بلوچستان کی نصابی کتابوں میں تعصب اور امتیاز (حصہ دوم)


abid mir

میٹرک کی کتاب میں حقائق کی چند غلطیاں:

1۔ خیبر پختونخوا کی ریاستیں تحریک پاکستان کے دور سے ہی پاکستان کی حامی تھیں ۔ (ص،66 ۔۔۔۔۔۔’تاریخ کاقتل عام!‘)

2۔(1995ء کی) جنگ میں بھارت کی شکست کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ اس کے 110طیارے تباہ ہوئے جب کہ پاکستان کے صرف 14طیارے تباہ ہوئے۔ (ص،82۔ اس کی تصدیق کہیں سے نہیں ہوتی۔)

3۔اس وقت پاکستان میں غربت کی شرح 25%ہے۔ (ص، 140)
جب کہ در حقیقت 2013ء میں صرف غربت کی لکیر سے نیچے افراد کی شرح 22% تھی۔ (ذریعہ، عالمی مالیاتی بینک سروے)
4۔2009ء کے ایک سروے کے مطابق مجموعی طور پر ملک میں خواندگی کی شرح 54فی صد ہو چکی ہے۔ (ص،168)
یونیسکو کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ناخواندگی کی شرح 72%ہے۔ 2013ء کے اعدادوشمار کے مطابق شرح خواندگی کے حوالے سے دنیا کے 221ممالک میں پاکستان کا نمبر 180ہے۔
5۔ منیر احمد بادینی، حکیم بلوچ، ڈاکٹر نعمت گچکی، عبداللہ جان جمالدینی اور شاہ محمد مری کو بلوچی کے ’مشہور شعرا‘ کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے (ص،157) حالانکہ ان سب کا تعلق نثر سے ہے۔
6۔ پاکستان کی دیگر زبانوں میں ’مکرانی‘ کو بھی اہم زبان قرار دیا گیا ہے(ص،158) حالانکہ مکرانی ، بلوچی زبان کا ایک لہجہ ہے نہ کہ الگ سے کوئی زبان۔
7۔پرویز مشرف کی معاشی اصلاحات کے ضمن میں بتایا گیا ہے،’’آئی ایم ایف کے قرضوں سے نجات حاصل کرنا ان کی حکومت کا اہم کارنامہ تھا۔‘‘ (ص،91)
آسان زبان میں اسے ’سفید جھوٹ‘ کہتے ہیں۔
انٹر کی کتاب میں حقائق کی غلطیاں:
1۔ باب پنجم، ’پاکستان کا کلچر‘ میں لکھا ہے؛’’سرزمین پاکستان کو یہ فخر حاصل ہے کہ یہاں قدیم ترین انسانی تہذیب نے جنم لیا، اسے وادی سندھ کی تہذیب کہا جاتا ہے۔ یہ مصر اور عراق کی تہذیبوں کی ہم عصر تھی، اور آج سے چار پانچ ہزار سال پہلے اپنے عروج پرتھی۔ دنیا کے دوسرے حصوں میں بسنے والوں کے مقابلے میں یہ لوگ بہت زیادہ ترقی یافتہ اور مہذب تھے۔ ‘‘ (ص، 97)
حالانکہ جدید تحقیق کے مطابق بلوچستان میں واقعہ مہرگڑھ کی تہذیب کو دنیا کی قدیم ترین تہذیب قرار دیا گیا ہے۔ یہ وادی سندھ کی تہذیب کی نسبت گیارہ ہزار سال قدیم ہے۔ لیکن کتاب میں اس کو کوئی تذکرہ نہیں۔
2۔براہوی زبان بولنے والوں سے متعلق لکھا ہے؛’’ساراوان، جھالاوان، کیچ اور مکران کے علاقوں میں ان کی آبادی گنجان ہے۔‘‘ (128)
جب کہ براہوی بولنے والے قبائل کی اکثریت ساروان اور جھالاوان کے علاوہ کچھی اور بولان میں بستی ہے۔ کیچ اور مکران میں ان کی آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہی نہیں یہ کتابیں بیان کی غلطیوں (Mistakes in Statements) سے بھی بھری ہوئی ہیں۔ جو نہ صرف ان کے مصنفین، بلکہ بورڈ انتظامیہ اور پبلشرز کی اہلیت پر بھی سوالیہ نشان کا باعث ہے۔پہلے میٹرک کی کتاب میں موجود ایسی چند اغلاط کی نشان دہی:
1۔ تین جون 1947ء کا منصوبہ: (نمبر6)چونکہ اس زمانے میں بلوچستان کو صوبے کا درجہ حاصل نہیں تھا، لہٰذا تجویز یہ تھی کہ اس کے بھارت یا پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کوئٹہ میونسپل کمیٹی اور شاہی جرگہ کے عمائدین مل کر کریں گے۔
(نمبر6)برصغیر میں سیکڑوں ایسی ریاستیں تھیں جن کو خارجی تعلقات کی آزادی تو نہ تھی مگر اندرونی انتظام میں خود مختار تھیں۔ایسی ریاستوں کو اجازت دی گئی کہ وہ اپنی آبادی کے رحجان اور جغرافیائی قربت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ کر لیں۔ (ص،22)
حالانکہ بلوچستان دوسری قسم کی ریاستوں میں شامل تھا اور یہ پاکستان کے قیام کے سات ماہ بعد مارچ 1948ء میں پاکستان کا حصہ بنا۔
