ترکوں کو پاکستان سے ڈر لگتا ہے


adnan Kakar

پتہ نہیں جذب و مستی کی وہ کون سی کیفیت تھی جب لیبیا کے مرد آہن کرنل قذافی نے یہ نعرہ بلند کیا تھا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے، اور وزیراعظم بھٹو نے بھی جذباتی ہو کر اس سٹیڈیم کا نام قذافی سٹیڈیم رکھ دیا تھا جہاں بعد میں سری لنکا کی ٹیم پر ایک مشہور حملہ ہوا تھا اور بین الاقوامی کرکٹ پاکستان سے رخصت ہو گئی تھی۔

سنہ 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے بعد جب ٹوٹا ہوا پاکستان ایک بار پھر عالم اسلام کے لیے ایک مثال قرار پا رہا تھا تو ایسے میں بھٹو کو بندوق کی نال پر رخصت کیا گیا۔ جنرل ضیا کا دور آیا اور عالم اسلام کے قلعے کی گلی گلی میں نجی جہاد کی فیکٹریاں لگ گئیں۔ افغانستان سے خدا دشمن روسی رخصت ہوئے تو پھر اس عالم بے کاری میں نجی جہاد کا رخ کشمیر کی طرف موڑا گیا لیکن جب نائن الیون کے بعد مشرف کو بین الاقوامی دباؤ کے باعث کشمیر میں مداخلت روکنی پڑی تو پھر یہ جہاد پاکستان کے اندر ہی کیا جانے لگا۔ نجی تنظیموں کی طاقت ایسی زبردست ہوئی کہ ریاست کی طاقت ان کے سامنے کمزور پڑتی دکھائی دینے لگی۔

ایسے میں جب جنرل السیسی نے مصر میں صدر مرسی کا تختہ الٹا اور ایک نعرہ مجذوبانہ بلند کیا کہ ہم مصر کو پاکستان نہیں بننے دیں گے، تو اس پر ہم مسکرائے تھے کہ السیسی کون سی شیشی سے پی رہا ہے جو ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے۔ لیکن اب چند ہفتے پہلے ترکی کے اپوزیشن لیڈر کمال کلیچدار اولو نے خوف ظاہر کیا ہے کہ صدر ایردوان کی پالیسیوں کے باعث ترکی کی پاکستانائزیشن ہو رہی ہے۔ اور اس اصطلاح کے استعمال کرنے والے وہ تنہا شخص نہیں ہیں۔ یہ تواتر سے سنی جا رہی ہے۔

لیکن پہلے اس اصطلاح کا مطلب دیکھ لیں کہ یہ کیا ہے۔ اس اصطلاح کا مطلب کیا یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ملک میں نسلی اور مسلکی بنیاد پر تقسیم ہونے لگے، مذہب کی بنیاد پر داخلی اور خارجی پالیسی تشکیل پائے، ایک ایسا ماحول بن جائے کہ انتہا پسند گروہوں کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کرنا ممکن ہو جائے جن کو نظریاتی تعلیم اور فوجی ٹریننگ کے ذریعے جہادی جنگجوؤں میں تبدیل کر دیا جائے، اور ریاست کے ڈھانچے میں شفافیت، محاسبے اور جوابدہی کا عنصر ختم ہونے لگے۔

اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ترکی کے ایک بڑے روزنامے حریت میں بہلول ازکان لکھتے ہیں کہ ‘پاکستان ایک ناکام ریاست کی تدریسی مثال ہے۔ تکنیکی طور پر یہ اتنا آگے ہے کہ ایٹمی ہتھیار رکھتا ہے، لیکن وہاں گھنٹوں بجلی کا منہ دیکھنا نصیب نہیں ہوتا ہے۔ وہاں خواندگی کی شرح چالیس فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کے سرحدی علاقے اس کی فوج کے کنٹرول سے باہر ہیں اور اس کے شہروں میں فرقہ واریت کا فساد ہے۔ پاکستان اس نظریے کی انتہائی صورت ہے جسے پاکستانائزیشن کہا جاتا ہے۔ پاکستانائزیشن ایک ایسے معاشرے کو کہتے ہیں جو کہ نسلی اور مسلکی بنیادوں پر تفرقے کا شکار ہو۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ریاست کو گروہی مفاد نے یرغمال بنا رکھا ہو اور وہ کام کرنے سے قاصر ہو۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں میرٹ کا کچھ مطلب ہی نہ ہوتا ہو اور اپنے اپنے مفاد کے پیچھے بھاگنا ہی سب کچھ ہو’۔

