ہماری شعلہ بیانیاں


 yasirکسی مجلس میں ایک معتبر شخص درس دے رہا تھا، سامنے اس کے معتقدین دو زانو بیٹھے بڑے غور سے اس کی باتیں سن رہے تھے، ایک موقع پر اس شخص نے کوئی تاریخی واقعہ سنانے کی کوشش کی جو اسے یاد نہیں آ رہا تھا، بالآخر بڑی کوشش کے بعد اس کے منہ سے فقط یہ جملے ادا ہوئے ’’یاد نہیں ہے کہ کون سا زمانہ تھا، اللہ جانے کون بزرگ تھے، پتہ نہیں انہوں نے کیا کہا مگر جو بھی کہا اسے سن کر ہر شخص رو پڑا!‘‘ یہ سننا تھا کہ اس مجلس میں موجود تمام لوگ زارو قطار رونے لگ گئے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ قانون برائے تحفظ نسواں کے ضمن میں بھی ہو رہا ہے۔ یاد نہیں آ رہا کہ اس قانون کی کون سی شق ہے اور پتہ نہیں کس اسلامی حکم کے منافی ہے مگر بہرحال یہ قانون غیراسلامی ہے سو اسے فی الفور واپس لیا جائے۔ یہ ہے خلاصہ ان جماعتوں کے موقف کا جو مذہبی بنیادوں پر اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔


کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس قانون کی مخالف ہر جماعت کا لیڈر عورتوں پر جگتیں کرنے کی بجائے کسی ایسے ٹھوس کام کا بیڑہ اٹھاتا جس سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں کوئی بہتری آ جاتی۔ مثلاً ایک روز ہمیں پتہ چلتا کہ کبیر والا وہ جگہ ہے جہاں آپ کو خالص دودھ مل سکتا ہے اور اس کارنامے کا سہرا فلاں مذہبی جماعت کے سر ہے کیونکہ اس جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں نے دن رات ایک کرکے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ کبیر والا میں خالص دودھ دستیاب ہو۔ اسی طرح کسی دن ہم اخبار میں خبر پڑھتے کہ پاکستان کے شہر مردان میں ایک مذہبی جماعت کے کارکنوں نے اپنی کاوشوں سے اس امر کو یقینی بنا لیا ہے کہ اب یہاں جنوبی ایشیا میں سب سے کم قیمت اور اصلی ادویات دستیاب ہیں، اس کارنامے کی باز گشت دنیا میں بھی سنی جاتی، ریڈرز ڈائجسٹ اس پر ایک فیچر شائع کرتا، پاکستان کا مثبت چہرہ عالمی سطح پر ابھرتا، کسی پاکستانی یونیورسٹی کی طالبہ اس پر ایک ڈاکیومنٹری بناتی اور دنیا کو بتاتی کہ کس طرح ایک چھوٹے سے گروہ نے ایسا کام کر دکھایا جو پورے خطے میں کسی سے نہ ہو سکا۔ ایسے ہی ایک دن ٹی وی پر ہماری نظریں اس چینل پر رک جاتیں جہاں یہ خبر نشر ہو رہی ہوتی کہ کوئٹہ پاکستان کا وہ واحد شہر ہے جہاں کوئی گدا گر نہیں، شہر سے تمام پیشہ ور بھکاریوں کا صفایا کر دیا گیا ہے جبکہ نادار افراد کے لئے ایک مرکز بنا دیا گیا ہے جہاں نہ صرف ان کی رہائش اور کھانے پینے کا باعزت انتظام ہے بلکہ انہیں ہنرمند بنانے کے لئے تربیت بھی دی جا رہی، اب کوئٹہ میں کوئی بچہ ،بوڑھا، معذور ،عورت یا مرد سڑکوں پر بھیک مانگتا نظر نہیں آتا، کسی کی جرات نہیں کہ چار سال کے بچے کو ٹھٹھرتی سردی میں نیکر پہنا کر گاڑیوں کے آگے ننھے منھے ہاتھ پھیلانے کے لئے چھوڑ دے، یہ نیک کام کوئٹہ کے ایک مدرسے کے چند طالب علموں نے کیا ہے جس کی گونج پورے پاکستا ن میں سنائی دے رہی ہے۔ 


