پاکستان میں میڈیا: صنعتیں مسیحا نہیں ہوتیں


osman malikپاکستان میں ہر فوجی ڈکٹیٹر نئی سوچ لے کر آیا۔چونکہ ڈکٹیٹر تنہا ہی عقل کل ہوتا ہے لہٰذا اسے کسی سیانے کے مشورے اور عوامی رائے کی تو بالکل ضرورت نہیں ہوتی۔ انگریز فوج سے تربیت یافتہ فیلڈ مارشل ایوب خان کو لگا کہ پاکستان سیکولر ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا لہٰذا 62ء کے آئین میں پاکستان سے “اسلامی”ختم کر کے جمہوریہ پاکستان بنا دیا گیا۔ تاہم ایک سال غیر مسلم رہنے کے بعد آئینی ترمیم ہوئی اور پاکستان پھر سے اسلامی ہو گیا۔ جنرل یحییٰ خان آئے تو پاکستانی ایلیٹ نے شراب کو اپنا پسندیدہ مشروب بنا لیا کیونکہ سمجھا یہ جانے لگا کہ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے جنرل صاحب کی قربت نصیب ہو سکتی ہے۔ جنرل ضیاء آئے تو سارا پاکستان ہی “مومن”ہو گیا۔ مذہب کی اس قدر بالا دستی ہوئی کہ آج تک اس کے اثرات مدھم ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔پھر تاحال پاکستان کے آخری فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف آئے تو انہیں یہ لگا کہ پاکستان بہت زیادہ مسلمان ہو چکا ہے لہٰذا اسے”روشن خیال و اعتدال پسند”کرنے کی ضرورت ہے۔ 9/11 اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آغاز سے ان کے موقف کو مزید تقویت ملی۔

درج بالا تینوں فوجی آمروں کے ادوار میں میڈیا کو آزادی اظہار سے محروم رکھنے کی بھرپورکوششیں کی گئیں۔ ان کاوشوں کو کامیاب بنانے کیلئے تینوں ادوار کے دوران حکمرانوں نے اپنے من پسند افراد کو شعبہ صحافت سے وابستہ کیا جن کی خدمات کے صلہ میں انہیں انعام و کرام اور اعلیٰ عہدوں سے بھی نوازا گیا۔ 1988ء میں ایوب دور کا پریس اینڈ پبلیکیشن ایکٹ دہرایا گیا جو دراصل فیلڈ مارشل کے قریبی بیوروکریٹس کی اختراع تھی۔ پاکستان میں پہلے فوجی مارشل لاء کے دوران بھی شعبہ صحافت سے نا بلد افراد کو ذرائع ابلاغ میں اعلیٰ عہدے دئیے گئے اور اسی طرح ضیاء دور میں بھی ایسے افراد کی بھرمار کر دی گئی جو اخبارات کے ادارتی اختیارات پر اثر انداز ہونے لگے۔ ان میں سے بعض عناصر آج بھی موجودہ میڈیا میں جلوہ گر ہوتے اور اسی رجعت پسند و تخلیق و ترقی مخالف ایجنڈہ کی حمایت کرتے ہیں جس کا آغاز ضیاء دور میں ہوا تھا۔

مشرف نے چوتھے فوج آمر کے طور پر ملک کی باگ ڈور سنبھالی تو عوام تک رسائی اور دنیا بھر میں پاکستان کے پیغام کا اہم ذریعہ میڈیا کو سمجھا۔ اس کے بعد شعبہ صحافت میں تیزی سے ترقی ہوئی۔ نت نئے اخبارات نکلے اور خصوصا الیکٹرانک میڈیا نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی۔ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پاکستان میں 21ویں صدی کا سورج طلوع ہی میڈیا کے لئے ہوا ہے۔ کھُمبیوں کی طرح چینلز اُگنے لگے اور ایک وقت وہ بھی آیا جب پاکستان میڈیا کی تیز ترین نشو ونما کے حوالے سے دنیا کا اولین ملک بن گیا۔آج بھی ملک میں100سے زائد ٹی وی چینلز اور ہزاروں کی تعداد میں اخبارات عوام تک معلومات پہنچا رہے ہیں۔

