بیگانی نسل اور حرام اشیا کا مسئلہ


KN1

اپنے اقتدار کے عروج کے دوران جنرل ضیاء نے سرکاری مطالعہء پاکستان اور سرکاری اسلامیات پروفیشنل کالجوں میں لازمی مضامین کے طور پر شامل کرتے ہوئے بڑا تاریخی جملہ کہا تها کہ “ہمیں ایسے ڈاکٹر، انجینئر اور وکلاء نہیں چاہئیں جو بوقت ضرورت نماز کی امامت بھی نہ کرسکیں” الحمدللہ ان کی مساعیء جمیلہ رنگ لائیں۔ اور لگائی ہوئی پنیری تن آور درخت بن کر کیا خوب برگ و بار لا رہی ہے۔ اب ہمارے پاس ایسے انوکهے وکلاء کی فوج کی فوج ہے جنہوں نے اینگلو سیکسن قانون کی تعلیم اور پریکٹس میں اپنی عمر صرف کر دی لیکن وہ ان قوانین سے ہر وقت نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان سے کوئی پوچھے کہ پهر کون سا قانون ہونا چاہئے؟ بینکوں اور انشورنس کی کمائی سے اعلیٰ معیار زندگی گزارنے والے ماہرینِ معاشیات ہیں جو اس روزگار کو سودی اور خدا سے لڑائی قرار دیتے ہیں ان کے پاس جائیں تو کهاتہ کھولنے اور بیمہ پالیسی بیچتے ہوئے دنیاوی اور مالی فوائد کا ذکر فراموش کر کے مفتی عثمانی دامت برکاتہ کے فتاویٰ سے آپ کو قائل بلکہ مدہوش کردیتے ہیں۔

جدید طب ایک سیکولر اور شواہد پر چلنے والی (مبنی بر ثبوت) سائینس ہے لیکن ایسے اطباء ہیں جو اپنی پیشہ ور صلاحیتوں سے زیادہ دعاؤں پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
سوشل میڈیا کی وساطت سے ایسے بہت سے ڈاکٹر دوستوں کے اندازِ فکر پر سے پردے اٹهتے رہتے ہیں۔ بڑے عہدے سے ریٹائرڈ ایک ڈاکٹر کولیگ نے اگلے جہان کی تیاری میں اپنے فیس بک پیج پر ہرطرح کے جان لیوا امراض مثلاً کینسر، دل کا دورہ، جگر اور گردے کی ناکامی کے لئے مختلف دعائیں نا صرف شیئر کی ہوئی تھیں بلکہ اپنے مریضوں کو ہدایت دی تهی کہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے ایک بار انہیں آزما لیں۔

ایک قابل صد احترام دوست نے اپنی صاحبزادی اور بیگم کو ٹیگ کر کے ایک تصویر بهیجی جس میں مٹھائی کی دکان پر چم چم کے تهال پر بهنکتی اور شیرے میں تیرتی مکھیوں کے جهمگٹے دکها کر نقاب کی اہمیت اجاگر کی گئی تهی۔

ہم سے جونیئر ایک دوست جو ٹی وی پر آج کل خوبصورتی بڑھانے کے پروگرام کرتے ہیں اور خواتین میں بہت مقبول ہیں لیکن بدقسمتی سے بجائے سائنسی توجیہات پیش کرنے کے اکثر گھریلو چٹکلے یا پهلوں، سبزیوں اور جڑی بوٹیوں کی مذہبی اہمیت اجاگر کرتے نظر آتے ہیں۔

ایک دوست سعودیہ کے کسی اسپتال میں انتہائی نگہداشت میں کام کرتے ہیں اور ان کی طرف سے جاں بہ لب مریضوں کی تصاویر اس پیغام کے ساتھ موصول ہوتی ہیں کہ “اللہ اس مریض کو جلد صحتیاب کرے۔ کمنٹ میں آمین لکهیں!”۔

ایک انتہائی ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ دوست مسلمانوں کو صرف کفار کی سازشوں مثلاً ملالہ، شرمین عبید وغیرہ سے ہی آگاہ نہیں کرتے بلکہ حرام اشیاء کی نشاندہی بھی فرماتے رہتے ہیں۔ چند ہفتے پہلے ان کی جانب سے بھیجی گئی معلومات سے ہمیں پتہ چل گیا کہ کس چاکلیٹ اور دہی میں سور کی ملاوٹ کی گئی ہے۔ ہم نے ان اشیاء کے آئندہ استعمال سے ہمیشہ کے لئے توبہ کرلی ہے۔ کاش وہ مسلمانوں کو یہ بهی بتا دیتے کہ کولوآئڈ محلول جو برسوں سے جان بچانے کے کام آرہے ہیں میں جیلاٹن کا مآخذ خنزیری چربی ہے اسی طرح خون پتلا کرنے والی ہیپارن کافی عرصہ تک صرف سور سے ہی بنتی تھی۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے کئی انسولین بهی حرام جانور سے حاصل ہوتی ہیں اور بری طرح جل جانے والوں کے زخموں پر جو پٹی کی جاتی ہے وہ سور کے بدن سے آتی ہے اور ہاں دل میں جو والو لگایا جاتا ہے وہ بھی سور ہی کا ہوتا ہے۔

پاکستان میں بدقسمتی سے ایک ایسی تعلیم یافتہ نسل تیار کی گئی ہے جو خود سے ہی بیگانی ہے۔ یہ اپنے علوم اور اعلیٰ پیشوں کی نفی کرتی رہتی ہے اور معاشرے میں موجود ضعیف العتقادی، انتہا پسندی اور تنگ نظری کا مقابلہ کرنے کے بجائے انہیں تقویت پہنچاتی ہے۔سرمایہ و محنت کا تضاد، غربت کی لکیر اور اس کے نیچے پھسلتی ہوئی آبادی، عورتوں پر مظالم وغیرہ ان کے نزدیک کسی دوسرے سیارے کے قصے ہیں۔ جنرل صاحب کی خواہش کے مطابق یہ وہ پروفیشنلز ہیں جو کچھ کرسکیں یا نہیں نمازِ جنازہ ضرور پڑها سکتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “بیگانی نسل اور حرام اشیا کا مسئلہ

  • 24-03-2016 at 1:20 pm
    Permalink

    واہ، بہت عمدہ

Comments are closed.