جسم کی صلیب پر لٹکائی گئی غیرت


ramish-fatimaایک چھوٹی سی الجھن ہے جسے سلجھانے میں آپ ہی مدد کر دیں، غلطی اس نے کی جس نے عزت اور غیرت کا تصور عورت ذات تک محدود کر دیا یا کوتاہ نظری اس کی ہے جو اس عزت اور غیرت کے نام پہ اپنے سے جڑی کسی بھی عورت کو اپنی ملکیت سمجھ بیٹھتا ہے؟ یعنی عورت عزت بھی ہے غیرت بھی، عزت اور غیرت کا مطلب یہ ہوا کہ اب یہ ہماری بےدام کی غلام ہے کہ بس جی حضوری کرے؟ اس عزت اور غیرت کے تصور سے جڑنے کے بعد ایک عورت تمام تر کمزوری کے باوجود اس قدر طاقتور ہو گئی ہے کہ اس کی زندگی سے جڑے تمام مرد ، بھائی ، باپ شوہر، خاندان ، سماج ، محبوب سب کی عزت اس کے ہاتھوں بات بات پہ پامال ہوتی رہتی ہے۔ اگر بیٹی اپنی مرضی سے شادی کر لے تو عزت اور غیرت پہ حرف آ جائے، وہی بیٹی آپ کی مرضی سے کی گئی شادی روز کی مار پیٹ کے باوجود نبھانے پہ مجبور ہے کیونکہ اب آپ کی عزت اور غیرت کو یہ گوارا ہے کہ وہ مار کھا لے مگر واپس نا آئے؟ واہ بہن ان پڑھ رہ جائے تو آپ کی عزت اور غیرت مطمئن ہے، اس کی خواہشیں ادھوری رہ جائیں تو کسی چیز پہ حرف نہیں آتا۔ لیکن جب وہ پڑھنے جائے تو آپ کسی مشکل میں اس کا ساتھ نہیں نبھائیں گے کیونکہ یہ آپ کی عزت کو گوارا نہیں؟

سماج کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں تو ایک بار اپنی بہن کو اسی کی نظروں سے بھی دیکھ لیں کہ آخر کو ماں جائی ہے۔ محبوبہ کے ساتھ وقت گزار سکتے ہیں، وہی محبوبہ ایک زندگی بھر کا ساتھ مانگ لے تو آپ کی مردانگی دو سیکنڈ میں رفوچکر ہو جاتی ہے آخر تب آپ کی عزت اور غیرت یہ ساتھ نبھانے سے کیوں گریز کرتی ہے؟ عزت اور غیرت کا یہ عالم ہے کہ اگر کسی عورت نے ہم سے بات بھی کر لی تو ہم تمام جہانوں میں یہی مشہور کریں گے کہ مر رہی ہے شادی کرنے کے لیے اور غیرت اتنی نہیں ہے کہ کسی خاتون کی غیر موجودگی میں بھی ان کا ذکر عزت سے کر سکیں؟ اگر تھوڑی دیر کے لئےآپ اپنا یہ عزت اور غیرت کا تصور ایک طرف رکھیں تو اس کے نیچے دبی جیتی جاگتی سانس لیتی عورت موجود ہے جس کی کچھ خواہشیں ہیں، کچھ ارمان ہیں ۔ اسے اپنی زندگی اپنے طریقے سے گزارنے کا پورا حق حاصل ہے۔پڑھنا چاہتی ہے، پڑھنے دیں، آپ کی مردانگی اس بات میں بھی تو ہو سکتی ہے کہ پورے گاوں میں ایک آپ کی بہن ہی ہے جس نے تعلیم حاصل کی؟

آپ کی عزت اس بات میں بھی تو ہونی چاہیئے کہ آپ کی بیٹی نے جیون ساتھی چنا ہے اور آپ اس کے ہر فیصلے میں اس کے ساتھ ہیں ۔ آپ کی عزت بند کمرے کی محبتوں کو دنیا کے سامنے اپنانے میں بھی ہو سکتی ہے نا؟ آپ کی غیرت کا تقاضا ہونا چاہیئے نا کہ کسی خاتون ساتھی کی غیر موجودگی میں اس کی ذات کو موضوع بنا کر چسکے نا لئے جائیں؟ میرے بال کاٹنے سے لے کر بھنویں بنوانے تک، میرے لباس سے میرے قہقہے تک، میرے ہاتھوں سے لے کر میرے موبائل تک ہر چیز کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار یا اسے زیرِ بحث لانے کا اختیار آپ کو سونپ دیا گیا ہے؟ ٹھیک ہے عالی مقام آپ عقلِ کُل کے مالک ہیں مگر صاحب مجھ سے جڑے عزت اور غیرت کے تصور پہ اگرنظرِ ثانی یا نظرِ ثالث فرمائیں اور اسے تبدیل کر سکیں تو اچھا نہیں ہو گا؟

