نواز شریف: کمزور یا مدبر؟


irshad mehmoodپرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی حکومت کا ایک احسن قدم ہے۔ سیاسی بیان بازی میں حکومت کو مات دینا اور اسے شرمندہ کرنا اپنی جگہ لیکن یہ ایک ایسے فیصلہ ہے جس کے دور رس مثبت اثرات قومی سیاست پر مرتب ہوں گے۔ سابق حکمرانوں کو پھانسی چڑھانا یا جیل میں ڈالنا کوئی پسندیدہ قدم نہیں۔ ایسے اقدامات سے ملک میں انتشار پیدا ہوتاہے اور اداروں کے مابین تصادم بھی جنم لینا ہے۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کے اثرات ابھی تک ملکی سیاست کو متاثر کررہے ہیں
کوئی پسند کرے یا نہ کرے لیکن فوج اس ملک کی ایک زندہ حقیقت ہے انہوں نے جنرل یحیٰ خان کو سات توپوں کی سلامی دے کر دفن کیا اور ان کے جنازے میں جنرل ضیا الحق نے شرکت کی جو اس وقت آرمی چیف اور صدر پاکستان تھے۔ نوازشریف نے ایک حقیقت پسند سیاست دان کے طور پر مفاہمت کی پالیسی اختیار کرکے ایک کمزور حکمران کا نہیں بلکہ ایک مدبر سیاستدان کا پیغام دیا ہے۔ اس رائے پر بہت سے دوست کیبدہ خاطر ہو کر قانون کی بالادستی کا حوالہ دیتے ہیں۔ عرض ہے کہ پاکستان کو سویلین اور عسکری اداروں کے مابین ہم آہنگی درکا ر ہے تاکہ یہ ملک اپنے قد کے مطابق کھڑا ہو سکے اور عالم میں عزت وقار پاسکے جو کہ اس کا حق ہے۔

بے پناہ قدرتی اور انسانی وسائل اور پرعزم قوم ہونے کے باوصف پاکستان محض اس لیے ترقی نہیں کرپایا کہ اس کے ادارے ایک دوسرے کو مضبوط کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ناکام کرنے کے لیے سرگرم رہے ہیں۔ ایسا لگتاہے کہ وزیراعظم نواز شریف اس راز کو پاگئے اور انہوں نے اس کا علاج بھی دریافت کرلیا۔

نوازشریف اور راحیل شریف اکھٹے سفر یا اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں تو بہت سے دوستوں کا دل جلتا ہے۔ انہیں جمہوریت خطرے میں نظر آتی ہے۔

میری ناقص رائے میں وزیراعظم نوازشریف کا یہ طرز عمل سیاسی ارتقاکے سفر کو مہمیز دے رہا ہے۔ اس طرح پالیسی سازی کے عمل میں سویلین شراکت داری بھی ممکن ہو جاتی ہے۔ بصورت دیگر سویلین اپنا راگ الاپتے ہیں اور عسکری ادارے اپنی پالیسی پر گامزن رہتے ہیں اور انہیں کسی کی پرواہ بھی نہیں ہوتی۔

سویلین بالادستی کا خواب پورا ہوگا لیکن بتدریج، رفتہ رفتہ۔ اس کے لیے صبر اور تحمل درکار ہے۔ تصادم کے بجائے اشتراک عمل کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک جیتی ہی نہیں جا سکتی جب تک کہ سویلین اور عسکری ادارے ایک پیج پر نہ ہوں۔ جنرل کیانی اپنے دور میں سیاسی حمایت کی تقاضے کرتے رہے لیکن وہ انہیں نہ مل سکی جس کی وجہ سے وہ فوجی آپریشن کا دائرہ ایک حد سے زیادہ پھیلانہ سکے۔ وزیراعظم نوازشریف نے ماضی کے مقابلے میں اس مرتبہ بہتر حکمت عملی کا مظاہرہ کیا اور عسکری قیادت کو ذمہ داری میں حصہ دار بنا دیا۔ اب ملک میں جو بھی بھلا یا برا ہوتا ہے۔ عسکری ادارے اس میں شراکت دار ہیں۔ چنانچہ اب کامیابی اور ناکامی سانجھی ہے۔

یہ وقت ہے کہ سویلین دارے اپنی استعداد کار میں اضافہ کریں۔ سروس ڈیلیوری بہتر کریں اور بالخصوص کراسیس میں سرگرم کردار ادا کرنے کے قابل ہوں تاکہ ہر افتاد پر فوج کو پکارنا نہ کرنا پڑے۔ پولیس اور سویلین خفیہ اداروں کو مضبوط اور موثر کیا جائے تاکہ عسکری ادارے پس منظر میں جاسکیں۔

سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری نظام کو مضبوط کیا جائے۔ پارٹی الیکشن کرائے جائیں۔ وزیراعظم اپنی جماعت کو سیاسی انداز میں منظم کریں ناکہ ایک ذاتی لمیٹیڈ کمپنی کے طور پر۔ دیگر جماعتیں بھی پارٹی کے اندر اصلاحات کریں۔ یہ ایک لمبا سفر ہے جو طے کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

مشرف ہو یا کوئی اور سیاسی راہنما انہیں سولی پر لٹکانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ بھارت نے مقبول بٹ کو پھانسی چڑھایا اور یہ سمجھا کہ کشمیری ڈر جائیں گے۔ محض چند برس بعد کشمیر کے ہر کونے کھدرے سے ایک ایک مقبول بٹ نکل آیا۔ بھٹو کو پھانسی دی گئی تو یہ پارٹی آج36  برس بعد بھی پاکستان میں حکمران ہے۔ قانون کی بالادستی محض لوگوں کو سزا دینے سے نہیں حاصل ہوتی۔

رسول کریم نے فتح مکہ کے بعد بدترین مخالفین کو نہ صرف معاف کیا بلکہ عزت و احترام سے بھی نوازا۔ عصر حاصر میں نیلسن منڈیلا نے نہ صرف مخالفین کے خلاف قانون کو بے حس و حرکت رکھا بلکہ انہیں حکومت اور پارٹی میں شامل کرلیا۔ بعض اوقات سیاست میں کچھ اس طرح کے فیصلے کرنے پڑجاتے ہیں: دوستوں کو قریب رکھو اور دشمنوں کو زیادہ قریب رکھو


Comments

FB Login Required - comments

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ershad.mahmud@gmail.com

irshad-mehmood has 25 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood