مشرف کا مُکا


Khalid Khalil Syed Pic2

دیکھا جائے تو سیاست اور حماقت میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا ہے۔ سیاسی معاملات کے اتار چڑھائو اسی طرح رہنمائوں کی آمد و روانگی پر جلنا کڑھنا نہیں چاہیے۔ ویسے بھی اکثر بس اور ٹرک کے پیچھے لکھا ہوتا ہے جلنے والے کا منہ کالا۔ جیسے کچھ لوگ سابق صدر کے چلے جانے پر انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت ملنے کے غم میں اب تک گُھل رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ روانگی نوشتہ دیوار ہو۔ المختصر یہ ہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف بالاآخر ریاست کی حراست کو توڑ کر بیرون ملک کی آزاد فضائوں میں پہنچ چکے ہیں۔ اس ضمن میں بظاہر تو انہیں قانون و انصاف کی بدولت پاکستان سے باہر جانے کا موقع فراہم کیا گیا۔ تاہم اندورن خانہ کوئی گھن چکربھی بعید از قیاس نہیں ہے۔ یہ ہوتی ہے ایک کمانڈو کی شان کہ وہ نہ صرف اپنا ہدف کامیابی سے حاصل کرے بلکہ اس سلسلہ میں اپنا کام نہایت جرات، سرعت اور رازداری سے انجام دے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ سابق صدر کی کمر کے لیئے حکومت کو اپنے گھٹنے ٹیکنے پڑگئے۔

جنرل ریٹائرڈ کا نعرہ سب سے پہلے پاکستان ان کے زمانہ اقتدار میں بہت مقبول عام ہوا تھا۔ وہ اپنے اس نعرہ قلندر میں صادق ثابت ہوئے کہ انہوں نے آج سب سے پہلے پاکستان سے صحیح سلامت بچ کر بیرون ملک جانے کو ترجیع دی ہے۔ موصوف ان دنوں دوبئی میں ہیں۔ جہاں وہ اپنے مداحوں کے ساتھ ہشاش بشاش خوش گپیوں اور سیاسی سماجی سرگرمیوں میں مگن ہوگئے ہیں۔ وہاں پہنچتے کے ساتھ رونق میلوں میں ان کی پرجوش شرکت اس پیغام کی غماز ہے کہ حالت جنگ ہو یا بیماری کی کیفیت،کمانڈو کسی حال میں نہیں گبھراتا ہے۔ البتہ ماضی میں برادران اپنی جلاوطنی پر بوکھلا ضرور گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جہاں سابق صدر بیرون ملک جشن کے سماں میں مصروف ہیں وہاں ان کی بیرون ملک روانگی سے ناخوش،مختلف خاص وعام لوگ،سیاسی طبقے اور کچھ خدا واسطے کا بیر رکھنے والے افراد اپنی اپنی رائے کا پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا پر سوشل میڈیا پر کھلم کھلا اظہار کررہے ہیں۔ بعض بعض کی گریہ زاری میں تو شام غریباں منانے کا عکس نظر آرہاہے۔ ان میں کچھ وہ بھی ہیں جو احتجاج کی کال دے رہے ہیں۔ اس تناظر میں ہماری حکومت کی پوزیشن بڑی قابل رحم ہوچکی ہے۔

حکومتی وزرا اپنی اپنی وضاحت میں ایک ہی رٹ لگارہے ہیں کہ عدالت عظمیٰ کے حکم پر سابق صدر کا نام ای سی ایل سے نکالا گیا ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس کیس کا فیصلہ صادر کرتے ہوئے اپنے حکم نامہ میں حکومت کی اچھی خاصی کلاس لی ہے اور اس سلسلہ میں چشم کُشا ریمارکس دیئے گئے ہیں۔ یوں حکومت کے چودہ طبق روشن ہوئے۔ اور جھٹ پٹ سابق صدر پرویز مشرف کو پروانہ روانگی دے دیا گیا۔ اس دوران کی ساری کار گزاری استغاثہ والوں کو یاد دلا گئی ہے کہ مدعی لاکھ بر ا چاہے تو کیا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔

ایک بہت پرانی مثل ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ہے۔ اسی طرح کی ایک اور ضرب المثل ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ یعنی محبت یا لڑائی ایک جانب سے نہیں دونوں طرف سے ہوتی ہے۔ لہذ ا آج اگر یہ کہا جارہا ہے کہ حکومت نے سابق صدر پرویز مشرف کو علاج کے لیئے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی ہے۔ اس عمل میں جہاں قانون کی پاسداری کی گئی ہے۔ وہاں الفت کے تقاضے بھی پورے کئے گئے ہیں۔ اسی طرح سید پرویز مشرف کو ملک سے باہر بھیجنے میں حکومت کا اپنا نظریہ ضرورت بھی کار فرما نظر آتا ہے۔ کیونکہ اگر حکومت ریٹائرڈ جنرل کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دیتی تو کیا موجودہ حکومت کو رواں دواں رہنے کی اجازت ملتی۔۔۔؟ یعنی اب کئی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ جاں بخشی کس کی ہوئی؟ کیا وہ مُکا کام آیا؟ لہذا ہمارے وہ نوجوان جو عملی زندگی میں مسند اقتدار و سیاست پر تہلکہ مچانا چاہتے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ نت نئے سیاسی حربے سیکھنے کے لیئے ملک در ملک عالمی سطح کی سیاست پر گہری نظر رکھیں۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے پاکستان۔ ۔ ۔،کیونکہ ہے یہاں۔۔ سب کچھ ممکن ہے۔


Comments

FB Login Required - comments