ترکی میں پاکستانائزیشن کی بحث کا اس طرح سے اٹھنا کہ وہ اپوزیشن لیڈر کی تقریر کا حصہ بن جائے، نہایت معنی خیز ہے۔ ترک ایک چیز کا بہت لحاظ رکھتے ہیں، ترکی کے خلاف، اور ترکی کے دوست ممالک کے خلاف کچھ کہنا یا لکھنا وہاں ایک گناہ عظیم سمجھا جاتا ہے۔ اور ترکی اور ترکوں کی نظر میں پاکستان ایک اہم دوست ہے۔ ایسے میں یہ کہنا کہ ترکی کو پاکستانائزیشن کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا، نہایت ہی معنی خیز ہے۔

ترکی اور پاکستان کی تقدیر ایک ہی فرشتے کے ہاتھوں لکھی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ جب جب پاکستان میں فوجی حکومت آئی، انہی ایام میں ایک دو برس کے ہیر پھیر سے ترکی نے مارشل لا کا منہ دیکھا۔ اب پاکستان کی افغان پالیسی ہی ترکی کی شامی پالیسی میں جھلکتی نظر آ رہی ہے۔ اے کے پی کی ابتدائی دو حکومتوں کا زور مفاہمانہ پالیسی پر تھا۔ ہمسایوں سے بھی اس کے تعلقات بہت اچھے تھے اور داخلی محاذ پر کرد مسئلے پر بھی کافی حد تک قابو پایا جا چکا تھا اور کرد ہتھیار رکھ کر سیاسی عمل کا حصہ بن رہے تھے۔ پھر عبداللہ گل ترکی کے صدر بن کر پارٹی سے نکل گئے اور ایردوان مطلق العنانیت کی راہ پر چل پڑے۔

کردوں کا زور توڑنے کے لیے ایردوان حکومت نے دولت اسلامیہ کی حمایت شروع کر دی۔ داعش ایک طرف شامی حکومت اور دوسری طرف کردوں سے لڑ رہی تھی۔ ایردوان حکومت کو ایک پراکسی جنگجو تنظیم مل گئی تھی جو کہ اس کے دشمنوں سے لڑ رہی تھی۔ لیکن یہ دشمن کون تھے؟ ترکی کے دو پڑوسی ملک شام اور ایران، اور اس کے اپنے قبائلی شہری کرد۔ کچھ سنی سنی سی تاریخ ہے نہ؟

151127143249_turkey_journalists_624x351_ap_nocredit

اناطولیہ کا علاقہ رومی سلطنت اور بعد میں عثمانی خلافت کے دور میں بھی مذہبی و نسلی رواداری کا نمونہ رہا ہے۔ رومی اور عثمانی سلطنت میں شہریوں کو ان کے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی مکمل آزادی تھی۔ پھر ترک صوفی مسلک بھی رکھتے تھے اور رواداری کو محض نظام سلطنت ہی نہیں، مذہب کا حصہ بھی سمجھتے تھے۔ جب داعش کو سپورٹ دی جانے لگی تو داعش کے عدم برداشت کے نظریات بھی ترک معاشرے میں سرایت کرنے لگے۔ ترک حکومت عوامی طور پر اس بات سے انکاری رہی کہ وہ داعش کی حمایت کر رہی ہے لیکن جب ترک اخبار جمہوریت کے دو صحافیوں جان دندار اور ایردم گل نے ایک ویڈیو ریلیز کی جس میں ترکی کی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی ٹی کے ٹرکوں کو امدادی سامان کے نام پر داعش کو اسلحہ پہنچاتے ہوئے دکھایا گیا تھا، تو ایردوان نے ذاتی طور پر اخبار جمہوریت کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کر دیا۔

abu-khitab

نومبر 2014 میں بی بی سی نے ترکی میں مقیم ایک تیرہ سالہ شامی لڑکے اور اس کی ماں فاطمہ کا انٹرویو نشر کیا تھا۔ لڑکا خود کو ابو خطاب کہلوانے پر مصر تھا۔ اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ترکی یا برطانیہ میں حملہ کرے گا، تو اس نے کہا کہ ‘برطانیہ پر حملہ کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ نیٹو کا رکن ملک اور دولت اسلامیہ کے خلاف ہے۔ اگر وہ مجھے ترکی میں حملہ کرنے کا کہیں گے اور مجھے مقدس حکم دیں گے تو میں اس پر عمل کروں گا’۔ یاد رہے کہ ترکی بھی نیٹو کا رکن ہے۔ ابو خطاب کی ماں فاطمہ کا کہنا تھا کہ ‘مجھے بالکل کوئی افسوس نہیں ہو گا اگر میرا بیٹا مغربیوں کے ہاتھوں مارا جاتا ہے۔ مجھے شرمندگی ہے کہ میرے دوسرے بیٹے بڑے سکون سے برائی کے لیے کام کر رہے ہیں اور انہیں بھی ہتھیار اٹھانا ہوں گے’۔

160313150825-09-turkey-blast-0313-exlarge-169

اس سال ترکی میں بم دھماکوں کی شدید لہر اٹھی ہے۔ تیرہ مارچ کو انقرہ کے بس اسٹیشن پر ایک ترک خاتون سحر جاگلا دیمر کے کیے گئے خودکش حملے میں کم از کم سینتیس افراد ہلاک اور پچھتر زخمی ہوئے۔ ایک کرد تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ سحر نے حملے سے قبل شام میں تربیت لی تھی۔ انیس مارچ کو استنبول میں محمت ازترک نامی ترک شخص نے خودکش حملہ کیا ہے جس میں چار لوگ مارے گئے ہیں اور چھتیس زخمی ہوئے ہیں۔ ترک حکام کے مطابق محمت ازترک کا تعلق داعش سے تھا۔

اس سے پہلے گزشتہ سال جولائی میں ترک شہر سروچ میں خودکش حملے میں تینتیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد اکتوبر میں انقرہ میں خودکش حملہ ہوا جس میں سو سے زاید افراد مارے گئے۔ انقرہ کا حملہ آور، سروچ کے حملہ آور کا بھائی تھا اور دونوں کا تعلق داعش سے بتایا جاتا ہے۔ داعش نے ہی اس سال جنوری میں استنبول میں خودکش حملہ کیا تھا جس میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

160319101728_istanbul_640x360_epa_nocredit

پاکستان ہی کی مانند اب ترکی میں بھی بیس لاکھ سے زیادہ مہاجرین قیام پذیر ہیں جو پورے ملک میں گھوم رہے ہیں۔ ایسے میں پورے ملک کو بم دھماکے بھی اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ دو تین سال پہلے ترک پاکستان آتے تھے تو ان کے ملنے والے ان سے خوف کا اظہار کرتے تھے کہ پاکستان میں تو ہر وقت بم دھماکے ہوتے رہتے ہیں، تم وہاں کیوں جا رہے ہو؟ شاید وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا ملک بھی پاکستان کا جڑواں بھائی ہے اور ترکی اور پاکستان کی تقدیر ایک ہی فرشتے کے ہاتھوں لکھی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔

ہلیری کلنٹن نے پاکستان میں نجی جہاد کی پالیسی کے بارے میں بیان دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ آپ اپنے آنگن میں اس امید پر سانپ نہیں پال سکتے ہیں کہ وہ صرف آپ کے ہمسائے کو ہی ڈسیں گے۔ شاید ترکی کو بھی اس بات پر غور کرنا چاہیے۔

ترکوں کو اب پاکستانائزیشن سے ڈر لگ رہا ہے، اور حق بات یہی ہے کہ ان کا ڈر بجا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 332 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

5 thoughts on “ترکوں کو پاکستان سے ڈر لگتا ہے

  • 21-03-2016 at 6:24 pm
    Permalink

    بہت عمدہ تجزیہ ہے۔ مبارک باد۔ ہمارے اسلامسٹ ابھی بھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اردوان صاحب خلافت کو بحال کرنے جا رہے ہیں۔

  • 21-03-2016 at 6:27 pm
    Permalink

    کیا ترکی کا کوئی آزاد انگریزی اخبار نیٹ پر دستیاب ہے۔ میں Todays Zaman پڑھا کرتا تھا وہ اب نذر اردوان ہو چکا ہے۔

  • 22-03-2016 at 9:25 pm
    Permalink

    Great piece!

Comments are closed.