جنسی ہراسانی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی شکست دے دی


جنسی ہراساں کرنے سے متعلق سماجی مہم ’می ٹو‘ دنیا کی بااثر ترین شخصیات پر بازی لے گئی۔

ٹائم میگزین نے اس بار کسی فرد کو نہیں سماجی مہم ’می ٹو‘ کو سال 2017 کی با اثر ترین شخصیت قرار دے دیا۔

میگزین نے می ٹو مہم میں حصہ لینے والی خواتین کو اپنے ذاتی واقعات شیئر کرنے پر خاموشی توڑنے والی یعنی ’سکوت شکن‘ قرار دیا۔

مہم کا آغاز10 سال پہلے سماجی کارکن ترانا برکے نے کیا تھا، لیکن می ٹو مہم کو شہرت اس وقت ملی جب اداکارہ الیسا میلانو نے ہیش ٹیگ می ٹو پر اپنا واقعہ شیئر کیا۔

ہالی وڈ پروڈیوسر ہاروے وائنسٹائن کے خلاف جنسی ہراساں کیے جانے کے بعد متعدد ہائی پروفائل کیس بھی سامنے آئے۔

سال کی با اثر ترین شخصیات میں امریکی صدر ٹرمپ دوسرے اور چینی صدر شی جن پنگ تیسرے نمبر پر رہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