حسن نے سائیکل چلانا کیسے سیکھی؟


محسن شہباز

mohsinحسن ہمیشہ کی طرح بجلی کی رفتار سے گھر میں داخل ہوا،بجلی سلام نہیں کیا کرتی۔ اسکے تو بس آجانے سے ہی جان میں جان،خوشی اور لبوں پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔ ابا حسب معمول ٹیلیویژن کے سامنے براجمان خبریں سن رہے تھے اور اماں ان سے ریموٹ لے کر ڈرامہ دیکھنے کا انتظار کر رہی تھیں۔ حسن نے گھر میں داخل ہوتے ہی ابا سے سوال کیا جسے سنتے ہی باقی سب تو مسکرا دیے لیکن میں کہیں پیچھے چلا گیا بہت پیچھے۔

حسن: پاپا آپ نے مجھے سائیکل کیسے چلانی سکھائی تھی؟

پاپا: ہاہاہا۔۔۔ تمہارے دماغ میں آج یہ سوال کہاں سے آ گیا؟

حسن: وہ مجھے اپنے ایک دوست کو سائیکل چلانی سکھانی ہے۔

پاپا: بیٹا تم نہیں سکھا پائو گے اسے یہاں میرے پاس لے آنا سکھا دوں گا۔

بات ہوئی اور ختم بھی ہوگئی۔ رہ گئی تو یاد میرے دماغ میں چلتی ایک فلمی سی یاد۔

حسن  تم بہت چھوٹے سے تھےاوربہت پیارے سے بھی جب پاپا ایک اتنی ہی چھوٹی اور پیاری سائیکل لے آئے تھے۔ پہلے پہل تو تم اسے چلانے سے ڈرتے تھے۔ لیکن پھر ایک دن تم اس پر جا بیٹھے اور اپنے پائوں نیچے لگا لگا کر اسے چلانے لگے۔ پھر جب تمہاری دلچسپی بڑھ گئی تو پاپا نے تمہیں سکھانے کا فیصلہ کیا۔

پا پا دن بھر کام کرکے شام کو گھر آتے،اور آرام کرنے کے بجائے تمہیں اور تمہاری سائیکل کو ساتھ لیکر سڑک پر نکل جاتے۔ شاید تمہیں ہنستا کھیلتا دیکھ کر انکی دن بھر کی تھکن اتر جاتی ہوگی۔ وہ تمہیں سائیکل پر بٹھاتے اور سائیکل کو دھکا لگانا شروع کردیتے تم مزے سے سائیکل پر پائوں رکھ کر بیٹھ جاتے اور سائیکل دوڑتی جاتی۔ پھر ایک دن انہوں نے سائیکل کو دھکا دے کر اسے چھوڑنا شروع کردیا اور تمہیں پیڈل چلانے کو کہا۔ اب وہ تمہاری سائیکل کو دھکا دے کر چھوڑدیتے تم پیڈل چلاتے اور وہ تمہاری سائیکل کے پیچھے پیچھے بھاگتے کہیں تم گر نا جائو،تم شروعات میں پیڈل بہت آہستہ چلاتے تھے جسکی وجہ سے سائیکل لڑکھڑانے لگتی اور تم گرنے لگتے لیکن چونکہ پاپا پیچھے بھاگ رہے ہوتے تو وہ جھٹ سے تمہیں تھام لیتے۔ یہ سلسلہ یونہی جاری رہا،پھر ایک دن تمہارا خوف نکل گیا اور تم سمجھ گئے کہ اگر سائیکل تیز چلائو گے تو تم نہیں گروگے اور اگر گر بھی گئے تو پھر سنبھل جائو گے۔ بس وہی دن تھا جب تم سائیکل چلانی سیکھ گئے تھے۔ بس وہی دن تھا جب تمہارے دل سے گرنے کا خوف نکل گیا تھا جبکہ پاپا کے دل میں تمہارے گرنے کا خوف جگہ لے چکا تھا کیونکہ اب وہ تمہارے پیچھے نہیں بھاگتے تھے۔ تم تو بہت بہادر ہو لیکن تمہارے گرنے یا چوٹ کھا لینے کا خوف آج بھی بابا کی آنکھوں میں ویسے ہی دکھائی دیتا ہے۔

بولو حسن بجلی، سکھا سکتے ہو اپنے دوست کو سائیکل چلانا؟


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “حسن نے سائیکل چلانا کیسے سیکھی؟

  • 21-03-2016 at 1:55 am
    Permalink

    Bahut khubsurat

  • 22-03-2016 at 12:03 pm
    Permalink

    ہر کوئی ایسے ہی سیکھتا ہے سائیکل چلانا. کہیں کوئی بابا ہوتے ہیں ساتھ دینے والے کہیں کوئی بڑا بھائی یا دوست۔ پھر سب اپنے آپ پر بھروسا کرنے لگ جاتے ہیں۔ اور ذندگی کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اور پھر “بجلی” بن جاتے ہیں۔
    خوبصورت یاد اور انداز بھی۔

Comments are closed.