تھوڑی گنجائش پیدا کریں کہ میں بھی کُھل کر سانس لے سکوں۔ کیوں معاشرے کی روایات میری ذات سے زیادہ اہم ہو جاتی ہیں؟ یہ کیسی غیرت ہے جو میری سانسوں پہ حاوی ہے؟ یہ کیسی عزت ہے جو مجھے جینے کا حق نہیں دیتی؟ عزت اور غیرت کا مطلب یہ کیسے ہو گیا کہ میرے ہاتھ میں چاہے قلم آئے، چاہے میرے ساتھی کا ہاتھ آئے دونوں صورتوں میں سب کچھ پامال ہو جائے؟ آپ کی عزت اور غیرت کی زنجیریں پہنے رقص کرتی رہوں اور آپ تماشائی بنے رہیں تو سب ٹھیک ہے کہ رقص زنجیر پہن کر بھی کیا کرتے ہیں لیکن صاحب بسنتی کا رقص کرنا ہی ٹھہرا تو کہیں میری مرضی کی دھن بھی بجنے دیں گے تو کیا حرج ہے؟ کوئی ملہار ہو چاہت کا تو کیا حرج ہے؟ کوئی تال زمانے کی روایتوں سے ہٹ کر ہو تو کیا حرج ہے؟ اگر اب آپ بھی سوچ بدل لیں تو کیا حرج ہے؟

اور جاتے جاتے تسنیم عابدی کی “رقصِ فسوں” پڑھ لیں تو بھی کوئی حرج نہیں

میں جو مشرق کے شبستانوں میں مصلوب ہوئی

میں جو میخانہ مغرب سے بھی منسوب ہوئی

پہلے تقد یس کے ناموں پہ مرا سودا ہوا

اپنی حرمت کا میں تاوان ادا کرتی رہی

اب بھی بازارِتصرف میں بہت سستی ہوں

اب بھی بکتی ہوں تو قیمت بھی مجھے ملتی نہیں

میں وہ بازارِ ضرورت کی ہوں جنسِ مطلوب

حبس ِ بیجا میں جسے رکھتا ہے اس کا محبوب

جسم ہی جسم بنائ گئ تصویر مری

خواب در خواب ہی لکھی گئ تعبیر مری

حلقہ در حلقہ بدلتی رہی زنجیر مری

اک خرابے میں ہی ہوتی رہی تعمیر مری

دائرہ وار مرا رقصِ فسوں جاری ہے

ردِ تشکیل و تمنائے حزیں طاری ہے”


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “جسم کی صلیب پر لٹکائی گئی غیرت

  • 21-03-2016 at 1:18 am
    Permalink

    Wonderfully written

  • 21-03-2016 at 3:33 am
    Permalink

    واہ رامش فاطمہ صاحبہ واہ آپ نےبالکل سچ اور بہتر طریقہ سے عورت کے درد کو بیان کیا ہے -مگر اس کا ذمہ دار سماج ہے وہی سماج جس کا ایک طاقتور حصہ عورت بھی ہے-

  • 21-03-2016 at 8:35 am
    Permalink

    bohat aala likhti ho…zabardast

  • 25-03-2016 at 8:01 pm
    Permalink

    بہت عمدہ

  • 03-05-2016 at 7:27 pm
    Permalink

    شکریہ۔ یہ کالج کے لڑکوں‌کا پسندیدہ مشغلہ تھا کہ کینٹین میں‌ بیٹھ جاتے تھے اور آتے جاتے لڑکیوں‌ پر جملے کستے اور ان کے بارے میں‌ گفت و شنید کرتے تھے۔ یہ مستقبل کے ڈاکٹر تھے۔ باقی قوم کا حال سوچئیے۔ یعنی کہ آپ کے ڈاکٹر تک اتنے نالائق ہیں‌ کہ ان کو جنسی ہراسگی کے بارے میں‌ ایجوکیشن نہیں‌ ہے۔ یہ لوگ کالج سے نکل کر باقی دنیا کو کیا سکھائیں‌گے؟ یہ اپنے گھروں‌میں‌کیسے شوہر اور باپ بنیں‌گے؟ اگر ہم غلط رویوں‌ کے خلاف آواز نہیں‌ اٹھائیں‌گے تو پھر ہم کیسے توقع کریں گے کہ مستقبل میں‌ کچھ بہتری آئے گی؟

Comments are closed.