برطانوی ماڈل کرسٹائن کیلر کے حلقے میں ایوب خان بھی شامل تھے


 

1960 کے عشرے میں اہم سیاسی شخصیات کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے مشہور اور متنازع ہونے والی معروف برطانوی ماڈل کرسٹین کیلر 75 سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔

برطانیہ کے سیاسی منظر نامے پر کرسٹین کیلر کا نام 1963 میں اس وقت نمودار ہوا تھا جب کنزیرویٹو پارٹی کی حکومت کے اہم وزیر جون پروفیومو اور 19 سالہ ماڈل کا معاشقہ ذرائع ابلاغ کی زینت بنا، اور پھر یہی سکینڈل وزیراعظم میکملن کی حکومت کو لے ڈوبا۔

اس وقت مغرب اور سویت یونین کے درمیان سرد جنگ بھی اپنے عروج پر تھی اور اس خبر نے برطانوی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی کہ جس وقت کرسٹین کیلر اور کابینہ کے اہم وزیر جون پروفیومو کے تعلقات کی بات عوامی اخبارات میں خوب اچھالی جا رہی تھی، عین اس وقت کرسٹین برطانیہ میں تعینات ایک روسی سفارتکار کے ساتھ بھی ہم بستری کر رہی تھیں۔ اور کرسٹین نے یہی بات بعد میں تسلیم بھی کی۔

نہ صرف روسی سفارتکار، بلکہ نوجوان برطانوی ماڈل کو ان دنوں دنیا کی کئی اہم شخصیات تک رسائی حاصل تھی، جن میں پاکستان کے اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ایوب خان کا بھی نام آتا ہے۔

برطانیہ کی مشہور فوجی اکیڈمی سینڈہرسٹ سے فارغ التحصیل جنرل ایوب خان اکثر لندن آیا کرتے تھے اور انھیں بکنگہم شائر میں واقع کلیوڈن کی پُرتعیش جاگیر پر ٹھہرایا جاتا تھا۔

کرسٹین کیلر اور ایوب خان کی ملاقات بھی اسی جاگیر پر واقع سوئمنگ پول پر ہوئی تھی۔ کرسٹین خوبرو پاکستان جنرل سے اتنی متاثر ہوئیں کہ بعد میں ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ایوب خان واقعی بہت وجیہہ اور جاذب نظر شخصیت کے حامل تھے۔

بائیں بازو کے سرگرم رہنما اور معروف پاکستانی نژاد برطانوی ادیب طارق علی کہتے ہیں کہ جنرل ایوب خان مغرب کے سامنے خود کو ایک دلفریب اور پرکشش شخصیت کے طور پر پیش کرنے میں اس قدر کامیاب رہے کہ کرسٹین کیلر سے لیکر ذرائع ابلاغ کی معروف شخصیات بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔

جون پروفیومو اس وقت برطانیہ کے سیاسی افق پر نمودار ہونے والے سب سے بڑے سیاستدان سمجھے جاتے تھے

پاکستان کے موقر انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق سوئمنگ پول پر منعقد ہونے والی پارٹی میں جنرل ایوب خان مدعو نہیں تھے بلکہ انھیں برطانیہ میں پاکسان کے ہائی کمشنر جنرل یوسف آفریدی اپنے ساتھ بن بلائے لے گئے تھے۔ اس دن بھی حسب معمول کرسٹین کیلر اور ان کی ساتھی لڑکیاں سوئمنگ پول میں برہنہ تیراکی کر رہی تھیں۔

اس واقعے کے بعد ذرائع ابلاغ میں چٹی پٹی کہانیاں شائع ہوئیں جن میں لوگوں نے پوچھا کہ آخر جنرل ایوب خان اس پارٹی میں کیا کر رہے تھے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ وہ ‘ایک غلط وقت پر غلط جگہ پر موجود تھے‘۔

اس حوالے سے اخبارات میں جاری بحث آخر اس وقت تھمی جب ڈاکٹر سٹیفن وارڈ نے خود کشی کر لی۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر سٹیفن وارڈ ہی وہ شخص تھے جنھوں نے جون پروفیومو کو کرسٹین کیلر سے متعارف کرایا تھا۔

وزیر برائے حالتِ جنگ جون پروفیومو اور اس کے ساتھ ساتھ روسی سفارتکار کے ساتھ اس وقت مبینہ جنسی تعلقات کی خبروں نے کرسٹین کیلر کو برطانیہ کے عوامی ذرائع ابلاغ کی متنازع ترین خاتون بنا دیا اور جاسوسی اور جسم فروشی کے الزامات کے بعد یہ معاملہ ایک ڈرامائی عدالتی کارروائی تک جا پہنچا۔

لیکن کم عمر کرسٹین اتنی نادان تھیں کہ انھیں معلوم ہی نہیں ہوا کہ کلیوڈن کے سوئمنگ پول پر مشہور شخصیات کے ساتھ تیراکی سے جنم لینے والا سکینڈل برطانوی اشرافیہ اور اسٹیلشمنٹ کے لیے کتنا بڑا درد سر بن چکا ہے اور اس تنازع میں اسٹیبلشمنٹ کا اصل مقصد اپنی ساکھ کو بچانا ہے۔ 

کرسٹائن کیلر برسوں بعد کلائیوڈن کی جاگیر کے باہر

جون پروفیومو کی کرسٹین سے پہلی ملاقات کلیوڈن کے سوئمنگ پول ہی میں ہوئی تھی جہاں وہ کچھ دیگر جوان خواتین کے ساتھ برہنہ تیراکی کر رہی تھیں۔ اس وقت جون پروفیومو برطانیہ کے وزیر برائے حالتِ جنگ تھے۔

اگرچہ مذکورہ وزیر اس وقت بھی شادی شدہ تھے لیکن 8 جولائی 1961 کی پہلی ملاقات کے بعد بھی وہ مسلسل کرسٹین کے ساتھ رابطے میں رہے اور ایک مختصر عرصے تک ان کا معاشقہ بھی ہوا۔

سوئمنگ پول کے کنارے پارٹی میں کرسٹین کیلر کی ملاقات جنرل ایوب خان کے علاوہ سوویت سفارتخانے میں تعینات نائب نیول اتاشی، یوجین اینانوو سے بھی ہوئی۔

جلد ہی کرسٹین کیلر کے بارے میں شکوک میں اضافہ ہوگیا کہ وہ سوویت یونین کے لیے جاسوسی کر رہی تھیں اور جون پروفیومو سے برطانوی راز چرا کر یوجین اینانوو کو دی رہی تھیں۔

چنانچہ حکمران کنزرویٹو پارٹی پر سیاسی دباؤ میں بہت اضافہ ہوگیا اور اس معاملے کو برطانیہ کی سکیورٹی کے لیے خطرہ سمجتے ہوئے لیبر پارٹی نے ایوان میں یہ نکتہ اٹھایا کہ کرسٹین کیلر کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے جون پروفیونو کی شخصیت متنازعہ ہو چکی ہے اس لیے انھیں برطرف کیا جائے۔

ایوان میں مسٹر پروفیومو نے اس الزام سے انکار کیا کہ ان کے کرسٹین کیلر کے ساتھ جنسی تعلقات رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں اور کرسٹین محض دوست تھے اور مِس کیلر اور میرے درمیان کسی قسم کی کوئی غیر مناسب یا ناشائستہ بات نہیں ہوئی‘۔

کرسٹین کیلر کے بقول ایوب خان بہت وجیہہ شخصیت تھے

تاہم بعد میں 5 جون کو مسٹر پروفیومو نے ایوان میں اعتراف کر لیا کہ انھوں نے جھوٹ بولا تھا، اصل میں کرسٹین کیلر اور ان کے درمیان جنسی تعلق قائم ہوا تھا۔ اور اسی تقریر کے بعد انھوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ آنے والے انتخابات میں لیبر پارٹی نے اس سکینڈل کا خوب سیاسی فائدہ اٹھایا اور 1964 کے عام انتخابات میں اس نے کنزرویٹو پارٹی کو شکست دے دی۔

اس سے قبل کرسٹین کیلر کو اپنے دوسرے مداح ڈاکٹر سٹیفن وارڈ کی پراسرار موت کے مقدمے میں قید کی سزا سنائی جا چکی تھی۔ جیل سے رہائی کے بعد کرسٹین کیلر نے اپنی باقی زندگی لوگوں کی نظروں سے دور گزاری اور منگل کی رات ان کے انتقال سے پہلے لوگ انہیں تقریباً بھول چکے تھے۔

کرسٹین کیلر مغربی لندن کے علاقے اکسبرج میں 22 فروری 1942 کو پیدا ہوئیں اور وہ ابھی بچی ہی تھیں کہ ان کے والد کرسٹین کو اپنی والدہ کے ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ والد کے چلے جانے کے بعد کرسٹین کی والدہ نے اپنے نئے ساتھی ایڈروڈ ہیوس کے ساتھ مل کر ونڈزر کے علاقے میں ایک دو کمرے کے مکان میں پناہ لے لی جو دراصل پرانی ریل گاڑی کی دو بوگیوں کو جوڑ کر بنایا گیا تھا۔ کرسٹین ابھی تیرہ چودہ سال کی تھیں کہ انھیں ان کی والدہ کے بوائے فرینڈ اور اور اس کے ایک دوست نے ریپ کر دیا۔

کم عمری میں کرسٹین کیلر کو ریپ کر دیا گیا

اپنی والدہ کے انتقال پر کرسٹین کیلر کے 42 سالہ بیٹے سیمور پلیٹ کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ حالات کی ستم طریفی کا نشانہ بنیں اور اگر ان کی والدہ کا سکینڈل آج کے دور میں ہوتا تو وہ کسی مشہور ٹی وی شو کی میزبان ہوتیں۔

سیمور پلیٹ کا مزید کہنا تھا کہ ان کی والدہ نے اپنے حالات سے دور بھاگنے کی کوشش کی ’لیکن میرا خیال ہے کہ وہ حالات کے شکنجے سے نکل نہیں سکیں۔ اور یہی ان کی زندگی کا المیہ تھا‘۔ وہ مشہور شخصیت کرسٹین کیلر کی شخصیت کے حصار سے باہر نہیں نکل سکیں۔

 

Cliveden-swimming-pool

 

 

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 1302 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp