علامہ اقبال بھی پیشہ ور مولوی کو ناپسند کرتے تھے


ہمارا سماج انفرادی اور اجتماعی زندگی میں جس رستے پر چل پڑا ہے اس کا نتیجہ بربادی اور انہدام کے سوا نہیں نکل سکتا۔ یہ رستہ ہر سطح پرحریف کو پچھاڑنے کے لیے سارے داؤ پیچ آزما لینے کا ہے، اس عمل میں اگر حریف کا کچومر نکل جائے تو بھی ہمارے انتقام کی آگ دھیمی نہیں پڑتی، ہم اس پر آخری اور کاری وار مذہب کا سہارا لے کر کرتے ہیں۔ ذاتی مقاصد کے لیے مذہب کے استعمال سے زیادہ پست حرکت کوئی ہو نہیں سکتی۔ اس سے دشمن کی رہی سہی جمعیت تو ٹوٹتی ہی ہے لیکن اس سے بڑا سانحہ معاشرے کے تارپود بکھرنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، ایسی مہمات میں پس پردہ اور پردہ کے سامنے ہر دو قوتیں متحرک رہتی ہیں، ان قوتوں کے مقاصد انتشار میں پنپتے ہیں کیونکہ یہ واحد طریق ہے جو اقتدار میں انتشاری عناصر کو حصہ دار بنانے کاجوازپیدا کرتا ہے۔ انتہا پسندی کا جن بوتل سے باہر آجائے تو پہلے وہ مینو فکچرز کی مدمقابل قوت پر ضرب لگاتا ہے لیکن ایک وقت آتا ہے کہ وہ اپنے خالقوں اور سہولت کاروں کے خیموں میں جا گھستا ہے، یہ سب ہم اپنی آنکھوں سے بارہا دیکھ چکے اور دیکھ رہے ہیں لیکن بقول انور شعور

تاریخ سے تغافل تاریخ ہے ہماری

انتہا پسندوں کے مطالبات پورے کرنا کسی جدید قومی ریاست کے بس کی بات نہیں کہ وہ لامحدود ہوتے ہیں۔ یہ گروہ دنیا میں جہاں کہیں بھی ہوں، ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، ’فساد‘ ان میں قدر مشترک ہے۔ ان سے مذاکرات کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے، یہ بس اس آڑ میں وقت حاصل کر کے اپنے لیے مزید گنجائش پیدا کرتے ہیں۔ ہم ان سے جنگ میں پہلے ہی لہولہان ہیں اور نہیں معلوم اس پیکار میں اور کتنا لہو بہے گا۔

تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارض وطن

سارتر نے کہا تھا کہ شکست بذات خود سبق نہیں بنتی، یہ سبق سیکھنا پڑتا ہے۔

علامہ اقبال نے مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی کے نام خط میں لکھا تھا کہ سرسید احمد خان کی تحریک کے بعد پیشہ ور مولویوں کا اثر و رسوخ کم ہوگیا تھا لیکن خلافت کمیٹی نے ان سے سیاسی نوعیت کے فتوے حاصل کرنے کی غرض سے انھیں ہندی مسلمانوں پر پھر سے مسلط کرکے ایک بہت بڑی غلطی کی۔ اقبال نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل انھوں نے انگریزی میں اجتہاد کے موضوع پر ایک مقالہ لکھا توبعض لوگوں نے ان کو کافر قرار دے دیا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب پیشہ ور مولویوں کے پاس اس قوت کا تصور بھی نہیں تھا جو اب انھیں ریاست کی سرپرستی میں حاصل ہے، ان کے غضب سے عُمالِ حکومت تھرتھر کانپتے ہیں تو عام آدمی ان کے غیظ کا مقابلہ بھلا کیسے کرسکتا ہے، جو لوگ حکیم الامت کو کافر قرار دے ڈالیں، ان پر کوئی دوسرا اپنا مسلمان ہونا کیسے ثابت کر سکتا ہے۔

نفرتوں کی فصیل آسانی سے کھڑی تو ہوجاتی ہے لیکن اسے ڈھانے میں مدتیں لگتی ہیں۔سوچنا چاہئے کہ آخر کیوں ہم انتہاپسندی کے نہال کو پانی دے دے کر سرسبز کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