قصہ ہیر رانجھا۔۔ بعد از نکاح


zeffer05ماضی میں کچھ اس قسم کی افواہیں پھیلا دی گئی تھیں، کہ ہیر اور رانجھا نامی دو پیار کرنے والوں کو ایک نہ ہونے دیا گیا۔ یوں دونوں پریمی موت کے گھاٹ اتر گئے۔ یہ سب جھوٹی باتیں تھیں۔ کچھ این جی اوز نے اپنی کمائی کے لیے، زرا سی بات لے کر فسانے بنا دیئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہیر اور رانجھا کی شادی ہو گئی تھی، مگر کاروکاری سے بچنے کے لیے وہ گوشہ گم نامی میں چلے گئے۔ اب جب کہ کیدو کے انتقال کی خبر آئی، تو ان دونوں نے ‘ہم سب’ سے رابطہ کیا کہ وہ خصوصی انٹرویو دینا چاہتے ہیں، تا کہ دو پیار کرنے والے ان کے تجربات سے استفادہ کریں۔ جب ‘ہم سب’ وہاں‌ پہنچے تو محترم رانجھا گھر میں اکیلے تھے، ہم نے آنسہ ہیر کے آنے تک، رانجھا صاحب سے گفت گو کا آغاز کر دیا۔

ہم سب: سب سے پہلے رانجھا جی سے التماس ہے، کہ وہ اس سے آگے کا کچھ احوال کہیں، جو داستانوں میں نہیں ملتا۔

رانجھا: (اطمینان کی ایک سرد آہ بھرتے) آہ ہ ہ ہ۔۔۔ بس جی، فیر کیا ہونا تھا۔۔ ہماری شادی ہو گئی۔

ہم سب: شادی ہو گئی۔۔ پھر؟

رانجھا: فیر؟۔۔ فیر وہی۔۔ جو ہر شادی کے بعد ہوتا ہے۔۔۔ بس وہی ہوا۔

ہم سب:  نہیں، آپ سمجھے نہیں۔۔ سوال پوچھنے کا مقصد تھا، کہ آپ کی پسند کی شادی ہے۔۔ آپ نے زمانے سے بغاوت کی، رسم و رواج کو توڑا، تو کیا حاصل ہوا؟

رانجھا: (زرا سوچتے ہوے) پہلے بڑا بیٹا حاصل ہوا۔۔ پھر ایک ایک کر کے چار بیٹیاں حاصل ہوئیں۔

ہم سب: ما شا اللہ۔۔ ما شا اللہ۔۔ رانجھا جی، آپ کا سلسلہ روزگار کیا ہے؟

رانجھا: آرٹسٹ ہوں، جی۔۔ بانسری بجاتا ہوں۔

ہم سب: اس سے آپ کا گھر چلتا ہے؟

رانجھا: کہاں جی۔۔ (تاسف سے) عاشق کی فیر کوئی قدر ہے، آرٹسٹ کی اس ملک میں کوئی قدر نہیں۔۔ بانسری سے بھلا گھر کا خرچ کیسے چلے۔

ہم سب: تو فیر؟۔۔ یعنی پھر؟

رانجھا: شادی سے پہلے ہیر نے نرسنگ کا کورس کیا ہوا تھا، اسپتال جاتی ہے۔ اسی کی تن خواہ سے گھر چلتا ہے۔

ہم سب: میاں بیوی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔۔ یہ ایک دوسرے کے ساتھ چلیں، تو ہی گاڑی چلتی ہے۔۔ اچھا رانجھا جی، یہ کہیے آپ کے بچے کہاں ہیں، دکھائی نہیں دے رہے؟

رانجھا: وہ اسکول گئے ہیں، جی۔۔ بڑا پتر نویں کا امتحان دے رہا ہے۔۔ بورڈ کے پیپر ہیں۔۔ اس سے نِکی آٹھویں میں ہے۔۔ سب سے چھوٹی پریپ میں ہے۔

ہم سب: آپ اپنے بچوں کو بھی آرٹسٹ بنائیں گے؟۔۔ بچوں میں سے کسی کو شوق ہے، کہ وہ بھی بانسری بجاے؟

رانجھا: نہ جی نہ۔۔ یہ بھی کوئی کام ہے!۔۔ بانسری کے دھن عاشقی تک اثر رکھتی ہے۔۔ شادی کے بعد یہ بے سری ہو جاتی ہے۔ تال سے تال نہیں ملتی۔

ہم سب: اوہ!۔۔ تو آپ زمانے کی بے ثباتی پر افسردہ ہیں؟۔۔۔ ایسے میں ایک آپ کی زوجہ محترمہ آپ کا حوصلہ بنتی ہوں گی۔۔ ہے ناں؟

رانجھا: جھوٹ نہیں بولوں گا، سچ کہوں گا۔۔۔ اس کے کام نے مجھے بچوں کے دانا پانی سے بے فکر کر دیا۔۔ لیکن کیا ہے، کہ۔۔ بڑا دکھ ہوتا ہے، جو اب وہ بچوں کے بستر میں جا سوتی ہے۔۔۔ ہیر میری نہیں رہی، میرے بچوں کی ہوگئی ہے۔

