنڈا اس کے بازو پر مارا ہے۔ اب ڈرامہ کر رہی ہے کہ اس کا بازو ٹوٹ گیا ہے۔ لیکن ہے بہت خبیث عورت، کسی ترکیب سے بازو ایسے دگنا موٹا کر لیا ہے جیسے واقعی ٹوٹ گیا ہو۔
شیخ ہمدرد: کہیں ٹوٹ ہی تو نہیں گیا؟ ڈاکٹر کو دکھلا لو تو بہتر ہے۔
مولانا مولا بخش: ڈاکٹر کو دکھلا دیا تو مارنے کا فائدہ کیا؟ وہ ٹیڑھی پسلی راہ راست پر کیسے آئے گی؟ الٹا وہ تو مہارانی بن کر اور سر پر چڑھ جائے گی۔ شاباش فتو قصائی، جب تک وہ عورت راہ راست پر نہ آ جائے، مار پیٹ جاری رکھو۔ گھر ایسے ہی تو نہیں بنتے ہیں، مرد کی مکمل حاکمیت ہو تو پھر ہی معاملات چلتے ہیں۔
شیخ ہمدرد: مولانا، کہیں آپ اس کا گھر برباد کروانے کا باعث ہی نہ بن جائیں۔ سنا ہے کہ آپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ تحفظ نسواں بل زیادتی ہے اور تحفظ مرداں بل بھی بننا چاہیے۔
مولانا مولا بخش: شیخ صاحب، کئی مرد کمزور بھی ہوتے ہیں اور ان کی چار چار شادیاں بھی ہوئی ہوتی ہیں۔ ایک اکیلا مرد پورے غول بیابانی سے کیسے لڑ سکتا ہے۔ تحفظ اسے ملنا چاہیے جس کے مقابل چار چار خونخوار عورتیں ہوں یا اسے جس کے مقابل زیادہ سے زیادہ ایک نحیف سا شوہر ہی ہو؟
شیخ ہمدرد: مولانا یہ ٹھیک ہے کہ آپ خوب نحیف و نزار ہیں اور آپ کی چاروں بیگمات کا تن و توش بھاری ہے، لیکن فتو قصائی تو مسٹنڈا ہے اور ایسا ڈیل ڈول رکھتا ہے کہ گاما پہلوان کو بھی پچھاڑ دے تو حیرت نہیں ہو گی۔ اس سے تو پورا محلہ تحفظ چاہتا ہے، اسے کسی تحفظ کی کیا ضرورت ہے؟
فتو قصائی: خدا کے فضل سے خالص خوراکیں کھاتا ہوں، بیل کو میں تن تنہا اکیلا ہی ڈھا کر ذبح کر دیتا ہوں۔
مولانا مولا بخش: شیخ صاحب کی بات مت سنو فتو۔ یہ تو زن مرید بھی لگتے ہیں اور حکومت کے غلام بھی۔ وہ کیا کہتے ہیں عمران خان والے، یہ تو پٹواری ہیں۔
اگلے دن صبح سویرے ہی فتو قصائی کے گھر سے چیخ و پکار کی آوازیں آئیں اور پھر اچانک خاموشی چھا گئی۔ شیخ ہمدرد اور مولانا مولا بخش دروازے پر پہنچے تو فتو قصائی باہر نکلا۔
شیخ ہمدرد: سب خیر تو ہے نہ؟
فتو قصائی: آج پھر میری گھر والی مکر کر رہی تھی کہ بازو ٹوٹا ہوا ہے، کھانا نہیں پکا سکتی ہوں۔ مجھے مولوی ساب کا حکم یاد تھا کہ چہرے پر نہیں مارنا ہے۔ اس لیے ڈنڈا اس کے پیٹ پر مارنے کو گھمایا تو وہ ایک دم جھک گئی۔ سر پر پڑا اور اب وہ چپ چاپ زمین پر پڑی ہے۔ نبض بھی نہیں چل رہی ہے۔
شیخ ہمدرد: غضب ہوا، وہ تمہاری مار پیٹ سے مر گئی ہے۔ مولانا مولا بخش، اب آپ کیا کہیں گے؟
مولانا مولا بخش: یہ ثابت ہو گیا کہ ہمارا موقف برحق تھا۔ مرحومہ تحفظ نسواں کا پرچہ کروا دیتیں تو فتو نے انہیں طلاق دے دینی تھی۔ گھر ٹوٹ جاتا اور بچے بن ماں کے ہو جاتے۔ شکر ہے کہ گھر بچ گیا ہے۔
شیخ ہمدرد: مولانا، آپ اس بڑھیا کی طرح بات کر رہے ہیں جس نے ایک شخص کے سر میں گولی لگنے سے ہلاک ہونے پر اس کی لاش کا چہرہ دیکھ کر اس کی ماں کو تسلی دی تھی کہ گولی ماتھے پر اوپر لگی ہے، ذرا نیچے لگتی تو بڑا غضب ہو جاتا، شکر کرو کہ لڑکے کی آنکھ بچ گئی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل اور مذہبی جماعتیں بھی گھر والی بچانے سے زیادہ گھر بچانے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 325 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “اسلامی نظریاتی کونسل نے آنکھ بچا لی

  • 19-03-2016 at 11:47 pm
    Permalink

    عدنان خان، کیا اچھا لکھا ہے۔ بچپن، جوانی ایسے نمونے دیکھتے گزر گئی۔ یہ لوگ اخلاقی، علمی اور انسانی سطح پر نہایت اذیت ناک ذہن رکھتے ہیں۔ ان سے کوئی معاملت کیا ہو گی، ان سے ملنے کے بعد مرد ہونے پر شرمندگی ہوتی ہے۔ تاہم خیریت یہ ہوئی کہ آپ جیسے نر ابھی اس معاشرے میں موجود ہیں، ہماری امید قائم ہے۔ ہم مرد اور عورت کی حیثیت میں اپنا بنیادی وقار جیت لیں گے

  • 20-03-2016 at 2:18 am
    Permalink

    اِسلامی نظریاتی کونسل کی مُدت کے خاتمہ پراس کی تجدید تک نہیں کروایٔی گیٔی اوراب یہ ادارہ شطر بےمہار کی طرح چل
    رھا ھے ،تاھم حکُومت ایک جانب اپنے من پسند افراد کو مُختلف عُہدوں پر فایٔز کردیتی ھے تو ساتھ ھیبڑے پیٹ والوں کے
    کھانے پینے کا کا انتظام بھی ھو جاتا ھے اور اس غیر آیٔنی ادارہ سے فتوے بھی تھوک کے حساب سے دستیاب ھوتے ھیں
    شایٔد یہ پاکستان کا واحد ادارہ ھے جہاں ان پڑھ مولوی اٹھارہ تا بیسویں گریڈ پر فایٔز ھے ۔

Comments are closed.