2۔ ایوب خان سے لے کر ضیاالحق تک تمام فوجی حکمرانوں کی کارکردگی تو گنوائی گئی ہے لیکن ان کے حکومت میں آنے کو کہیں بھی غیرجمہوری قرار نہیں دیا گیا۔ سیاسی حکومتوں کی بعض ناکامیاں یا خامیاں بھی بتائی گئی ہیں لیکن فوجی حکمرانوں کی صرف کامیابیاں بتائی گئی ہیں۔
3۔’سقوطِ مشرقی پاکستان‘ کے اسباب میں مشرقی پاکستان میں ہندو اساتذہ کا کردار، معاشی بدحالی، نوکرشاہی کا رویہ، سیاسی بصیرت کا فقدان اور بھارت کی مداخلت شامل ہیں، عسکری ناکامی کا تذکرہ کہیں نہیں کیا گیا۔
4۔ ضیاالحق دورِ حکومت کے بیان میں ’نفاذِ اسلام کے لیے اقدامات‘ کے عنوان سے پورا ایک صفحہ ان کی شان میں صرف کیا گیا ہے۔ اسلام کا چہرہ مسخ کرنے والے اس آمر کے بنیادپرستانہ اقدامات کو بھرپور طور پر سراہا گیا ہے۔ (ص،83)
5۔ جہادِ افغانستان اور اس کے اثرات‘ کو بھی مثبت طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں پاکستان کے کردار کو بالخصوص سراہا گیا ہے۔ (ص،86)
6۔ پرویز مشرف کی جانب سے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں میں اضافہ، انتخابی اہلیت کے لیے بی اے کی لازمی شرط، اور غیر مسلموں کے لیے جداگانہ انتخاب کے خاتمے جیسے اقدامات کو مشکوک بناتے ہوئے لکھا گیا ہے۔۔۔’’اگرچہ ملک کے اندر اس قانون پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تاہم امریکہ اور دیگر غیر مسلم قوتیں مشرف کے اس اقدام سے بہت خوش ہوئیں۔‘‘(ص،90)
7۔ ’’غربت کے نتائج اور تدارک‘‘ کے ضمن میں مقتدر قوتوں کا مؤقف دہراتے ہوئے لکھا ہے ؛’’تمام انتظامی اکائیاں اپنے اپنے طور پر غربت کا رونا رہی ہیں۔ اس صورت حال سے ہمارے بیرونی دشمن خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ہمارے اپنے ہی عوام ہیں کہ دشمن ممالک کے کارندوں کے ہاتھوں گمراہ ہو کر یا کچھ معاوضے کے لالچ میں آکر اپنے ملک کی سلامتی کے خلاف کام کر جاتے ہیں۔‘‘ (ص،161)
ایسی ہی کچھ اغلاط انٹر کی کتاب میں بھی موجود ہیں:
1۔ پاکستان میں صحیح اسلامی معاشرہ قائم کر کے مسلمان جدید دنیا کے سامنے ایک مثال قائم کرنا چاہتے تھے کہ دوسری اقوام اس سے متاثر ہو کر اس کی تقلید کر سکیں۔ ان کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پاکستان کو عالم اسلام کا قلعہ اور مرکز بنا دیا جائے اور یہ مرکز مسلم ممالک کے مسائل حل کرنے میں مدد دے۔ (ص،8)
’صحیح اسلامی معاشرہ‘ کی وضاحت کہیں نہیں کی گئی، نہ ہی پوری اسلامی دنیا اس پہ متفق ہے۔ نیز دیگر مسلم ممالک کے مسائل حل کرنے کی بجائے پاکستان کو اپنے مسائل کرنے پہ توجہ دینا چاہیے۔
2۔ قیام پاکستان کے وقت فیصلہ کیا گیا تھا کہ بلوچستان کا شاہی جرگہ طے کرے گا کہ آیا یہ صوبہ،پاکستان میں شامل ہو گا یا بھارت میں۔ اس موقع پر کانگریس نے سازشوں کا جال بچھایا لیکن اس کی ایک نہ چلی۔ (ص،10)
قیام پاکستان کے وقت بلوچستان کی حیثیت آزاد ریاست کی تھی، شاہی جرگہ اس معاملے کا اختیار ہی نہ رکھتا تھا۔ یہ فیصلہ ریاست قلات کے دارلعوام اور دارالعمرا پہ مشتمل ایوان نے کرنا تھا۔
3۔ یہ کتاب 2011میں شائع ہوئی ہے، لیکن اس میں ایک جگہ لکھا گیا ہے،’’ موجودہ حکومت نے ڈویژنل نظام ختم کر کے مقامی حکومت کے حوالے سے ضلعی نظام متعارف کروایا ہے۔ (ص،96)
گویا یہ پرویز مشرف کے زمانے کی بات ہو رہی ہے۔ جب کہ کے پی کے کو بعض جگہ صوبہ سرحد اور بعض جگہوں پہ خیبر پختونخوا لکھا گیا ہے۔ صوبے کو یہ نام پیپلز پارٹی کی حکومت میں ملا۔
اس سے مدیران کی متن سے سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “بلوچستان کی نصابی کتابوں میں تعصب اور امتیاز (حصہ دوم)