ہم سب: وہ کیوں؟۔۔ کچھ کھل کر کہیے۔۔ کیا کہنا چاہتے ہیں، آپ؟

رانجھا: دیکھ بھائی۔۔ ہیر اور ہمارے گھرانے کے رہن سہن میں زمین آسمان کا فرق تھا۔۔۔ میری بھابھیاں گھر گرہستی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں۔ پکا پکایا ملتا تھا، اور دھلا دھلایا پہنتا تھا۔ بانسری بجاتا، اور بھائیوں سے ناز اٹھواتا تھا۔ ادھر ہیر تھی، جسے گھر کے کام کی تربیت ہی نہیں دی گئی۔ ایک فن کار اور ایک بے سلیقہ عورت کی کبھی نبھ نہیں سکتی۔۔ لکھ لے میری بات۔۔۔ زرا روک ٹوک کی تو بستر ہی الگ کر لیا۔

ہم سب: لیکن آپ ہی نے کہا وہ اسپتال میں ملازمت کرتی ہیں، تو ایسے میں گھر سنبھالنا آپ ہی کا فرض بنتا تھا۔۔ نہیں؟

ابھی مکالمہ یہیں تک پہنچا تھا، کہ محترمہ ہیر تشریف لے آئیں۔ آتے ہی فرمانے لگیں۔

ہیر: ہو رہی ہیں، نا۔ میرے پیچھے میری برائیاں؟۔۔ ککھ نہیں کرتا جی یہ۔۔ آپ ہی اسے کچھ سمجھائیں۔۔ جب دیکھو، یہی کہتا ہے، میں آرٹسٹ ہوں۔۔ میں فن کار ہوں۔۔ دن رات کی شفٹیں کر کر کے میرا لک دہرا ہو گیا ہے، لیکن اس کو مت نہیں آئی۔۔۔ بھائی صاحب، جاتے ہوے زرا اسے سمجھا جاو، کہ جم کر کوئی کام کرے۔

رانجھا: (زیرِ لب) آہ ہ ہ ہ۔۔۔ بانسری سے کسی ہیر کا دل تو پگھلایا جا سکتا ہے، بیوی کے ناز نہیں اٹھاے جا سکتے۔

ہیر: (کرختی سے) میں باز آئی، تمھاری عاشقی سے۔۔ اور تمھارے ناز اٹھانے سے۔۔ اللہ بخشے چاچا کیدو نے پہلے ہی دیکھ لیا تھا، کہ اس کی دھی رانی خوار ہونے جا رہی ہے۔۔ ہاے ہاے۔۔ میں خوام خواہ اسے اپنا دشمن سمجھتی رہی۔

یہ کہتے ہیر صاحبہ دپٹے میں منہ دیئے یا منہ میں دپٹا لیے سسکنے لگیں۔

ہم سب: تو کیا آپ کو رانجھا صاحب سے شادی کرنے پہ پچھتاوا ہے؟

ہیر: (اپنے آنسو پونچھتے) پچھتاوا تو نہیں ہے، لیکن یہ کوئی کام تو کرے۔۔ یہ نوکری کر لے تو آج بھی میں جی جان سے اس پہ قربان ہو جاوں۔

رانجھا: (محترمہ ہیر سے) تو یوں کہوں نا، تمھیں مجھ سے نہیں میری نوکری سے پیار ہے!

ہم سب: رانجھا جی۔۔ لگتا ہے، آپ بہت دکھی ہیں، ان سے شادی کر کے؟

رانجھاٌ: بالکل بھی نہیں۔۔ میں ہیر پہ جی جان سے مرتا ہوں۔۔ دیکھیں جی۔۔ اگر ہیر کی نوکری نہ ہوتی، تو میں کبھی چین کی بانسری نہ بجا سکتا۔ ہے، میری فن کاری گئی تھی، بھاڑ میں۔۔ میں آرٹسٹ کے طور پر اتنی عمر گزار گیا، تو یہ ہیر کا احسان ہے۔ نہ یہ نوکری کرتی، نہ میں فن کار بن کر جیتا۔

ہم سب: لیکن جناب، آپ کی شناخت ایک فن کار کی تو نہیں۔۔ ایک عاشق کی ہے۔

رانجھا: جو بھی ہے، جی۔۔ ہیر کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے، کہ عاشق ہو، یا آرٹسٹ۔۔ گھر اس کی بیوی ہی کو چلانا ہوتا ہے۔

نتیجہ: ضروری نہیں، ہر تحریر سے کوئی مفہوم اخذ کیا جاے۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 85 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

4 thoughts on “قصہ ہیر رانجھا۔۔ بعد از نکاح

  • 20-03-2016 at 10:25 am
    Permalink

    A real satire.

  • 20-03-2016 at 9:26 pm
    Permalink

    Agree with Mujahid Mirza sahib 🙂

  • 21-03-2016 at 2:10 am
    Permalink

    واہ،،، واہ ،،،، آپ تو میدان ظرافت کے شناور نکلے ،،، بھائی اس شعبے میں بہت توڑا پڑا ہے،،، ذرا اسی پہ نظر کرم فرمائیں اور اس میدان میں اپنے اسپ مزاح کو خوب کھل کے دوڑائیں ،،، بہت لطف ملا اس تحریر سے،،،

  • 22-03-2016 at 2:56 pm
    Permalink

    Thank you friends

Comments are closed.