خواتین کے حقوق اورانتظار حسین کی کہانی والے بندر


اسرار شاکر

\"Asrar\"

یوں توخواتین کے عالمی دن اور انتظار حسین کی کہانی والے بندروں میں بظاہر کوئی ربط نظر نہیں آتا،لیکن عورت زاد پر ستم ڈھانے والوں کی ظالمانہ حرکتیں دیکھ کر اتنی سمجھ آجاتی ہے کہ آدمی بننے کی آرزو رکھتے اُن بندروں نے آخر انسان بننے کا ارادہ کیوں ترک کیا تھا؟

یہ تو طے ہے کہ دنیا کا کوئی بھی مہذب معاشرہ خواہ وہ مذہبی ہو یا لبرل،بحیثیت انسان، مرد اور عورت کو برابری کا درجہ دیتا ہے۔ بہ طور انسان عورت اور مرد کے درمیان کسی بھی قسم کا امتیاز اب زیادہ دیر روا نہیں رکھا جاسکتا، کہ عورت کو مساوی حقوق دیے بغیر ترقی اور کامیابی کا راستہ دشوار ہی نہیں بلکہ نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔ جدید دنیا اس معاملے میں اپنی ترجیحات واضح کر چکی ہے۔ ہمارے ہاں مگر اب بھی یہ ہو رہا ہے کہ ہم اس اہم اور سنجیدہ معاملے میں عملی اقدامات اُٹھانے کی بجائے، باتوں کے شیر دکھائی دیتے ہیں۔ اس معاملے میں، ہماری حکومت ہو یا مذہبی علما اور لبرل طبقہ،سب نے کوئی قابلِ عمل حل تلاش کرنے کے بجائے، اپنی پسند کی توجیح ڈھونڈ کر معاملہ مزید الجھا دیا ہے۔ یوں مرد اور عورت کے درمیان پایا جانے والا، باہمی احترام اورانسانی مساوات کا حامل رشتہ بے ہودہ تنازعے کی بھونڈی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایسے میں پیارے عابد میر نے اپنے کالم کے ذریعے، حقوقِ نسواں کی جدو جہد کے پیشِ نظر، خواتین کے عالمی دن کے موقع پر،سموراج نامی تنظیم کی داغ بیل ڈالے جانے کی خوش خبری سنائی ہے۔ اس وقت، جب ہماراسماج عورت کو برابر کا انسان ماننے کے لیے تیار نہیں، امید ہو چلی ہے کہ سموراج ایسی تنظیمیں ان مسائل کے گرداب سے نکلنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

عابد میر نے اس تنظیم میں شرکت کے حوالے سے جہاں بوڑھوں کے والہانہ انداز اور نوجوانوں کی نوخیزیوں کا ذکر کیا ہے،وہیں اس تنظیم کی باگ ڈور سنبھالنے والی خواتین کے عزم اور جذبے کا احوال بھی بیان کیا ہے،جو کہ بلوچ باسیوں کے لیے باعثِ فخر اور لائقِ تحسین ہے۔ لیکن یہاں میں یہ بات کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ، سموکاراج قائم کرنے اور مرد کو عورت کا بیلی بنائے جانے والی بات کھٹکتی ہے۔ جب بات مرد اور عورت کی برابری کی ہو رہی ہے،تو کس کا راج، کیسا بیلی پن اور کس کی غلامی۔ ۔ ۔ اُدھر پنجاب حکومت نے، حقوقِ نسواں بل میں عورت پر تشدد کرنے والے مرد کے خلاف کوئی ٹھوس اور سنجیدہ قانون بنانے کے بجائے،غیر ضروری طور پر مرد کو گھر سے نکالنے یا اس کی کلائی میں کڑا (جو غلامی کی نشانی ہوتا ہے) پہنانے جیسی مضحکہ خیز باتیں شامل کرکے، خوامخواہ بنیاد پرست ملاؤں کو واویلا مچانے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔

بہر حال، اس تمام تر بحث سے قطع نظر، مجھے چوں کہ مظلوم عورت کی کتھا اور انتظار حسین کی کہانی والے بندروں کی جانب لوٹنا ہے۔ سو قصہ یوں ہے کہ آج جب ہم خواتین کا عالمی دن منا کر، اورحقوقِ نسواں بل کو کثرت رائے شماری سے منظور کروا کر یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ شاید اب یومِ تکبیر کے بعد، ایٹمی پاکستان کی طرح، عورت کا تحفظ بھی نا قابلِ تسخیر بن چکا ہے۔ فی الحال ایسا ہوتا ہو ا نظر نہیں آتا۔ اس سب کے باوجود، آخر ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ، عملی اقدامات کے سوا کاغذ پر لکھا ہوا کوئی بھی قانون کسی کام کا نہیں ہوتا۔ شرمین عبید چنائے کے ساتھ فوٹو سیشن کرکے سستی شہرت تو حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن اُس کے ایوارڈ دکھا کر لوگوں کو عدم تشدد کا فلسفہ نہیں سکھایا جا سکتا کہ دیکھو جی، شرمین عبید نے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف فلم بھی بنا دی ہے، اب پلیز۔ ۔ ۔ مزید ہماری بدنامی کا باعث نہ بنیں،خدارا،حوا کی بیٹی پر ستم ڈھانے سے باز آجائیں۔ تو جناب۔۔۔! ایسا خوابوں میں ہی ہو سکتا ہے۔

ذرا خواتین کے عالمی دن کے اگلے روز والے اخبارات اُٹھا کر دیکھ لیجیے، آپ کی خوش فہمی دور ہو جائے گی۔ فیصل آباد سے خبر ہے کہ ’’ شوہر نے بیوی کو جوئے میں ہار دیا۔ ‘‘لو جی۔ ۔ ۔ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کا مقام رکھتی عورت بھی بیچنے اور جوئے میں ہارنے والی چیز ہوتی ہے۔ دوسری خبر ہے کہ ’’کراچی کے اوباش نوجوان نے شادی سے انکار پر دوشیزہ پر تیزاب پھینک دیا۔ ‘‘ ’’اُدھر غیرت کے نام پر بھائی نے اپنی بہن کو کزن کے ساتھ کاری قرار دے کرقتل کر دیا۔ ‘‘’’شوہر کے مظالم سے تنگ آئی، حیدر آباد کی ناری نے اربابِ اختیار سے انصاف کی فراہمی کی اپیل کر دی۔ ‘‘یہ تمام خبریں اسی دن کی ہیں، جب ہمارے ہاں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا تھا۔ ابھی ذہن اِن خبروں کے زیرِ اثرتھا ہی کہ ذرائع ابلاغ کی زینت بننے والی ایک اور خبر، میرے قلب و ذہن کو چھلنی کر گئی۔ خبریہ تھی کہ شوہرنے خاتون کی ناک اورسر کے بال کاٹ کر اسے تشدد کا نشانہ بنا دیا۔

ان تمام واقعات کے بعد،اب ذرا سنیے تو، انتظار حسین کی کہانی والے بندر کتنے با شعور تھے۔ انسانی ترقی دیکھ کر جب انہوں نے انسان بننے کی ٹھانی،تب انہیں یاد آیا کہ قدیم دور میں انسان کو بھی ہماری طرح دم ہوا کرتی تھی۔ مگر جب انسان نے ترقی کی، تو اس نے اپنی دم کا ٹ کر پرے پھینک دی۔ لہٰذا ہم بھی اُسترے سے اپنی دم کاٹ کر انسانی روپ دھار سکتے ہیں۔ ان میں مگر ایک بوڑھا بندر بڑا سیانا تھا۔ اس نے کہا، یارو سنو تو،قدیم دور میں جب انسان تمھاری طرح ہوتا تھا،تو پر امن تھا۔ آج جب اس نے اپنی دم کاٹ کر ترقی کی ہے،تو ایک دوسرے کے گلے کاٹنے لگا ہے۔ اب تمھاری مرضی، انسان بنو یا بندر رہنا پسند کرو۔ بوڑھے بندر کی بات سن کر تمام بندروں کا ماتھا ٹھنکا،اور انہوں نے اپنی دم کاٹ کر انسان بننے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔ کیوں کہ وہ بندر جو تھے، ان کی عقل ٹھکانے آ چکی تھی۔ مگر حضرت انسان کے بارے کچھ کہنا مناسب نہیں، کہ وہ اس قبیح فعل کے باوجود بھی تن کے چلتا ہے۔

ذرا سوچو تو۔ ۔ ۔ ایسا سماج، جہاں بیٹی کی پیدائش پر باپ کو اس کے دوست سات جوتے مار کر نحوست دور کرنے کی بات کریں،جہاں کارو کاری کا الزام لگنے پر باپ اپنے بیٹے کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دے، وہی الزام اگر بیٹی پر لگے تو تمام تر پدری شفقت کے باوجود، خود اس کا گلا گھونٹنے کے لیے تیار ہو جائے، ایسے دو نمبر سماج میں عورت کو اگر تحفظ مل جائے،اسے مرد کے برابر کا انسان تسلیم کر لیا جائے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ لیکن ایسا تو تبھی ممکن ہے، جب لوگوں کو حقوقِ نسواں کے حوالے سے، ہر طرح کی نمود و نمائش سے بالا تر ہو کر، مثبت انداز میں آگہی فراہم کی جائے۔ حکومت بھی تحفظِ حقوقِ نسواں کے لیے، ایسے قوانین وضع کرے جو لوگوں کی اکثریت کے نزدیک قابلِ قبول اور قابلِ عمل ہوں،تا کہ کسی بھی تنازعے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اس کے بعد اگر کوئی بلا جواز تنازِع کھڑا کرنے کی کوشش کرے، تو اسے سختی سے دبا دینا چاہیے، کہ اب اس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔


Comments

FB Login Required - comments