اس موقع پر کچھ باتیں دہرانے کی ضرورت ہے۔ 99ء میں نواز شریف کو اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔ نئی ، نئی فوجی حکومت تھی اور سیاسی منظر نامہ خاصا تاریک تھا۔ پاکستان کی معیشت بھی منوں مٹی تلے دبی ہوئی تھی۔ ملک میں مایوسی، افلاس، بے چینی ، غیر یقینی صورتحال اور ہر قسم کی بد نما و بد شکل شے کی بہتات تھی۔ اوپر سے دہشت گردی کیخلاف جنگ شروع ہو گئی اور ریاست پاکستان نے امریکی اتحادی بننے کا فیصلہ کر لیا۔

ایسے موقع پر میڈیا ایک اہم ادارہ بن کر ابھرا۔ عام آدمی کے مردہ وجود میں تو جیسے جان آ گئی۔ لوگوں نے میڈیا کو اپنا مسیحا جانا۔ عام پاکستانی کو لگا کہ اس کی آواز میں بھی دم ہے۔اسے سنا جانے لگا۔ اسے اہمیت دی جانے لگی۔ اسے یہ احساس دلایا گیا کہ میڈیا کا قیام ہی عام آدمی کے وجود سے مشروط ہے۔

سرکاری دفاتر میں سائلین کے مسائل، حکومتی کرپشن، کاروباری پیچیدگیاں، مذہبی مسائل، خواتین وبچوں کے حقوق، نوجوانوں کی تعلیم اور روزگار ، انصاف کی فراہمی، ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات کا حصول ۔۔۔ بچے، بچے کو یہ لگنے لگا کہ میڈیا ان کے تمام مسائل پر آواز اٹھاتا ہے اور اسے ایوان اقتدار تک پہنچاتے ہوئے حل کر ا سکتا ہے۔

ٹی وی چینلز کے تنخواہ دار ملازمین اینکر ز کی صورت میں عام لوگوں کی سوچ اور فلسفے پرکسی پیر یا قائد کی حیثیت سے اثر انداز ہونے لگے۔ یہ ملازمین عام شہریوں کے پیش امام بن گئے۔ ان کے پاس ایسا جادو کا چراغ موجود تھا جو نہ صرف تمام مسائل بتاتا بلکہ اس کے ذمہ داروں اور مستقبل کی پیش گوئی بھی کرتا ۔تاہم اس جادو کے چراغ کے پاس ان مسائل کا حل موجود نہیں تھا۔ لیکن لوگ خوش تھے کہ کم از کم پاکستان کی 50 سالہ زندگی میں کوئی تو ہے جو ان کے مسائل اجاگر کرتا ہے۔ ہر ایک کو یہ گمان ہونے لگا کہ عوام بہت با شعور ہو گئے ہیں۔ میڈیا انہیں سب بتا اور دکھا دیتا ہے۔ چند سال تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور سب خوش رہے ۔

پھر یک دم میڈیا پر بھی خزاں آ گئی۔ لوگوں نے محسوس کرنا شروع کر دیا کہ چینلزتو آتے جا رہے ہیں لیکن مسائل میں بھی اسی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے اور عام شہری کو تودو ٹکے کا فائدہ بھی نہیں پہنچا۔ ملک میں ایک اور بحث چھڑ گئی ۔ با اثر شخصیات کو عوامی کٹہرے میں لانے والا میڈیا بھی ملزم بن گیا۔اسے اپنے ہی گریبان میں جھانکنے کے طعنے ملنے لگے۔ کسی نے کہا کہ یہ توامریکی و یہودی سازش ہے۔ پاکستانی میڈیا کو وہی کنٹرول کرتے ہیں اور یہ معاشرے کو مذہب اور تمدن سے دور کر رہا ہے۔کچھ کا کہنا تھا کہ امریکی امداد پر چلنے والے چینلز دراصل ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں اور یہ سیکولر طاقتوں کے کنٹرول میں ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری فوج ، مذہبی و سماجی روایات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کسی نے الزام لگایا کہ صحافی تو خود سب سے بڑا چور ہے جو لفافے کی خاطر کچھ بھی کہہ، سن اور لکھ سکتا ہے۔ یوں میڈیا کے کردار پر ایک اور کھچڑی پک گئی لیکن نتیجہ ہمیشہ کی طرح بلا سود۔ تا حال یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ میڈیا ہے کیا؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ یہ مسیحا ہے یا پھر ایک کاروبار؟ عوام کو باشعور کر رہا ہے یا الو بنا رہا ہے؟ یہودو ہنود کی سازش ہے یا اپنی ہی آستین کا سانپ؟

یہ تمام سوالات غیر جانبدار تحقیق کے حقدار ہیں۔ میڈیا کے کردار پر بہت سے سیمینار، فورم اور بحث و مباحثہ تو ضرور ہوا لیکن اب بھی بہت کچھ سوچنا اور سمجھنا باقی ہے۔ عام آدمی ہر دور میں مسیحا کی تلاش میں رہا ہے اور اسے یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اس بار پھر اس کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔

ٹی وی اینکر محمد مالک کا موقف ہے کہ آج میڈیا مالکان یا ان کی اولاداخبارات کے چیف ایڈیٹر اور ٹی وی چینلز کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ ماضی کے برعکس پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر سمجھوتے سے صحافتی معیار زبوں حالی کا شکار ہو چکا ہے۔ اب ایک صحافی کو پیشہ ورانہ اقدار یا نوکری میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے تنقیدی انداز میں سوالات اٹھائے کہ”کیا صحافتی ادارے کا مالک اپنے اربوں کے کاروبار کوکسی ‘بیوقوف’ پیشہ ور صحافی یا پیشہ ورانہ اقدارکی نذر کرے گا؟ میڈیا تو آگیا مگر سوال یہ ہے کہ یہ کس سمت جا رہا ہے؟ کیا ہم وہ اصلاحی قوت ہیں جس سے جمود(سٹیٹس کو) کو ڈرنا چاہئے یا پھر ہم بھی مافیاؤں سے بھری اس پاک سلطنت میں ایک مافیا بن چکے ہیں؟ “

میڈیا ایسی این جی او نہیں جو خدمت خلق کیلئے کام کر رہی ہو بلکہ ایک صنعت ہے جس کا واحد مقصد منافع ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اچھا منافع اور بڑا نام بنانے کیلئے معیار کا خیال ضرور رکھا جاتا ہے جس کا ہمارے ہاں فقدان ہے۔ صنعتیں تبھی بڑے اداروں کی شکل اختیار کرتی ہیں جب وہاں تربیت کے ذریعے پروفیشنل ازم کو فروغ دیا جائے۔ ہر شخص بہتر طور پر سمجھتا ہو کہ کن اصول و ضوابط کے تحت کام کرنا ہے۔ پاکستانی میڈیا میں تربیت اور پروفیشنل ازم کا فقدان ہے۔ Ethicsاور Professionalismکی اصطلاحات سے نا واقف میڈیا نے بر یکنگ نیوز کلچر کو فروغ دیا جس کا ایک ہی اصول تھا۔۔۔”سب جائز ہے!”اس میں ہر طرح کی تمیز ختم ہو گئی ۔ایک اورشے جسے ریٹنگ کے نام سے جانا جاتا ہے نے بھی اس صنعت کو پاکستانیوں کیلئے لعنت بنا دیا۔عام زبان میں ریٹنگ سے مراد ہے کہ کس چینل کو کتنا زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ میڈیا کی روزی روٹی اشتہارات سے چلتی ہے جس کیلئے اچھی ریٹنگ ہونا بہت ضروری ہے۔

اینکر عاصمہ شیرازی کا ماننا ہے کہ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا آج اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں وہ سب کچھ کھو دے گا جس کیلئے اس نے کئی سال تگ و دو کی ہے۔ ان کے نزدیک اس کی وجہ حکومتی کنٹرول نہیں بلکہ ریٹنگ کا وہ نظام ہے جس نے محض آمدن میں فروغ کے باعث پروگرام پر منفی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ ٹی وی پروگراموں کا معیار تیزی سے گر رہا ہے اور اس کی وجہ غیر منصفانہ، غیر متوازی اور چند بڑے شہروں تک محدود ریٹنگ کا نظام ہے ۔ مخصوص شہروں میں قریبا650کے قریب ریٹنگ میٹرز نصب ہیں جو پورے ملک کی نمائندگی نہیں کرتے۔ جبکہ میٹرز کی کل تعداد میں سے بھی زیادہ تر کراچی میں نصب ہیں جبکہ چند ایک لاہور، فیصل آباد، ملتان ، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور حیدرآباد میں لگائے گئے ہیں۔ پشاور اور کوئٹہ جیسے اہم شہروں میں دس میٹر بھی نصب نہیں۔

اس تناسب کو مد نظر رکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح مخصوص شہروں کو زیادہ توجہ اور اکثر کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ گویا میڈیا کا معیار خبر کی اہمیت اور مواد نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ ریٹنگ کا حصول ہے تاکہ صف اول کے چینلز میں شمار ہوتے ہوئے مہنگے اور زیادہ اشتہار بٹورے جا سکیں۔

