خواتین کے تحفظ کے بل پر چند گزارشات


usman suhailپنجاب اسمبلی کی جرآت مندانہ کاوش یعنی خواتین کے تحفظ کے بل پر خاصی بحث چل رہی ہے۔ اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ خاندانی نظام تباہ ہوجائے گا۔ اس قضیہ پر عاجز اپنے “دو پیسے” یعنی مائی ٹو سینٹس پیش کرکے حصہ ڈالنے کی جسارت کرنا چاہے گا۔

ہاں جی تو کچھ صاحبان مخالفت میں دلائل پیش کر رہے ہیں جبکہ کچھ ایسے ہیں کہ وہ اول الذکر مخالفین کی طرف سے بطور نظیر طلاق کے جو دو حالیہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ان کی روشنی میں معاملہ کا بغور جائزہ لینے کے بجائے اسی بات کو محض آگے بڑھانے کا کار خر سر انجام دے رہے ہیں۔ مخالفین کے دلائل کا نچوڑ یا لب لباب کچھ یوں ہے: طلاق سے کُٹ (مار) کھاتے رہنا بہتر ہے تاکہ خاندانی نظام قائم و دائم رہ سکے۔ مخالفین سے گذارش ہے کہ اگر اپ کا باس آپ کو روز دو ڈنڈے رسید کرے تو آپ کے پاس مندرجہ ذیل لائحہ عمل یا طریقے ہوں گے۔

1۔ کُٹ یعنی مار کھاتے رہیں چاہے کسی دن آپ کی ناک کا بانسہ ٹوٹ جائے، سر پھٹ جائے، ہڈی وڈی ٹوٹ جائے یا کسی جان لیوا ضرب سے آپ خدانخواستہ فوت ہوجائیں۔

2- باس سے برخواستگی کی درخواست کردیں یا بغیر کام سے بتائے غائب ہوجائیں۔

3- کسی حکومتی ادارے کو شکایت کریں جس کے دو ممکنہ نتائج ہوسکتے ہیں۔ اول یہ کہ باس آپ کو ڈنڈے مارنا چھوڑ دے گا۔ دوم یہ کہ اپ کو برخواست کردے گا۔ اگر آپ خود کو اشرف المخلوقات سمجھتے ہیں اور یقیناً جائز طور پر سمجھتے ہیں تو عاجز کی رائے میں آپ مندرجہ بالا میں سے دوسرے یا تیسرے طریقہ کو منتخب کریں گے۔ چنانچہ میری رائے جسے میں حقیر نہ کہنے پر مصر ہوں گا کے مطابق آپ کو عورت کو بھی اپنے ہی جیسا اشرف المخلوقات سمجھنا چاہئے۔ لہٰذا اگر آپ سمجھتے ہیں کہ معاملہ خوش اسلوبی سے نہیں ہو سکتا تو آپ کو چاہئے کہ بیوی کو علیحدہ ہونے کا حق دیں۔ میرا اصرار خوش اسلوبی سے پیش آنے پر ہے۔ یاد رہے شادی شدہ ہو یا طلاق یافتہ، ہر انسان کی طرح عورت کے رزق کا ذمہ بھی حتمی طور پر رب تعالٰی کا ہے اس لیے یہ دلیل پیش کرنا مناسب نہی ہے کہ طلاق یافتہ کا گزر بسر کیونکر ممکن ہوگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ان کے ساتھ خوش اسلوبی سے گزر بسر کرو۔‘‘ (النسا: 19) عورتوں کے متعلق ایک دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور انہیں تکلیف دینے کی غرض سے مت روکے رکھو تا کہ تم زیادتی کرتے رہو۔‘‘ (البقرہ: 231)


Comments

FB Login Required - comments