سندھ کی بیٹی کی فریاد


یہ سندھ کی بیٹی ہے۔ سسی۔ ایک سسی وہ تھی جس نے اپنے پنوں کو ڈھونڈنے کیلئے پہاڑوں اور دشت کا سفر اختیار کیا تھا، اور ایک سسی یہ ہے جو کئی ماہ سے اپنے لاپتہ والد کی تلاش میں ہے۔ جسے نہ ڈاکو اٹھا لےگئے نہ بردہ فروش۔ پر انہی کی طرز پر وردی اور بے وردی لوگ اٹھا کر لے گئے۔ ڈاکوئوں چوروں کی طرح یہ لوگ ڈبل ڈور گاڑیوں پر مسلح سوار آتے ہیں اور نہتے لوگوں کو اٹھا کر غائب کر دیتے ہیں۔ اسی طرح سندھ کے قمبر شہداد کوٹ کی تحصیل شہر نصیرآباد میں پرائمری اسکول کے ہیڈماسٹر ہدایت اللہ لوہار کو اٹھا کر لے گئے۔ پرائمری ہیڈماسٹر ہدایت لوہار کو وہ اسوقت اٹھا کر لے گئے جب وہ اپنی کلاس لے رہے تھے۔

سترہ اپریل دو ہزار سترہ کو گورنمنٹ پرائمری اسکول نصیرآ باد میں کچھ ’’نامعلوم افراد‘‘ آکر ہیڈماسٹر ہدایت اللہ سے ملے اور انہیں کہا کہ وہ سرکاری افسر ہیں اور اسکول کا معائنہ کرنے آئے ہیں۔ ہیڈ ماسٹر نے اپنے ان مہمانوں کیلئےچائے کا آرڈر بھی دیا۔ وہ انہیں اسمبلی میدان میں لے کر گئے اور انہیں گرفتار کرلیا۔ مجھے انکی بیٹی سسی نے ٹیلیفون پر یہ بتاتے ہوئے کہا کہ اسکے والد کو اسکول کے بچوں اور ساتھی اساتذہ نے اسکول میں وارد ہوئے لوگوں کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہوئے دیکھا۔ جب اسکول کے بچوں اور انکے ساتھی اساتذہ نے اپنے ہیڈ ماسٹر، ساتھی اور استاد کے ساتھ میدان میں ہونیوالے سلوک پر احتجاج کیا تو انکو اسلحے کے زور پر خاموش کرا دیا گیا۔

سسی کا کہنا تھا کہ اسے اسکول والوں، جو کہ اس کے والد کی غیر رضاکارانہ گمشدگی کے چشم دید گواہ ہیں، نے معلوم کرنے پر بتایا کہ ’’نامعلوم مسلح افراد‘‘ نے فون کر کے انکی کمک کو پولیس کی وردی اور ’’سادہ لباس‘‘ مزید ’’نامعلوم افراد‘‘ منگوا لیے اور اسکے والد کو ڈبل ڈور گاڑی میں ڈال کر لاڑکانہ روڈ پر یہ جا وہ جا ۔
اپنے باپ کی گمشدگی پر سسی اور اسکے گھروالوں نے مقامی نصیر آباد پولیس سے رابطہ کیا لیکن پولیس نے انکی فریاد نہ سنی۔ البتہ انکے استفسار، غم و غصے پر ایس ایچ او نے ان سے کہا:’’تمہارے ابا کو ہم سے بھی بڑے پاور والے اٹھا کر لے گئے ہیں۔‘‘

انکی ایف آئی آر صرف تب کاٹی گئی جب انسانی حقوق کے وکیل کے ذریعے سسی نے سندھ ہائیکورٹ میں اپنے والد ہدایت اللہ لوہار کی غیر رضاکارانہ طور گمشدگی کے خلاف آئینی درخواست دائر کی اور عدالت نے گمشدہ ہیڈ ماسٹر ہدایت اللہ لوہار کے لواحقین کی طرف سے متعلقہ نصیر آباد پولیس کو ایف آئی آر داخل کرنے کا حکم دیا۔اپریل دو ہزار سترہ کی اس دوپہر سے لیکر آج تک ہدایت لوہار کا اپنے خاندان والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی انکی کسی بھی قسم کی خیریت یا مقام کا پتہ ہے کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔ ہیڈ ماسٹر ہدایت اللہ اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔ انکا بڑا بیٹا ذہنی طورپر چیلنج شدہ یا معذور ہے۔ غربت کےباوجود اس ہیڈ ماسٹر نے اپنی بیٹی سسی کو ایم بی اے تک تعلیم دلوائی۔