میڈیا کا بنیادی مقصدمعلومات کی فراہمی ہے۔ اس میں یہ پہلو ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے کہ واقعہ جیسا ہو، اسے بالکل ویسے ہی بیان کیا جائے۔ اب تو عام شہری کو بھی سمجھ آنے لگ گئی ہے کہ میڈیا حقائق بتاتا نہیں بناتا ہے۔ اپنے مفادات کے تحت ان میں اضافہ یا کٹوتی بھی کرتا ہے۔ خبروں میں سچائی کا اس قدر فقدان ہے کہ ہر چینل پر ایک، دو پروگرامز کے نام “سچ” یا “حقیقت” سے شروع ہوتے ہیں جیسے ہر دودھ کی دکان پر آپ کوخالص دودھ کا لیبل ملتا ہے۔ خوبصورتی ملاحظہ کریں کہ دکاندار کو یقین دلانا پڑتا ہے کہ وہ جو سودا بیچ رہا ہے وہ خالص ہے۔ اس کے باوجود وہ کتنا خالص ہوتا ہے یہ سب جانتے ہیں۔

میڈیاپریہ الزام بھی عائد ہوتا ہے کہ یہ فحاشی پھیلا رہا ہے اور آزادی کی آڑ میں مغربی و ہندو کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس یہ مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ میڈیا ہر کام اپنے مفاد کی خاطر کرتا ہے۔ یہ ہر اس کلچر کو فروغ دیتا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو۔اس کی ایک اہم مثال یہ ہے کہ چینلز جس قدر منافع رمضان میں مذہب کی تجارت سے کماتے ہیں وہ سال کے دیگر مہینوں میں نہیں کما سکتے۔

پاکستان میں ایک اور فیشن بہت عام ہے۔ کچھ بھی غلط ہو رہا ہو تو ایک الزام ضرور لگایا جاتا ہے۔۔۔”سب امریکہ کروا رہا ہے”۔ اب اس الزام کی زد سے میڈیا بھی نہیں بچ پایا۔ آئے دن یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ میڈیا چینلز کو امریکی امداد ملتی ہے جس کے باعث وہ سی آئی اے اور پینٹاگون کی پالیسیوں کے مطابق اپنے چینلز کی پالیسی بناتے ہیں۔ پاکستان میں UNاور USAIDجیسے ادارے میڈیا سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں جس کا خالصتامقصد ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی حکومت خود بھی پاکستان کو کئی حوالوں سے امداد دیتی ہے۔ اگر امریکی امداد کا مقصد سی آئی اے اور پینٹاگون کی پالیسیوں کا اطلاق ہے تو پھر یہ پاک فوج اور حکومت پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔ فوج کو دفاع اور دہشتگردی کیخلاف جنگ کیلئے اربوں ڈالر امداد ملی۔ کیااس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ فوج سرحدوں کی پاسبانی کی بجائے امریکی پالیسیوں پر عمل پیرا ہو گی؟ایسا نہیں ہے۔

میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون اور جمہوری سوچ کے فروغ میں اہم سنگ میل کی حیثیت دینے کے بھی کچھ معیار ہیں۔ بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے سابق استاد  ڈاکٹر مہدی حسن تاریخی حوالے دیتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچے کہ اگر صحافت کو پاکستان میں چوتھے ریاستی ستون کا درجہ برقرار رکھنا ہے تو اس شعبہ میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید دوام دینا ہوگا جبکہ ریاست و معاشرے کو بھی تنقید اور اختلاف برداشت کرنا پڑے گا۔ صرف اسی صورت میں معاشرہ اور پریس مل کر جمہوریت کی کامیابی میں مدد فراہم کر سکیں گے۔

یہ امر بھی غور طلب ہے کہ کئی مہینوں سے بغیر تنخواہ کے کام کرنیوالے صحافی جب اپنے حقوق کیلئے آواز بلند نہیں کر سکتے تو وہ لوگوں کے مسائل حل کرانے میں کس حد تک موثر ثابت ہوں گے؟

کسی بھی سوال کا جواب اور مسئلے کا حل تلاش کرنے سے پہلے سوال اور مسئلے کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ میڈیا کے کردار پر بحث سے پہلے اس کے وجود کا مقصد سمجھنا اہم ہے۔جن اداروں کا مقصد منافع اور ذاتی مفادات کا حصول ہو وہ مسیحائی نہیں کرتے۔


Comments

FB Login Required - comments