مشرف کی بیرون ملک روانگی اور جمہوریت پسند


\"junaid

سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف موجودہ حکومت اور عدلیہ سے ریلیف ملنے کے بعد کراچی سے دبئی پہنچ گئے ہیں۔ پرویز مشرف جو طبعیت کی ناسازی کا بہانہ اور سرٹیفیکیٹ پیش کرکے عدالت میں پیش نہیں ہورہےتھے۔ اب ہشاش بشاش اپنی جماعت کے اجلاسوں کی صدارت کرتے نظر آرہے ہیں۔ آرمی کے1999 میں سربراہ جنرل پرویز مشرف جس نے اُس وقت کی ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور اس کی جگہ غیر جمہوری فوجی حکومت قائم کی پہلے اپنے لیے چیف ایگزیکٹیو کا عہدہ متعارف کروایا اور پھر وردی کی طاقت سے ملک کے جبراً صدر بن گئے۔ اپنے غیر جمہوری اقدامات سے شہریوں کے بنیادی و جمہوری حقوق سلب کیے، عدلیہ اور میڈیا پرقدغن لگائی، ججوں کو گھروں میں نظر بند کیا، آج وہ آمر پھر ایک کمزور سیاسی جمہوریت کی وجہ سے ایک آزاد شہری کی حیثیت سے بیرون ملک سکونیت اختیار کرچکا ہے، یہ ہے حکومت اور عدالت کا انصاف؟

پیپلز پارٹی جس کو یہ شکایت اور گلہ ہے کہ اسے عدالت سے کبھی انصاف نہیں ملا، اس کے چئیرمین بلاول بھٹو نے پرویز مشرف کیخلاف جرائم کی جو فہرست پیش کی ہے اس کے مطابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے خلاف متعدد کیسز عدالتوں میں موجود ہیں، وہ شہید بینظیر بھٹو کے قتل کیس میں بھی نامزد ہیں جس میں وہ عدالت کے بار بار طلب کیے جانے کے باوجود آج تک عدالت میں پیش نہیں ہوئے ،مشرف پر غداری کیس بھی عدالت میں ہے جس پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے جبکہ یہ کہا جارہا ہے کہ یہ کیس بھی اپنے آخری مراحل میں ہے اور اس کیس میں بھی وہ عدالت میں پیش ہونے سے گریز کرتے رہے ہیں، یاد رہے کہ عدالت نے انہیں 31 مارچ کو اس کیس میں طلب کیا ہے اگر مشرف کو اس طرح ملک سے فرار ہونے دیا گیا تو اہم کیسز ادھورے رہ جائیں گے اور قانون کے تقاضے بھی ادھورے رہ جائیں گے ، اپنے بیان میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس سے قبل نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں بھی پرویز مشرف کو بغیر کسی پوچھ گچھ اور عدالت میں پیش ہوئے بغیر ہی بری کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو عدالتوں سے کبھی انصاف نہیں ملا، یہاں تک کہ ایک متنازع فیصلے کے تحت جہاں ججوں کی رائے تقسیم ہونے کے باوجود بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی گئی اور وہ کیس آج بھی ایک ایسا کیس ہے جسے عدالتیں بطور مثال تسلیم نہیں کرتیں لیکن ایک ڈکٹیٹر پر درج سنگین کیسوں کے باوجود حکومت ای سی ایل کیس کا فیصلہ عدالت سے لینا چاہ رہی تھی اوراس طرح جنرل پرویز مشرف کو ملک سے فرار ہونے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ تماشا بھی پہلی بار دیکھا گیا کہ اٹارنی جنرل عدالت سے کہہ رہا ہے کہ آپ فیصلہ کریں جبکہ عدالت حکومت کو فیصلہ کرنے کا کہہ رہی تھی جبکہ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ اس ضمن میں فیصلہ کرتی‘اس فیصلے سے حکومت اپنا اخلاقی جواز کھو چکی ہے۔

سانحہ کارساز جب بے نظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس میں دہشت گردی کے ذریعے دو سو کے زائد پی پی کے جیالوں کو شہید کر دیا گیا تھا اور 12 مئی جب کراچی کو آگ اور خون میں نہلا دیا گیا تھا، یہ دو واقعات بھی سابق کمانڈو کے جرائم میں شامل ہیں۔

جنرل پرویزمشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیکر مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے ایک اور انتخابی وعدے سے روگردانی کی ہے۔ مسلم لیگ نواز اب اپنے اس مطالبے اور وعدے پر قائم نہیں ہے جس کے تحت وہ 12 اکتوبر 1999 کو جمہوریت پر شب خون مارنے اور آئین اور قانون کی دھجیاں اڑانے کی پاداش میں مشرف کیخلاف کارروائی چاہتی تھی۔ حکومت کی اس کمزور جمہوری پالیسی کے خلاف پاکستان کے جمہوریت پسند سراپا احتجاج ہیں، اور اس کمزور موقف کو پاکستان کی جمہوریت کے لئے خطرناک قرار دے رہے ہیں۔

مشرف کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے، ان کا وفاقی حکومت کی رضامندی سے بیرون ملک چلے جانا انصاف و قانون کا مذاق اڑانے اور جمہوریت کو مزید کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ ایسے حالات میں جب کہ سنگین غداری کیس میں مشرف کی 31 مارچ کو طلبی اور لال مسجد کیس میں وارنٹ گرفتاری موجود ہے۔ 12 اپریل کو مشرف کو پیش کرنے کے حکم کے ساتھ ضامنوں کو نوٹسز بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان حالات میں پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی سے حکمرانوں کی نا اہلی کے متعلق کئی سوالات نے جنم لے لیا ہے۔ جب تک آئین شکنی کے ارتکاب پر جنرل (ر) پرویز مشرف اور دیگر سہولت کاروں کو ریاست سے بغاوت آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت قرار واقعی سزا نہیں دی جاتی تب تک ملک میں آمریت اور مارشل لاء کا راستہ نہیں رک سکتا اور ملک میں پارلیمنٹ کی بالادستی اورشہریوں کے نمائندہ اداروں کے احترام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

اس فیصلے سے پاکستان میں کمزور جمہوری ڈھانچہ ایک بار پھر سے بے لباس ہوا ہے، اور اس موقف کو تقویت ملی ہے کہ پاکستان کی ریاست اور اس کی عدلیہ کے انصاف کے دُھرے معیار ہیں، جہاں ڈکٹیٹروں اور مقدس اداروں سے وابستہ افراد قانون اور آیئن سے بالا دست رہتے ہیں، اور شہری ہمیشہ انصاف سے محروم رہتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