علامہ اقبال اور مسلم لیگ میں اختلافات (2)



ملک برکت علی، خلیفہ شجاع الدین، غلام رسول خاں ، پیر تاج الدین، ملک زمان مہدی اور راقم السطور 14 اپریل کو شام کو کلکتہ روانہ ہوئے۔ راجہ عبدالعزیز بھی ہمارے ساتھ تھے۔ ہماری مسلم لیگ کا الحاق نا منظور ہوجانے کے باوجود پنجاب سے بہت سے لوگ کلکتہ جا رہے تھے۔ سہارنپور کے سٹیشن پر نواب اسماعیل بھی ہماری گاڑی میں سوار ہو گئے۔ وہ بھی کلکتہ جا رہے تھے۔ نواب صاحب الحاق کی درخواستوں کا فیصلہ کرنے والی سب کمیٹی کے صدر تھے۔ جب ان سے پنجاب کے بارے میں ہماری مفصل گفتگو ہوئی، تو انہیں تمام حالات سن کر سخت افسوس ہوا۔ غلام رسول خاں کے پاس الحاق کی نئی درخواست بھی موجود تھی۔ نواب صاحب نے اسی وقت اس پر بڑے زور دار الفاظ میں لکھ دیا کہ الحاق فوراَ منظور ہوجانا چاہئیے۔

16 اپریل کی صبح کو ہم کلکتہ پہنچے اور مسلم انسٹی ٹیوٹ کی بالائی منزل میں قیام پذیر ہوئے۔ اسی روز دوپہر کو ایک بجے الحاق کی نئی درخواست جس پر نواب اسماعیل خاں کی سفارش درج تھی ہم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے دفتر پہنچا دی۔

17 اپریل کو ساڑھے گیارہ بجے آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کا اجلاس ہونے والا تھا۔ اس لئے 16 کی شام کو ہم نے اکٹھے بیٹھ کر مشورہ کیا کہ اس اجلاس میں کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔ ہمیں یقین تھا کہ ہماری درخواست پھر مسترد کر دی جائے گی۔ غلام رسول خاں تخت یا تختہ کے قائل تھے۔ آخر کسی قدر سوچ بچار کے بعد فیصلہ ہوا کہ اگر درخواست منظور نہ ہو تو راقم التحریر وہیں اجلاس میں کھڑے ہو کر بحث کا آغاز کرے اور اگر بحث طول کھینچ لے تو ملک برکت علی اور خلیفہ شجاع الدین مدد کریں۔

نواب زادہ لیاقت علی خاں نے پہلے گزشتہ اجلاس کی رپورٹ سنائی۔ پھر صوبائی لیگوں کے الحاق کی درخواستوں کا معاملہ زیر بحث آیا، تو کئی ایسی لیگوں کی درخواستیں منظور کر لی گئیں جن کا وجود محض کاغذی تھا اور جن کا کوئی آئین بھی نہیں تھا۔ صوبہ سرحد کی بھی ایک نام نہاد لیگ کا الحاق منظور کیا گیا۔ حالانکہ خود آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری نے اس وقت تسلیم کیا کہ اس لیگ کا وجود صرف کاغذی ہے اور اس کا کوئی دستور بھی تا حال وضع نہیں کیا گیا لیکن پنجاب کی طرف سے الحاق کی نئی درخواست پیش ہوئی، تو نواب زادہ لیاقت علی خاں نے مخالفت کی اور کہا کہ درخواست منظور نہیں کی جا سکتی۔

میں اس موقع کا منتظر بیٹھا تھا۔ میں نے اسی وقت کھڑے ہو کر سوال کیا: “ہماری درخواست کے نا منظور کئے جانے کی وجہ کیا ہے؟”

نواب زادہ صاحب نے کسی قدر تحکمانہ انداز میں فرمایا: “بیٹھ جاؤ!”

میں نے عرض کیا: “ میں سکول کا طالب علم نہیں ہوں اور نہ آپ سکول کے ماسٹر کہ مجھے یوں بیٹھنے کا حکم دیں۔”

اس پر وہ بگڑ کر بولے: “کیا لاہور سے ہماری بے عزتی کرنے یہاں آئے ہو؟”

میں نے جواب دیا: “میں آپ کی بے عزتی کرنے تو نہیں آیا لیکن اپنی بے عزتی کرانے بھی نہیں آیا۔”

میرے پاس الہٰ آباد کے بیرسٹر ظہور احمد بیٹھے تھے۔ وہ میرا کوٹ کھینچ کے کہنے لگے: “بیٹھ جاؤ!”

