ڈونلڈ ٹرمپ آج یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیں گے


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بدھ کو یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان متوقع ہے جبکہ فلسطینیوں نے اس عمل کو مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ’موت کا بوسہ‘ قرار دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اعلیٰ امریکی حکام وزارتِ خارجہ کو حکم دیں گے کہ وہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیں۔

توقع کی جارہی ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے خطاب میں اس فیصلے کی تصدیق کی جائے گی۔

برطانیہ میں فلسطین کے نمائندے مینوئل حسسیان نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ کی یروشلم کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی دو ریاستی حل کے لیے کی جانے والی امن کی کوششوں کے لیے ’موت کا بوسہ‘ ہے اور ’اعلان جنگ‘ جیسا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ آخری تنکا ہے جو اونٹ کی کمر توڑ دے گا‘۔ انھوں نے کہا کہ ‘میرا مطلب روایتی جنگ نہیں ہے بلکہ سفارت کاری کے حوالے سے جنگ ہے‘۔

یہ فیصلہ یروشلم کے بارے میں برسوں پر محیط امریکی پالیسی اور بین الاقوامی اتفاقِ رائے کے منافی ہے۔ عرب ملکوں نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں مسلم دنیا میں تشدد بھڑک سکتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر صرف ایک حقیقت کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں کہ یروشلم عملی طور پر اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔ دوسری طرف فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کا بھی دارالحکومت ہے۔

اس سے پہلے امریکی صدر نے منگل کو متعدد علاقائی رہنماؤں کو فون کر کے بتایا کہ وہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے امریکی رہنما کو بتایا کہ ایسا کوئی بھی اقدام دنیا بھر کے مسلمانوں کو اشتعال دلا سکتا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کے مطابق شاہ سلمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے یا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے ’دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو سکتا ہے۔‘

وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمان سارا سینڈرز کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر صدر ٹرمپ کی سوچ ’بہت مضبوط‘ ہے۔

بیت المقدس کی حیثیت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کی جڑ ہے۔

اگر امریکہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے تو وہ ریاست کے سنہ 1948 میں قیام سے لے کر اب تک ایسا کرنے والا پہلا ملک ہو گا۔ دریں اثنا امریکی حکومت کے ملازمین اور ان کے خاندانوں کو یروشلم کے پرانے شہر اور مغربی کنارے میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ذاتی سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

ان خبروں کے بعد کہ صدر ٹرمپ بدھ کو بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر سکتے ہیں، انھیں دنیا کے متعدد ممالک سے رد عمل کا سامنا ہے۔ فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس حوالے سے متنبہ کرتے ہوئے کہا: ’ایسے فیصلے کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔‘

اردن کے شاہ عبد اللہ نے کہا: ’یہ فیصلہ امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کو کمزور کرے گا اور مسلمانوں کو اشتعال دلائے گا۔‘ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ علاقے کی صورتِ حال کو پیچیدہ نہ کریں۔‘

فرانسیسی صدر امانوئل میکخواں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ انھیں تشویش ہے کہ بیت المقدس کی حیثیت پر کوئی بھی فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان مزاکرات کے بنیادی ڈھانچے میں ہونا چاہیے۔ عرب اتحاد کے سربراہ احمد ابو الغیث نے متنبہ کیا ‘یہ ایک خطرناک قدم ہے جس کے بالواسطہ اثرات مرتب ہوں گے۔’

سعودی عرب نے کہا: ‘اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع میں تاخیری تصفیہ سے پہلے ایسا قدم امن کے قیام کے عمل کو بری طرح متاثر کرے گا۔’


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 1303 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp