تحفظ خواتین قانون اور مذہبی جماعتوں کی جھنجھلاہٹ


arshad butt  گذشتہ دنوں لاہور میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے ایک اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت، پنجاب میں حالیہ نافذ شدہ تحفظ خواتین قانون واپس لے۔ اس قانون کو واپس نہ لینے کی صورت میں ان جماعتوں نے حکومت کے خلاف 1977 کی طرح کی تحریک چلانے کی دھمکی دی ہے۔  یہ اجلاس لاہور میں جماعت اسلامی کے دفتر میں منعقد ہوا جس میں ملک کی تقریبا تمام چھوٹی بڑی 30 مذیبی سیاسی جماعتوں نے شرکت کی۔ ملک کی کسی سیاسی جماعت نے مذہبی جماعتوں کے تحریک چلانے کے اعلان کی حمایت نہیں کی۔  اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت نے خواتین کے تحفط کے قانون کی مخالفت کی ہے۔ عوام کی نمائیندہ سیاسی جماعتیں اورعوامی تائید سے محروم مذہبی جماعتیں اس قانون کے متعلق متضاد موقف اپنائے ہوئے ہیں۔

یاد رہے 1977 کی تحریک کے نتیجہ میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیا نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں فوجی آمریت قائم کر دی تھی۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا تاریک ترین دور تھا، جس میں نہ صرف ملک کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکادیا گیا بلکہ بیسیوں سیاسی کارکنوں کو بھی کالے مارشل لاء قوانین کی بھینٹ چڑھا کر زندگیوں سے محروم کیا گیا۔ اس کے علاوہ ہزاروں سیاسی کارکنوں کو عقوبت خانوں میں ظالمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پانبد سلاسل کیا گیا جبکہ ہزاروں کو ترک وطن کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ وہ دور تھا جس میں جمہوری سیاسی جماعتوں کو کچلا گیا اور مذہبی جماعتوں نے اس وقت کی اسٹبلشمنٹ کی پشت پناہی سے دن دگنی اور رات چگنی ترقی کی۔

سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتیں حکومت کے خلاف 1977 جیسی تحریک چلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اور کیا اس تحریک کے دوران ان مذہبی سیاسی جماعتوں کو ملک کے عوام کی حمائت حاصل ہو سکے گی۔

ماضی میں چلنے والی سیاسی تحریکوں اور ملک میں منعقدہ عام انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو مذہبی سیاسی جماعتوں کی عوامی مقبولیت کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں۔ جے یو آئی، جماعت اسلامی اور جے یو پی مذہبی سیاسی جماعتوں میں نمایاں نام رہے ہیں جو انتخابات، سیاسی اتحادوں اور تحریکوں کے حوالے سے سرگرم رہی ہیں۔ ان کے علاوہ کئی اور مذہبی سیاسی جماعتیں بھی علیحدہ وجود رکھتی ہیں۔ مگر ان کا سیاسی تحریکوں یا انتخابی سیاست میں کردار زیادہ اہم نیہں رہا۔ علامہ قادری کی جماعت “ پاکستان عوامی تحریک “ کسی فوجی آمر کے خلاف کسی بھی تحریک کا حصہ نہیں رہی۔

فوجی آمروں کے خلاف مذہبی جماعتوں نے نہ کھبی کوئی مذہبی اتحاد بنایا اور نہ ہی شریعت اور اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے تحریک چلانے کی دھمکیاں دیں۔ مذہبی جماعتوں نے مذہبی اتحاد کے بل بوتے پر کسی فوجی آمر کے خلاف تحریک چلانے کی جرات کا مظاہرہ نیہں کیا۔ جماعت اسلامی نے تو جمہوری قوتوں کے خلاف ضیا آمریت کا ساتھ دیا۔ جماعت اسلامی پر یحییٰ آمریت کی حمایت کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کے قیام اور 2002 کے الیکشن میں صوبہ کے پی کے میں اس اتحاد کی کامیابی بھی مشرف اسٹبلشمنٹ کی مرہون منت سمجھی جاتی ہے۔

1970 سے 2013 تک ملک میں جماعتی بنیادوں پر آٹھ بارعام الیکشن ہو چکے ہیں۔ 1970 کے بعد آج تک کے تمام عام انتخابات میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں، عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کو عوام اپنے ووٹوں سے  نوازتے رہے ہیں۔ مسلسل عوامی پذیرائی حاصل کرنے والی ان جماعتوں میں سے کسی بھی سیاسی جماعت نے ملک میں اسلامی انقلاب پرپا کرنے اور شریعت نافذ کرنے کا نعرہ بلند کر کے کامیابی حاصل نہیں کی۔ 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کرپشن اور غیر منصفانہ نظام کے خاتمہ کےنعرے کی مرہون منت تھی۔ جس میں شریعت کے نفاز یا اسلامی انقلاب پرپا کرنے کا کوئی نعرہ شامل نہ تھا۔   1970 سے اب تک جے یو آئی صوبہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے مخصوص علاقوں کے گنے چنے چند اسمبلی اراکین کی کامیابی کے علاوہ اپنا اثرورسوخ بڑھا نے میں کامیاب نیہں ہو سکی ۔ متعد سیاسی اور مذہبی اتحادوں کا سہارا لینے کے باوجود جماعت اسلامی عوام کے دلوں میں جگہ نہ بنا سکی۔ مولانا شا ہ احمد نورانی کے انتقال کے بعد جمیعت ا لعلما پاکستان اپنی سیاسی اہمیت کھو چکی ہے۔ علامہ قادری تین انتخابات میں ناکامی کا زخم لئے انتخابی نظام کے خلاف میدان سجانے پر مجبور ہوئے۔  مذہبی سیاسی جماعتوں کی کامیابی کا نکتہ عروج 2002 کے انتخابات تھے۔ جس میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد “ ایم ایم اے “ نے مشرف اسٹبلشمنٹ کی ملی بھگت سے کے پی کے  میں کامیابی حاصل کرکے صوبائی اقتدرا کے مزے لوٹے۔ یاد رہے کہ مشرف آمریت کے دوران منعقدہ یہ الیکشن بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی جلاوطنی کے زمانہ کی یاد گار ہیں۔

پاکستان کی انتخابی تاریخ سے یہ عیاں ہے کہ ملک میں شریعت کے نفاذ اور اسلامی انقلاب کا نعرہ بلند کرنے والی مذہبی سیاسی جماعتوں کو کسی بھی عام انتخاب میں عوامی ووٹ کی تایئد حاصل نیہں ہو سکی۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کو بلدیاتی یا عام انتخابات کو ملنے والے ووٹوں سے ان جماعتوں کی عوامی مقبولیت، ان کے سیاسی نعروں اور منشور کی عوامی پذیرائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مذہبی سیاسی جماعتیں عوامی مقبولیت کے برعکس ملکی سیاسی منظر نامے پر اپنی سیاسی حثیت سے زیادہ اہمیت حاصل کر چکی ہیں۔ اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا میں بھی یہ جماعتیں اپنی سیاسی مقبولیت سے بڑھ کر حصہ وصول کرتی ہیں۔ یحییٰ، ضیا اور مشرف فوجی ادوار میں قومی سلامتی، افغان اور کشمیر جہاد کے نام پر مذہبی جماعتوں کو ریاستی حمایت اور وسائل سے نوازا گیا۔ افغان جہاد کے دوران  “ ملڑی ملا امریکہ الائینس“ کی حقیقت سے کون آگاہ نہیں۔ اسی عرصہ میں مذہبی جماعتیں بین الااقوامی قوتوں کے مالی وسائل سے بھی مستفیض ہوتی رہیں، جس کا سلسلہ ابھی تک بند نہیں ہوا ہے۔

فوجی آمروں کی پشت پناہی، جہاد، شرعی قوانین اور اسلامی نظام نافذ کرنے کے نعروں کے باوجود مذہبی سیاسی جماعتیں پاکستان کے عوام کے دلوں میں گھر کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس وقت مذہبی جماعتوں کے پاس حکومتوں پر دباؤ ڈالنے اور دھمکانے کا سب سے بڑا ہتھیار ان کے زیر انتظام چلنے والے مدرسے ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ان مدرسوں میں ہزاروں نیہں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں نوجوان دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مدرسوں کے نوجوانوں کو کسی ممکنہ تحریک کے نتیجہ میں جلسوں اور مظاہروں کا ایندھن بنانا ان جماعتوں کے دائرہ اختیار میں ہے۔

مگر اہم سوال یہ ہے کہ کیا مذہبی جماعتیں مدرسوں کی طاقت کو ریاست کے ساتھ ٹکراؤ کے لئے استعمال کرنے کا حوصلہ پیدا کر لیں گی۔  کیا ان جماعتوں کے کرتا دھرتا ریاست سے مڈبھیڑ کے نتیجہ میں اپنے بے پناہ ملکی اور غیر ملکی مالی وسائل کو خطرے میں ڈالنے پر تیار ہو جائیں گے۔ شاید یہ ممکن نہ ہو۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ مذہبی سیاسی جماعتیں اسٹبلشمنٹ کے اشارے کے بغیر کسی تحریک کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہوتیں۔ اپنے طور پر تحریک چلانا تو دور کی بات ہے، چاہے وہ شرعی قوانین یا اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبہ کی تحریک ہی کیوں نہ ہو۔

آج کی اسٹبلشمنٹ کے سیاسی اشارے ماضی کی اسٹبلشمنٹوں سے مختلف نظر آتے ہیں۔ دہشت گردی اور مذہبی شدت پسندی نے ملکی حالات جس نہج پر پہنچا دئے ہیں۔ اس نے آج کی اسٹبلشمنٹ کو ماضی کے برعکس اور مختلف فیصلے کرنے پر مجبور کردیاہے۔

آج کے حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ مذہبی جماعتوں کی “ قانون برائے تحفظ خواتین“ کے خلاف ممکنہ تحریک چلانے کی دھمکی کسی بڑی عوامی تحریک کی شکل اختیار کرتی نظر نہیں آتی۔ چند ڈرائنگ روم اجلاسوں، جلسوں اور مظاہروں کے بعد یہ مذہبی جماعتوں کے مستقل مطالبوں میں ایک اور مطالبے کا اضافہ بن کر رہ جائے گا۔


Comments

FB Login Required - comments