عمران خان کو عدالت میں پیش ہونا ناپسند ہے


عمران خان ایک عظیم سیاسی رہنما ہیں۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ اسلام کے نظام انصاف کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اسلام کے نظام انصاف میں خوبی ہے کہ خلیفۃ المومنین کو بھی ایک عام آدمی کی طرح عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ عمران خان عدالتوں کا بے پناہ احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریروں میں ہزاروں بار مطالبہ کیا کہ نواز شریف سمیت حکمرانوں کو عدالت میں لایا جائے۔ ان سے کڑا حساب لیا جائے۔

عمران خان خود بتا چکے ہیں کہ اکتوبر 2016 میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ان سے رابطہ کر کے کہا کہ وہ پانامہ کا معاملہ عدالت میں لائیں۔ ان سے انصاف کیا جائے گا۔ عمران خان اس پر بہت خوش ہوئے۔ وہ باقاعدگی سے عدالت میں پیش ہوتے رہے جہاں ملک کا منتخب وزیر اعظم کٹہرے میں کھڑا تھا اور عمران خان انصاف مانگ رہے تھے۔ ایک موقع پر عمران خان نے سپریم کورٹ میں یہ بھی کہا کہ وہ اپوزیشن کے رہنما ہیں۔ ان کا کام الزام لگانا ہے۔ ثبوت ڈھونڈنا یا پیش کرنا ان کا کام نہیں۔ 28 جولائی 2017ء کو عدالت نے نواز شریف کو بطور وزیر اعظم نااہل قرار دے دیا تو عمران خان نے بجا طور پر یوم تشکر منایا اور قوم کو بتایا کہ انصاف کی اس عظیم فتح کا سہرا ان کے سر باندھا جائے۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمیں عمران خان کو ایسی کسی عدالت میں پیش ہونا پسند نہیں جہاں ان پر مقدمہ چل رہا ہو۔ عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے 31 اگست 2014 کی رات دھرنا مظاہریں کی قیادت کرتے ہوئے وزیر اعظم ہاؤس کی طرف پیش قدمی کی۔ اگلے روز صبح ان کے کارکنوں نے پاکستان عوامی تحریک کے رہنما طاہر القادری کے کارکنوں کے ساتھ مل کر پاکستان ٹیلی ویژن سٹیشن پر حملہ کر کے تھوڑ پھوڑ کی۔ قومی نشریاتی ادارے کی نشریات روکنا پڑیں۔

اس واقعے پر عمران خان، طاہر القادری اور ان کے کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا گیا جو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ تین برس تک عمران خان عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ انہیں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا۔ بالآخر انہوں نے عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا۔ آج عدالت میں عمران کی تیسری پیشی تھی۔

آج انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمیں عمران خان کی عبوری ضمانت میں گیارہ دسمبر تک توسیع کردی جبکہ عمران خان نے مقدمے میں عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا۔ عمران خان کے خلاف پولیس افسر عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند کر رہے ہیں۔

عمران خان کے وکیل بابراعوان ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے کہ شہریوں کے جمہوری حقوق کے لئے جدوجہد دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی۔ عدالت میں استغاثے کی طرف سے کہا گیا کہ عمران خان نے اپنے کارکنوں سے کہا کہ آئی جی کو مارو اور وزیراعظم ہاﺅس پر قبضہ کر لو۔ پراسیکیوٹر کا موقف تھا کہ عمران خان کے خلاف اپنے کارکنوں کو تشدد پر اکسانے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ دس کے تحت کارروائی ہونی چاہئے۔ عدالت نے مقدمہ سیشن کورٹ کو بھجوانے کی عمران خان کی درخواست پر پولیس کو نوٹس جاری کر دیا۔

عدالت سے باہر نکلتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان شدید غصے میں نظر آئے۔ عمران خان نے اپنے وکیل بابر اعوان کو گاڑی میں بیٹھنے سے قبل مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو اس (جج) نے مجھے پھر بلا لیا ہے۔ تم نے تو کہا تھا کہ بس یہ آخری بار ہے۔ بابر اعوان نے کچھ بتانا چاہا لیکن عمران خان نے ان کی بات سنے بغیر زور سے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور روانہ ہو گئے۔

معلوم ہوتا ہے کہ عمراں خان کا تصور انصاف یہ ہے کہ برسراقتدار حکمران کو عدالت کے سامنے پیش ہونا چاہیے جب کہ انصاف تحریک کے رہنما اور وزیراعظم بننے کے امیدوار کو عدالت میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح یہ اصول بھی طے پانا چاہیے کہ سابق وزیر اعظم کو پروٹوکول نہیں ملنا چاہیے لیکن آئندہ وزیر اعظم کو پروٹوکول دینا نہایت ضروری ہے۔

واضح رہے کہ بابر اعوان پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما ہیں۔ لیکن غالباً وہ تحریک انصاف اور اس کے رہنما عمراں خان کا تصور انصاف پوری طرح نہیں سمجھتے۔ آئندہ امیر المومنین اور تحریک انصاف کے قائد کو عدالت کے سامنے پیش ہونا ناپسند ہے۔  بابر اعوان کو ڈانٹنے کی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