  • 30-04-2016 at 2:08 pm
    Permalink

    ” قیام پاکستان کے وقت فیصلہ کیا گیا تھا کہ بلوچستان کا شاہی جرگہ طے کرے گا کہ آیا یہ صوبہ،پاکستان میں شامل ہو گا یا بھارت میں۔ اس موقع پر کانگریس نے سازشوں کا جال بچھایا لیکن اس کی ایک نہ چلی۔ (ص،10)
    قیام پاکستان کے وقت بلوچستان کی حیثیت آزاد ریاست کی تھی، شاہی جرگہ اس معاملے کا اختیار ہی نہ رکھتا تھا۔ یہ فیصلہ ریاست قلات کے دارلعوام اور دارالعمرا پہ مشتمل ایوان نے کرنا تھا۔”

    قیام پاکستان کے وقت بلوچستان کا موجودہ صوبہ مختلف حصوں میں منقسم تھا۔ پہلا حصہ برٹش بلوچستان یا کمشنری صوبہ کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس میں موجودہ بلوچستان کی مکمل پشتون پٹی، چاغی، کوئٹہ اور ڈیرہ جات کے علاقہ شامل تھے اسی علاقہ کی پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ شاہی جرگہ اور کوئٹہ میونسپل کمیٹی کے ارکان نے کیا تھا کیونکہ برٹش بلوچستان میں ایک صوبہ کی اصلاحات نا‌فذ نہیں کی گئی تھیں اس لیے یہاں کوئی نمائندہ اسمبلی نہیں تھی۔

    باقی بلوچستان چار بڑی ریاستوں قلات، لسبیلہ، مکران اور خاران میں منقسم تھا۔ ان ریاستوں کے الحاق کا فیصلہ وہاں کے حکمرانوں نے کیا جیسے کہ ہندوستان کی دوسری شاہی ریاستوں نے کیا۔

Comments are closed.