قندیل بلوچ میں ایسا کیا ہے؟


husnain jamal (3)آج کل قندیل بلوچ سوشل میڈیا کے طفیل بہت مشہور ہو چکی ہیں۔ شاہد آفریدی کے میچ جیتنے پر انہوں نے ایک بولڈ اعلان کیا اور اس کے بعد سے اب تک ہر تیسرے بندے کا موضوع گفت و گو وہی ہیں۔  قندیل بلوچ کون ہیں، ان کی عمر کیا ہے، ان کے والد کون تھے، وہ کہاں پیدا ہوئیں، انہوں نے تعلیم کہاں سے حاصل کی، کس مضمون میں حاصل کی، ان سب سوالوں کے جواب آپ ڈھونڈیے، آس پاس مختلف جگہوں پر جتنے منہ اتنی باتیں کے حساب سے جوابات مل جائیں گے، بلکہ جیسا منہ، ویسی بات کا ماحول زیادہ گرم ملے گا۔

فقیر نے محترمہ کو ان کے فیس بک پیج سے جانا۔ مہربانوں نے ان کے بیانات لاحول پڑھ کر شئیر کیے ہوئے تھے، وہ دیکھ دیکھ کر سوچتا رہا کہ آج اسی موضوع پر بات کر لی جائے۔

دراصل ہم سب قندیل بلوچ ہیں!

خود نمائی کا ایک ننھا سا جذبہ جو ہم سب میں موجود ہے، وہ جذبہ قندیل بلوچ ہے۔ اگر آپ ان کا کوئی بیان یا کوئی تصویر یا کوئی ویڈیو شئیر کرتے ہیں تو اس کا مقصد کیا ہے؟

دوسرے لوگ ثواب حاصل کریں، اس پر گفت گو کریں، ان خاتون کو گالیاں دیں، ذہنی تلذذ کی فضا میں جا بیٹھیں، تمسخر اڑائیں، افسوس کریں یا باقاعدہ غصے میں آ کر فحش کلامی کریں؟ ظاہری بات ہے آپ ایک خبر لوگوں تک پہنچا رہے ہیں تو کس امید پر، آخر کوئی مقصد تو اس کے پیچھے کارفرما ہو گا۔ تو وہ مقصد بہرحال خود نمائی ہے اور وہی مقصد “دیکھ لو، ہم سب جانتے ہیں” بھی ہو سکتا ہے۔

01اب دوسرے رخ کی طرف تشریف لائیے۔ انٹرنیٹ کی مثال عین اس دنیا میں موجود رستوں کی سی ہے۔ آپ کو اچھی طرح علم ہے کہ فلاں چوک سے سیدھے جائیں گے تو کالج آئے گا، بائیں مڑتے ہیں تو مسجد آتی ہے، دائیں مڑیں تو کھیل کا میدان ہے۔ وقت عین نماز کا ہے، کیمسٹری کا پرچہ بھی دینا ہے اور محلہ الیون کا میچ بھی ہے۔ آپ کے قدم وہیں جائیں گے جہاں آپ جانا چاہیں گے۔ اب اگر آپ کھیل کود کے لیے بہت اتاولے رہتے ہیں تو پرچے کو گولی مار، نماز قضا کر، آپ پہنچ جائیں گے کھیل کے میدان میں، شام ڈھلے جب آئیں گے تو باقی دو معاملات کا وقت بہرحال گزر چکا ہو گا۔

یہی معاملہ فیس بک یا انٹرنیٹ کا ہے۔ ٹھیک ہے یہاں آپ دستک دئیے بغیر کسی کے بھی گھر (پروفائل یا ویب سائیٹ) میں داخل ہو سکتے ہیں لیکن اس حد تک کہ جتنا اس شخص یا ادارے نے آپ کو اجازت دی ہے۔ باقی آپ کی مرضی پر ہے، ایک کلک کیجیے اور جہاں دل چاہے پہنچ جائیے۔

انٹرنیٹ پر باقاعدہ پورن انڈسٹری ہے اور اسے دیکھنے والے بھی بڑی تعداد میں ہیں۔ اسی انٹرنیٹ پر دل و دماغ کی تطہیر کرنے کی مدعی بے شمار مذاہب اور مسالک (Cults) کی ویب سائیٹس بھی ہیں۔ سب کی طرف سے دعوت عام ہے۔ چلتی وہی ہے جو آپ کا دماغ کہتا ہے۔ جو پیج لائک کریں گے وہی مال آپ کے نیوز فیڈ میں آئے گا، جس ویب سائیٹ کا ایڈریس ٹائپ کیجیے گا وہیں پہنچیں گے۔ یعنی، کل ملا کر آپ وہی دیکھیں گے جو آپ چاہیں گے۔

پھر کچھ مدت سے چند لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے فیس بک پر نازیبا اشتہار نظر آتے ہیں۔ ان تمام پارسا دوستوں کی خدمت میں اطلاعاً عرض ہے کہ فیس بک آپ کی وزٹ کردہ سائٹس اور آپ کے پیج کلکس کے رجحانات دیکھ کر طے کرتا ہے کہ آپ کو کس قسم کے اشتہار دکھانے ہیں۔ پروانہ جدھر جدھر کا رخ کرے گا ان تمام مقامات آہ و فغاں کی ٹریسنگ کوکیز کی صورت میں آپ کے کمپیوٹر پر موجود ہو گی اور فیس بک اور دوسری سوشل میڈیا کی سائٹس وہیں سے معلومات لے کر آپ کو آپ کی دل چسپی کی چیزیں دکھائیں گے۔

تو اب قندیل بی بی کے معاملے کی طرف آتے ہیں۔ پہلا سوال تو وہی ہے کہ بھئی آپ اس کوچے کا رخ ہی کیوں کرتے ہیں کہ جہاں آپ کو بار بار توبہ تلا کرنے کی 02حاجت ہوتی ہے۔ اچھا اگر بالفرض جاتے ہیں اور آپ کے نزدیک یہ گناہ ہے تو اس پر تبصرہ کر کے دوسرے لوگوں کو اس گناہ کی طرف جانے پر کیوں راغب کرتے ہیں۔ ساتھ ساتھ آپ برائی کی تشہیر بھی کر رہے ہیں۔ آپ کے اس رویے کی وجہ سے قندیل بلوچ کے فیس بک پیج پر اس وقت لاکھوں کی تعداد میں فین موجود ہیں۔ واضح رہے کہ فین سے مراد آپ اور ہم جیسے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کے پیج کو لائک کیا ہوا ہے۔ جہاں قندیل بی بی کوئی بیان داغتی ہیں، پوری قوم تفریح لینا شروع ہو جاتی ہے، گرم جوشی سے ٹوئیٹس چلتے ہیں، فیس بک پر گھمسان کے مباحثے ہوتے ہیں اور اب تو نوبت بہ ایں جا رسید کہ باقاعدہ بھارتی دوستوں اور فن کاروں نے بھی ان کا نوٹس لینا شروع کر دیا ہے۔ اگر آپ اس سب سے چڑتے ہیں، اور آپ ان کی ویڈیوز بھی دیکھتے ہیں تو ان کی شہرت میں ایک سیڑھی آپ بھی ہیں۔ وہ بھی اپنے لوگوں کا مزاج اور یہ بات جانتی ہیں کہ بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا۔

اس مسئلے کا سادہ ترین حل یہ ہے کہ آپ ان کی ویڈیوز دیکھنا، ان کے سوشل پیج پر جانا اور ان کے بیانات پر تبصرہ کرنا چھوڑ دیجیے، آپ سکون میں آ جائیں گے۔

ایک اور پریشانی یہ دیکھتے ہیں کہ چند مہربان ان کی شکل میں ملک کا وقار مجروح ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ بھئی، اس وقار کے ساتھ کبھی آپ نے وطن عزیز میں بننے والی پشتو یا پنجابی فلمیں دیکھیں، کبھی کسی تھیٹر میں چلنے والا سٹیج ڈرامہ دیکھنے کا اتفاق ہوا؟ مجرے تو اب بھی فخریہ طور پر آپ کی مردانہ شان اور کلچر کا حصہ ہیں، وہ سب دیکھتے وقت وقار شریف کہاں گھاس کھودنے گئے ہوتے ہیں؟ وقار وہاں مجروح نہیں ہوتا ہے جہاں تماش بین اپنے ذوق کی تسکین کے لیے چند پیسوں کے عوض کسی ضرورت مند کو نچائیں۔ اس کو فحش اشارے کریں اور پھر ناقابل تشریح و فہم حرکات کریں، وہ مجرا صدیوں سے شکل بدل بدل کر آپ کے یہاں موجود ہے اور ناک یہاں کٹتی ہے جہاں ایک لڑکی اپنے پیج پر اپنی تشہیر کے لیے اداکاری کر رہی ہے۔ بھئی آپ جائیں ہی مت۔ آپ نہیں دیکھیں گے تو ایک ایک کر کے تمام پیج لائکس ختم ہو جائیں گے اور قندیل بی بی کوئی اور راستہ دیکھیں گی۔

03سوشل میڈیا کی اپنی حرکیات ہیں۔ یہاں شہرت حاصل کرنا نہایت آسان ہے، اگر آپ اپنے فن میں کامل ہیں تو ہم خیال لوگ ڈھونڈنا آپ کے لیے مشکل نہیں۔ یہ ایک بازار ہے جہاں آپ کو ہر طرح کا مال افراط سے ملتا ہے۔ سوچ یہاں آپ کو ملتی ہے، خیال یہاں آپ کو ملتا ہے، نظرئیے یہاں آپ کو ملتے ہیں، انہی نظریوں کے خلاف بولنے والے بھی یہیں آپ دیکھیں گے۔ رند بھی یہیں ہوں گے، شیخ بھی اسی کوچے میں رقصاں ہوں گے، خلوت آپ کو میسر ہے، جلوت آپ کے بس میں ہے، جہاں چاہے رخ کیجیے۔

اور ذرا ایک بار گردن جھکائیے، کیا تصاویر یار میں آپ کو سنی لیون، پونم پانڈے اور متھیرا وغیرہ نظر نہیں آتیں، اگر آتی ہیں تو بھیا پھر قندیل بلوچ پر اعتراض مقام فکر ہے!

کالم کی دم: اگر آپ واقعی سنی لیون، پونم پانڈے اور متھیرا کو نہیں جانتے تو یہ بھی ایک مقام فکر ہے۔۔۔ نیز یہ کہ اس مقام کی فضا کچھ اور ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 146 posts and counting.See all posts by husnain

12 thoughts on “قندیل بلوچ میں ایسا کیا ہے؟

  • 20-03-2016 at 11:00 pm
    Permalink

    ھاھاھاھاھا واہ بھئی واہ کیا کمال لکھا ہے جناب!

  • 20-03-2016 at 11:05 pm
    Permalink

    قندیل بلوچ میں ایسا کیا نہیں ہے؟…. ‘مقامے فکر’ ہے کہ میں ان میں سے ایک کو نہیں جانتا.
    🙂

  • 20-03-2016 at 11:26 pm
    Permalink

    باس، یہاں آزادی نسواں پہ ایک کالم بنتا ہے.
    🙂

  • 20-03-2016 at 11:27 pm
    Permalink

    تصحیح: آزادی اے نسواں

  • 21-03-2016 at 6:41 am
    Permalink

    بہترین لکھا.. تمام نقاط سے اتفاق کرتی ہوں

  • 21-03-2016 at 7:08 am
    Permalink

    طوائف
    شہر کے روگی
    اپنی غلاظت پھینک کر اس پر
    پکار رہے ہیں
    گندی عورت

  • 21-03-2016 at 11:15 am
    Permalink

    بہت خوب ۔بجا کہا آپ نے

  • 21-03-2016 at 12:02 pm
    Permalink

    بہترین تحریر۔

  • 21-03-2016 at 2:43 pm
    Permalink

    اب ہم دعائے ہدایت ہی کر سکتے ہیں ‎:-D‎

  • 21-03-2016 at 3:58 pm
    Permalink

    بات آپ کی ویسے درست ہے۔ طریقہ یہی ہے کہ اس قسم کے پبلسٹی کے بھوکے لوگوں کو خواہ ان میں لڑکیاں ہیں یا مرد حضرات، انہیں نظرانداز کرنا ہی بہتر طریقہ ہے۔

  • 21-03-2016 at 4:08 pm
    Permalink

    شکریہ ، مضمون کے آخر میں تین اور نام جمع کرنے کا، میرے سمیت بہتوں کا بھلا ہو جائے گا۔ ھاھاھا لو ل لول لول۔

  • 22-03-2016 at 9:59 am
    Permalink

    یعنی یہ اس قدر اہم ایشو تھا کہ اس پر لکھا جاتا؟ آپ کے اس آرٹیکل کے طفیل یعنی اسے پڑھنے کے بعد میں نے تلاش اورمعلوم کیا کہ یہ سب ہے کیا تھا۔sheer waste of time and energy

Comments are closed.