میڈیا کے پہاڑ کا سفرنامہ


مجھے اس سفر کو شروع کئے ہوئے چوتھا سال ہے۔ وہ لوگ جو یہ سوچتے ہیں کہ یہ سفر کسی لگثرری کار کا سفر ہے تو انہیں شاید یہ علم نہیں کہ مسافروں کا جتنا خون نچوڑا جا سکتا ہے اس سے تھوڑا زیادہ اس سفر میں نچوڑا جاتا ہے اور سفر کی سہولیات جتنی دی جاسکتی ہیں ان میں سے بھی تھوڑی کم کر دی جاتی ہیں۔ کام کی باری آئے تو اتنا کام کرو جیسے کام کر ہی آج رہے ہو اور نام؟ کیا نام ہے آپ کا؟

میں نے جب میڈیا کا پہاڑ سر کرنا شروع کیا تو پتہ لگا اس چڑھائی کو صرف ایک سڑک جاتی ہے۔ بتانے والوں نے نام انٹرن شپ بتایا اور کام جو آئے بس کرتے جاؤ، رکو نہیں تھکو نہیں اور نوکری وہ تو اس سفر میں کسی کے ہاتھ ہوتی ہی نہیں۔

 ہم بھی چل پڑے، سوال شوق کا تھا پیسے کا نہیں۔ اور شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا۔ اس سفر میں چھ ماہ تو ایسے گزرے جیسے ہم شاگرد اور سارا زمانہ ہی استاد ہے اور بڑے بڑے استاد نکلے بھی۔

انٹرن شپ کے سفر کو کوئی سات ماہ تو گزر چکے تھے جب مسافروں کو کوئی صحیح راستہ بتانے والا نظر آیا جسے پرواہ تھی تھک جانے والوں کی، جو خود یہ سفر طے کر چکا تھا، جسے میڈیا کے پہاڑ سر کرنے والوں نے بھی استاد کہا جاتا ہے۔ نام نہیں لوں گی نہیں تو یہ پالش کے ذمرے میں آئے گا اور پالش کے بے تاج بادشاہ کی حق تلفی ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔

خیر! تب جا کر مسافروں کو پتہ لگا پہاڑ چڑھنا تو دور کی بات ،صحیح راستے کا تعین ہی اب ہوا ہے۔ تو کیا کہتے ہیں؟ شوق کا کوئی مول نہیں سفر ہو ہی کام کے شوق کی وجہ سے رہا تھا، جاری رہا۔۔

وہ دن تھا اس پہاڑ پے پہلے قدم کا، جب سفری ویزا ملا (نوکری) اور ہم بھی صحافیوں میں شامل ہوگئے۔۔۔

تین سال ہوگئے ہیں صحافی بنے ہوئے ان تین برسوں نے اس سفر میں سو بار گرایا۔ کئی بار شدید تکلیف دہ حادثات بھی رونما ہوئے اور کبھی گاڑی بل کھاتے راستوں سے گرتے گرتے پچ بھی گئی۔۔ اسی سفر میں بہت سے دوست بھی ملے جن کا اپنا ایک مقام ہے۔ محسوس ہوتا ہے اس پہاڑ کی چوٹی کو جب سر کروں گی تو ان کا ساتھ تب بھی ہوگا اور ایسے دوست بھی ملے جن کا کوئی مقام نہیں تھا اور کبھی ہوگا بھی نہیں۔۔

اب سفر کے ایسے موڑ پر ہوں کے کئی دشوار گزار راستوں سے گزر  آئی ہوں۔ کئی گہری کھائیاں پار کر لی ہیں لیکن جب مڑ کر دیکھتی ہوں کہ کیا یہ سفر میں نے ہی کیا ہے تو یقین نہیں آتا اور جب پہاڑ کی چوٹی کی طرف نظر اٹھتی ہے تو وہ اس قدر سرد برف کی سفید چادر اوڑھے کھڑی ہے کے اپنی طرف اٹھنے والے ہر قدم کو سرد کر دے۔۔

پر کیا ہے؟

 سفرکا شوق ہے اور شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سمیرا راجپوت کی دیگر تحریریں
سمیرا راجپوت کی دیگر تحریریں