سسی کے والد ہی نہیں بلکہ محض انکے چھوٹے شہر نصیرآباد سمیت لاڑکانہ ضلع اور ڈویژن سے کئی پڑھے لکھے لوگ جواں کہ پیرمرد غائب کردیئے گئے۔ شہر نصیر آباد سے ہی پانچ اگست دو ہزار سترہ کو سندھی اردو کتابوں کا معروف ترجمہ نگار ننگر چنہ بھی اب تک غائب ہے۔ نگر چنہ نے سینکڑوں ادبی مضامین کے علاوہ عالمی اور سندھی سمیت برصغیر کے ادب سے سندھی اردو میں پندرہ کتابیں ترجمہ کی ہیں جو شائع ہوئی ہیں۔ول ڈیورانٹ ، شیخ ایاز، کرشن چندر اور کئی جنہیں فیض المصطفی با المعروف ننگرچںہ نے ترجمہ کیا۔ علمی اور ادبی طور پر ننگر چنہ ایک معروف نام ہے۔ لیکن غائب ہے۔ غیر رضاکارانہ جبری گمشدگی کے نفاذ کا شکار جو کہ خلاف انسانیت جرم مانا جاتا ہے۔
کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی سے سندھیا عباسی نے سول انجنیئرنگ میں کچھ روز قبل پوزیشن حاصل کی ہے لیکن سندھیا عباسی اور اسکے خاندان والے اسکی ایسی خوشی منانے سے قاصر ہیں۔ سندھیا کا گھر بھی کئی ماہ سے گہرے غم و اندوہ میں ڈوبا ہوا جب سے اسکا والد غائب کردیا گیا ہے۔ سندھیا کے والد انعام عباسی جنہیں سچل گوٹھ کراچی سے اٹھایا گیا تھا سندھی کتابوں کے معروف پبلشر ہیں۔ سندھی تو کیا مجھے اردو کے ایک معروف ناول نگار نے بتایا کہ انکا دوسرا ناول شائع ہونے کو تیار ہے لیکن انکا پبلشر (انعام عباسی) ہی غائب کردیا گیا ہے۔

اب بیٹی ہدایت اللہ لوہار کی ہو کہ انعام عباسی کی اپنے گھروالوں اور چھوٹے بہن بھائیوں سمیت سندھ کے پریس کلبوٖں کے باہر اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے انکی واپسی یا آزادی کیلئے مظاہرے کر رہی ہوتی ہے، ہر اس شخص اور ادارے کے پاس اپنی اپیل پہنچانے کی کوشش کرتی ہے جو سن سکتے ہیں یا نہیں بھی سن سکتے۔ کوئی مانے نہ مانے لیکن سندھ کے یہ پڑھے لکھے افراد کی گمشدگیاں جن میں سیاسی کارکن بھی ہیں تو اساتذہ بھی ہیں، سرکاری ملازم بھی، تو لکھاری، مترجم اور پبلشر بھی۔ خادم حسین آریجو بھی جسے حیدرآباد میں اپنے محکمہ خوراک کے دفتر جاتے ہوئے اٹھا کر غائب کردیا گیا۔ جو اب تک غائب ہے۔

کوئی مانے نہ مانے لیکن یہ سچ ہے کہ سندھ کے بہت سے لوگوں کو غائب کیا گیا ہے ۔شام بھٹائی نے تو ایک سسی کے دکھ لکھے تھے۔یہاں سو سے زیادہ سسیاں ہیں جو اپنے لا پتہ پیاروں کو ڈھونڈرہی ہیں۔ امرتا پریتم کی طرح کوئی ہے جو کہے اک روئی سی دھی سندھ دی۔

قلم تازہ: یہ کہ غائب شدہ شہریوں میں ایک اور نام کا اضافہ یہ ہوا کہ لاہور سے سول سوسائٹی کا سرگرم کارکن اور برصغیر میں امن کیلے کام کرنے والے رضا خان کو بھی اٹھا کر غائب کردیا گیا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