خواتین کے حق میں قانون سازی کی مخالفت سے لے کر طالبان کی ترجمانی تک اور غیرت کے نام پر قتل کا دفاع کرنے سے لے کر ملالہ یوسفزئی تک، جس طرح یہ لوگ کیل کانٹوں سے لیس ہو کر اپنے مخالفین پر پل پڑتے ہیں، اس جذبے کا عشر عشیر بھی ان کے ہاں معاشرے کی تعمیر و ترقی میں نظر نہیں آتا۔ لے دے کے سیلانی انٹر نیشنل ویلفیئر ٹرسٹ اور اس جیسے چند ادارے ہیں جنہوں نے معاشرے میں فلاح کام اپنے ذمے لے رکھا ہے، سیلانی ویلفیئر کے مولانا بشیر فاروق قادری تو حیرت انگیز آدمی ہیں، سادہ اس قدر کہ ایک موٹر سائیکل پر سوار ہو کر آتے ہیں، جمعہ پڑھاتے اور کسی عام آدمی کی طرح انسانوں کے سمندر میں گم ہو جاتے ہیں۔ ملک بھر میں روزانہ ڈیڑھ لاکھ افراد کو کھانا کھلانے سے لے کر ساٹھ ہزار خاندانوں کی ماہانہ کفالت کرنے تک، سیلانی ویلفیئر ایسے جناتی کام کر رہا کہ باقی مذہبی تنظیموں اور ملکی او ر غیر ملکی این جی اوز کو اس سے سبق سیکھنا چاہئے۔ سیلانی والے تعلیم اور آئی ٹی کے میدان میں بھی ایک خاموش انقلاب برپا کر رہے ہیں اور نوجوانوں کو نہ صرف کمپیوٹر کورسز کروا رہے ہیں بلکہ انہیں موبائل ایپس بنانے کی تربیت بھی دے رہے ہیں، ان کاہدف اگلے پانچ برسوں میں ایسے پچیس ہزار نوجوانوں کو ہنر مند بنانا ہے۔ کراچی میں یہ ٹرسٹ تین سو گھر تعمیر کرکے ان لوگوں کو مفت دے چکا ہے جن کے پاس اپنی چھت نہیں تھی، شرط یہ ہے کہ وہ یہ گھر بیچ نہیں سکتے۔ تھر میں کنوئیں کھدوانے ہوں یا مستحق اور قابل بچو ں کو تعلیم جاری رکھنے کے لئے وظیفے دینے ہوں، سیلانی ویلفیئر ہر ایسے موقع پر پیش پیش ہوتا ہے۔ اگر اکیلی تنظیم یہ تمام کام انجام دے سکتی ہے تو کیا وہ تیس جماعتیں جنہوں نے تحفظ نسواں قانون کے خلاف محاذ قائم کیا ہے، معاشرے میں مثبت تبدیلی نہیں لا سکتیں؟ مگر حال یہ ہے کہ اس وقت ایک تحصیل ایسی نہیں پاکستان میں جہاں ان میں سے کسی جماعت نے مزدوروں کے حقوق کا تحفط یقینی بنایا ہو، ایک شہر ایسا نہیں جہاں نیکو کاروں کے کسی گروہ نے معذور افراد کے لئے سہولتیں میسر کر دی ہوں، ایک قصبہ ایسا نہیں جہاں ان لوگوں کی کاشو ں کے نتیجے میں اسکول جانے والی بچیوں کی شرح سو فیصد ہو گئی ہو۔ ان کی خطابت کا تمام زور اور شعلہ بیانی کی تان عورت پر آکر ٹوٹتی ہے، نہ جانے عورت ان کے حواس پر اس بری طرح کیوں سوار ہے۔ اس ملک کے پہلے تین بڑے مسئلوں میں سے ایک بڑھتی ہوئی آبادی ہے، مجال ہے کسی منبر سے آپ نے اس بارے میں کوئی ہدایت نامہ سنا ہو، بنگلہ دیش نے ہم سے جدا ہونے کے بعد امام مسجدوں اور منبر و محراب کی مدد سے اس جن پر قابو پایا اور آج اس کی آبادی ہم سے کم ہے جو1970 سے پہلے مغربی پاکستان سے زیادہ تھی، کیا بنگلہ دیش میں مسلمان نہیں بستے، کیا آبادی پر قابو پانے کے بعد وہ مسلمان نہیں رہے؟ تحفظ خواتین قانون کی مخالفت کرنے کی بجائے ہمارے مذہبی رہنما اس جوش و خروش سے یہ نیک کام کیوں نہیں سر انجام دیتے؟ کیا اس سے بڑی قوم کی کوئی خدمت ہو سکتی ہے؟ لیکن مذہبی رہنماؤں کو ہی دوش کیوں دیں جبکہ ہمارا زندگی گزارنے کا نظریہ ہے کہ تمام کام حکومت نے کرنے ہیں اور ہم نے صرف بچے پیدا کرنے ہیں! یہ درست ہے کہ مختلف مذہبی تنظیموں اور جماعتوں کے ٹرسٹ قائم ہیں اور وہ فلاحی کام بھی سر انجام دے رہی ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ معاشرے میں کسی سطح پر ان کے کام کا اثر نظر نہیں آتا کیونکہ ان کو ملنے والے زیادہ تر عطیات مدرسوں میں خرچ ہوجاتے ہیں جبکہ عوام کی حقیقی فلاح کے لئے خالی خولی نعرے ہی بچتے ہیں۔ مزدوروں اور رکشہ یونین والوں سے اظہار یکجہتی تو کیا جاتا ہے مگر اس اظہار میں وہ شدت نظر نہیں آتی جس شدت کے ساتھ فحاشی یا خواتین کے حق میں بننے والے قانون کی مخالفت کی جاتی ہے ۔


اگر ہم ایک لمحے کے لئے فرض بھی کرلیں کہ تحفظ نسواں قانون کی کوئی شق غیر ضرور ی ہے تو جس قسم کا احتجاج اس کے خلاف کیا جا رہا ہے، کیا ان احتجاج کرنے والوں نے ایسا جوش و جذبہ کبھی ہماری فوج کے جوانوں کے قاتلوں اور بے گناہ شہریوں کے چیتھڑے اڑانے والوں کے خلاف بھی کیا تھا؟ اس وقت تو ان کی زبانیں اپنے پیٹی بند بھائیوں کی وکالت کرتے نہیں تھکتی تھیں، اس وقت ان کا غیظ و غضب کہا ں گم ہو گیا تھا، اس وقت ان کی شعلہ بیانیوں کو زنگ کیوں لگ گیا تھا؟ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں!


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “ہماری شعلہ بیانیاں

  • 20-03-2016 at 7:05 pm
    Permalink

    ہمیشہ کی طرح بہت عمدہ جناب یاسر صاحب

  • 21-03-2016 at 8:58 pm
    Permalink

    یاسر پیرزادہ صاحب، آپ نے جن کی شعلہ بیانیوں کا ذکر کرتے ہوئے اِن بیان بازوں کو جو آئینہ دکھایا ہے اس میں یہ اپنا عکس اگر دیکھ پائیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں رہتا۔ اس کالم پر مبارکباد قبول کیجیے اور آئیندہ بھی لکھتے رہیئے ۔

Comments are closed.