لیکن خلیفہ شجاع الدین پیچھے بیٹھے کہہ رہے تھے: “نہیں بولنے دو انہیں!”

مسٹر جناح یہ سب دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے کھڑے ہو کر پوچھا: “چاہتے کیا ہو؟”

میں نے عرض کیا: “پنجاب مسلم لیگ کا الحاق۔”

فرمایا: تم میں سے ایک آدمی یہاں آکر اپنا معاملہ پیش کرے۔”

ملک برکت علی نے پلیٹ فارم پر جا کر تقریر شروع کی۔ ان کی تقریر ختم ہوئی تو پورا ایوان ہمارا ہم خیال اور معاون بن گیا۔ لیکن مسٹر جناح نے چوبیس گھنٹے کی مہلت طلب کی اور فرمایا کہ سر سکندر آج شام کی گاڑی سے کلکتہ آرہے ہیں۔ کل صبح اس بات کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔

شام کو ہمیں پیغام ملا کہ دوسرے روز صبح آٹھ بجے مسٹر اصفہانی کے مکان پر جہاں مسٹر جناح مقیم تھے ہم حاضر ہوں تا کہ سر سکندر کی موجودگی میں معاملات طے کئے جائیں۔ سر سکندر کے ساتھ ان کے دونوں مسلمان وزیر اور تمام پارلیمنٹری سیکرٹری اور پرائیویٹ سیکرٹری آئے تھے۔ اس کے علاقہ نواب ممدوٹ بھی ان کے ہمرکاب تھے۔

مسٹر جناح نے فرمایا پنجاب میں ایک نئی پراونشل مسلم لیگ قائم کی جائے گی، جسے مرتب و منظم کرنے کے لئے ایک 35 آدمیوں کی آرگنائزنگ کمیٹی مقرر کی جاتی ہے اور اس آرگنائزنگ کمیٹی میں دونوں فریقوں کو مساوی نمائندگی حاصل ہوگی۔

غلام رسول خاں نے یہ پوچھنے کی کوشش کی کہ ہمارے الحاق کی درخواست کا کیا حشر ہوا لیکن مسٹر جناح نے جواب دیا۔ گڑے مردے اکھاڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ پھر انہوں نے، ملک برکت علی سے کہا کہ آرگنائزنگ کمیٹی کے لئے اپنے آدمیوں کی ایک فہرست تیار کریں۔ ملک صاحب نے ایک کاغذ پر اٹھارہ آدمیوں کے نام لکھ دئیے۔

یہ مجلس مشاورت کم و بیش دو گھنٹے جاری رہی اور بعض معاملات پر سر سکندر سے ہماری تیز و تند گفتگو بھی ہوئی۔

اسی شام آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری نے آرگنائزنگ کمیٹی کی مکمل اور باضابطہ فہرست ہمارے پاس بھیجی، تو ہمیں یہ دیکھ کر سخت حیرت ہوئی کہ اس میں ہماری پارٹی کے صرف دس آدمیوں کے نام درج تھے۔ پچیس آدمی سر سکندر حیات کے تھے۔ غلام رسول خاں غصے سے بے تاب ہوگئے۔ لیکن میں نے انہیں سمجھایا کہ اب چاہے ہمارا ایک بھی آدمی شامل نہ کیا جائے کم از کم مجھے نہ تعجب ہوگا نہ افسوس۔

آرگنائزنگ کمیٹی مندرجہ ذیل اصحاب پر مشتمل تھی۔

سر سکندر حیات خان، صدر  ۔۔۔ نواب ممدوٹ (نواب شاہنواز خان) ۔۔۔ سعادت علی خاں یونینسٹ ایم ایل اے ۔۔۔ ملک خضر حیات ٹوانہ ۔۔۔ میاں عبدالحئی وزیر تعلیم  ۔۔۔ میاں احمد یار خاں دولتانہ  ۔۔۔ سید افضال علی حسنی۔ یونینسٹ۔۔۔ میاں مشتاق احمد گورمانی ۔۔۔ میر مقبول محمود۔ پارلیمنٹری سیکرٹری ۔۔۔ سید امجد علی ۔۔۔   غیاث الدین ایم ایل اے (مرکزی اسمبلی)  ۔۔۔ نواب زادہ خورشید علی خاں ۔۔۔ نواب سر محمد حیات خاں نون یونینسٹ ایم ایل اے ۔۔۔ راجہ فتح خاں یونینسٹ ایم ایل اے ۔۔۔    نواب مظفر خاں یونینسٹ ایم ایل اے ۔۔۔  خان بہادر نواب فضل علی یونینسٹ ایم ایل اے ۔۔۔ راجہ غضنفر علی خاں پارلیمنٹری سیکرٹری ۔۔۔ کیپٹن سر شیر محمد خاں ایم ایل اے (مرکزی اسمبلی) ۔۔۔ خان بہادر شیخ کرامت علی یونینسٹ ایم ایل اے۔۔۔ چوہدری محمد یٰسین یونینسٹ ایم ایل اے ۔۔۔ شیخ صادق حسن امرت سر ۔۔۔ مولانا غلام رسول مہر ایڈیٹر انقلاب ۔۔۔ شیخ فیض محمد ۔۔۔ خان بہادر مولوی غلام محی الدین قصوری یونینسٹ ایم ایل اے  ۔۔۔ خان بہادر چوہدری ریاست علی یونینسٹ ایم ایل اے ۔۔۔ علامہ اقبال  ۔۔۔ ملک زمان مہدی خان ۔۔۔ خلیفہ شجاع الدین ۔۔۔ غلام رسول خان ۔۔۔ ملک برکت علی ۔۔۔  پیر تاج الدین ۔۔۔ مولانا مرتضیٰ احمد خاں میکش  ۔۔۔ مولانا ظفر علی خان  ۔۔۔ میاں عبدالعزیز بیرسٹر ایٹ لاء ۔۔۔ عاشق حسین بٹالوی

اب کلکتہ میں مزید قیام بے سود تھا۔ چنانچہ 19 اپریل کی شام کو ہم واپس روانہ ہوئے۔ کلکتہ سے لاہور تک کا طویل اور صبر آزما سفر اچھی خاصی کوفت میں کٹا۔ غلام رسول خاں کے مزاج میں غصہ زیادہ تھا۔ وہ راستے میں بار بار کہتے تھے کہ اب پنجاب میں مسلم لیگ کو ختم سمجھو۔ کبھی کہتے، افسوس! ہماری دو سال کی محنت رائیگاں گئی۔ کبھی کہتے ہم لاہور جا کر ڈاکٹر صاحب کو کیا منہ دکھائیں گے۔

ملک زمان مہدی خاں کو بظاہر مسلم لیگ سے کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ میں لاہور پہنچ کر سیدھا اپنے گاؤں چلا جاؤں گا۔ میری زمینداری کے بہت سے کام رکے پڑے ہیں۔ خلیفہ شجاع الدین اور ملک برکت علی غالباَ یہ سوچ رہے تھے کہ ہائی کورٹ کھلنے پر انھیں کون کون سے اپیلوں میں پیش ہونا پڑے گا۔

میں اس خیال سے خوش تھا کہ چلو ہر روز کی دانتا کلکل ختم ہوئی۔ اب اطمینان سے بیٹھ کر کچھ لکھنے پڑھنے کا کام کروں گا۔

21 اپریل کو صبح نو بجے ہم لاہور پہنچے۔ ابھی گاڑی پلیٹ فارم پر اچھی طرح رکنے بھی نہ پائی تھی کہ ہم نے اخبار فروش لڑکے کو چلّاتے ہوئے سنا۔ وہ پکار پکار کر کہ رہا تھا کہ ڈاکٹر اقبال فوت ہوگئے۔

اس خبر سے ہم پر ایک بجلی سی گر گئی اور تمام ساتھی دم بخود و پریشان ہو کر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ اسٹیشن سے باہر آکر اپنے گھروں کو واپس جانے کی بجائے ہم سیدھے جاوید منزل گئے اور اس شخص کے جسد خاکی کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو آخری مرتبہ روشن کیا جس کے ساتھ اس کے نیازمندوں نے ملک و ملّت کی حیات تازہ کی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