میری ساس نہیں چاہتیں کہ میں بدلوں


ہلکے گلابی رنگ کے لہنگے اور چولی میں ملبوس، چہرے پر گھونگٹ کے بجائے چھوٹا سا ٹیکہ، ادھر اُدھر چہل پہل میں مصروف، مہمانوں کے ہمراہ شاندار رقص کرتی کیا آپ نے کبھی دیکھی ہے ایسی دلہن؟ نہیں نا، ہم آپکو ملواتے ہیں ایک ایسی ہی ایک دلہن سے جو اور کوئی نہیں بلکہ پاکستان کی مشہور ماڈل’صحیفہ جبار خٹک‘ ہیں۔

جنھوں نے اپنی شادی پر ’لوگ کیا کہیں گے‘، ’ہا ہائے‘ اور ’پرانی سوچ‘ رکھنے والے تمام لوگوں کی پرواہ کئے بغیر خوب دل کھول کر رقص کیا۔

ان ہی کے ساتھ ماڈل صدف کنول اور دیگر شرکاء نے بھی اپنی بھرپور صلاحتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے رقص میں حصہ لیا۔

ماڈل صحیفہ جبار اور ان کے قریبی دوست خواجہ خضر حسین کی شادی لاہور میں ہوئی جس میں ماڈل صدف کنول، رباب علی، ایمن سلیمان، رحمت اجمل، انعم ملک، ایمن اور منال سمیت دیگر فنکاروں نے شرکت کی۔

صحیفہ معاشرے کے ‘معیار کے مطابق ایک عام لڑکی نہیں ان کے اپنے خیالات اور آئیڈیاز ہیں جنہیں استعمال کرنے سے وہ نہیں ڈرتیں بلکہ انہوں نے اپنی شادی کے ذریعے بتایا کہ عورتیں با اختیار ہونے کے ساتھ ساتھ با ہمت بھی ہیں اور وہ پرانے اور روایتی طرز زندگی کو بدل سکتی ہیں۔

روایتی دلہنوں سے بالکل ہٹ کر صحیفہ جبار کسی ’فیری ٹیل‘ سے کم نہیں لگ رہی تھیں۔ تقریب میں آئے مہمانوں کے لیے بھی تھیم رکھی گئی تھی جس کے مطابق انہوں نے ہلکے رنگوں پر مشتمل ملبوسات میں زیب تن ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں بہت زیادہ بڑے پیمانے پر اور مہنگی شادی پسند نہیں اسی لیے انہوں نے صرف سفید پھولوں کا انتخاب کرتے ہوئے دن کے وقت میں شادی کا اہتمام کیا۔

اس شادی کی ایک اور دلچسپ بات مہمانوں کی جانب سے دلہن کے لیے بنائی گئی خاص ’جیکٹ‘ تھی۔ ان جیکٹس پر مہمانوں نے اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ایک جملہ لکھا، کسی جیکٹ پر ’میری ساس نہیں چاہتی کہ میں بدلوں‘ لکھا تھا تو کسی پر ’نہیں! میرے شوہر مجھے میرے خواب پورے کرنے سے نہیں روکتے‘ اور اس جیسے مختلف جملے تحریر تھے۔

دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ خضر’ شیعہ‘ اور صحیفہ ’سنی‘ ہیں تاہم اس بات پر دونوں کو کوئی اعتراض نہیں۔ صحیفہ کا کہنا ہے کہ ان کے بچے انسانیت کو ترجیح دیں گے نہ کہ شیعہ یا سنی ہونے کو۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کو باورچی خانے میں جانا قطعی پسند نہیں جبکہ مزے کی بات یہ ہے کہ ان کی ساس کو بھی صحیفہ ایسے ہی پسند ہیں اور وہ نہیں چاہتیں کہ ان کی بہو میں کسی قسم کی تبدیلی آئے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