انقلاب کی تلاش


 inam-ranaسنا ہے فیض کی شاعری سے متاثر ایک نوجوان نے ایک دن انقلاب کے انتظار سے اکتا کر کہا، فیض صاحب، آخر انقلاب کب آئے گا؟ فیض صاحب جو عمر کے آخری حصے میں خود بھی “بلا سے ہم نے نہ دیکھا۔۔۔” جیسے مصرعے کہنے لگے تھے اور انقلاب کی حرکیات سے واقف تھے، سگریٹ کا ایک لمبا کش کھینچ کر دھواں ناک سے نکالتے ہوے ایک لمبی خاموشی کے بعد بولے”بھئی آ جائے گا، ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے”۔ وہ پوچھنے والا اب جس عمر کو پہنچ چکا ہو گا یقینا فیض صاحب کی تصویر سے کہتا تو ہو گا، اب تو عمر بھی ہو گئی سر، آخر کب آئے گا؟

نوجوانی سمندر کی اس اٹھتی لہر کا نام ہے جو بلند ہوتی ہوئی آتی ہے تو لگتا ہے سب بہا کر لے جائے گی۔ اس میں چھپا طوفان اس غرور میں ہوتا ہے کہ ساحل پر موجود ہر شے کو تہس نہس کر دے گا۔ مگر ساحل تک آتے آتے وہ طوفان، وہ رفتار، وہ غرور اور دم توڑ جاتا ہے اور لہر ساحل کے قدموں پہ سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔ نوجوانی یہ یقین رکھتی ہے وہ بدلنے کی، توڑنے کی، بہتر کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ وہ ہر ظلم، نا انصافی اور اس بت سے ٹکرانے کی ہمت رکھتی ہے جو اس کے یقین کے آگے آئے۔ بے شک یہی یقین دنیا میں بدلاؤ، بہتری اور خوبصورتی لانے کا باعث بنتا ہے۔ یہی یقین ہے جو ہمیں ہر نوجوان میں دکھتا ہے، خواہ وہ کسی بھی نظریے سے وابستہ ہو۔ یہ جذبہ آپ کو لبرل نوجوان میں بھی دکھے گا اور مذہبی جماعتوں سے وابستہ نوجوانوں میں بھی۔ انقلاب آئے یا نہیں یہ جذبہ ہی ہے جو عمر کے آخری حصہ میں یہ اطمنان دیتا ہے کہ زندگی بیکار نہیں گزری بلکہ کسی نظریے کسی آدرش کی پیروی میں گزری۔

یہی جذبہ تھا جو مجھے بیس سال کی عمر میں پروفیسر کے پاس لے گیا۔ فیض کی شاعری اور کچھ کتابوں نے “لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے” کے جذبات پیدا کر دئیے تھے اور معاشرے کے پسے ہوے طبقات اور ہر ظلم کے تخت اچھالنے کی ہمت پیدا کر دی تھی۔ لاہور کے ایک معروف انقلابی وکیل نے جب دو سال میں دو تحریکوں کا بیڑہ غرق کر دیا تو مجھےاحساس ہوا کہ میرے اپنے طبقے میں انقلاب کا نظریہ فقط ڈرائنگ روم ایکٹیوٹی ہے جو کوٹ میں رومال کی طرح سجایا جاتا ہے کہ زرا اچھا لگتا ہے۔ معاشرے کے جن پسے ہوے لوگوں کی محرومی پر بہترین سکاچ وسکی پیتے ہوے ہم فکرمند ہوتے تھے، ان ہی کو ہمارے ڈرائنگ روم میں آنے کی اجازت نہ تھی۔ ہر دو چار ہفتوں بعد جب ہم کسی خوبصورت مغنیہ کے سنگ بلند آواز “ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے” گاتے تھے تو یہ کم ہی سوچتے تھے کہ اس پارٹی پہ اٹھنے والا خرچہ ایک پسے ہوے مزدور کے مہینے بھر کی کمائی سے زیادہ ہے۔ شاید ایسی ہی کسی شام میں نے اس ماحول سے بیزاری محسوس کی اور کسی اب یاد نا آتی وجہ سے پروفیسر تک جا پہنچا۔ پروفیسر پاکستان کی “لیفٹ” کی موومنٹ کی دائی تھی۔ ستر کی دہائی سے وہ کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ رہا تھا اور اندر باہر کی ہر بات سے واقف تھا۔ خالص لاہوریوں کی طرح ہر جملے کے بعد ایک آدھ گالی اس کا تکیہ کلام تھا اور نظام کی بات کرتے ہوے یہ گالی جملے کے شروع اور آخیر دونوں طرف سجتی تھی۔ پہلے تو پروفیسر نے مجھے بوژوا طبقے کا ایک ایڈونچرسٹ نوجوان ہی سمجھا جو باپ کی لمبی سی گاڑی پہ ڈرائیور کے ساتھ آ کر نسبت روڈ کے ایک چائے خانے میں اس سے انقلاب ڈسکس کرتا تھا۔ ایک دن تنک کر اس نے مجھے کہا بھی، “اوئے ۔۔۔۔۔۔ تینو پتہ وی اے کہ اے انقلاب تیرے ورگیاں دے خلاف ہی آنا اے”۔ آخر ایک عرصے بعد اسے یقین آ ہی گیا کہ میں انقلاب کی تلاش میں سچا ہوں خواہ یہ مجھ سے میری گاڑی اور ڈرائیور ہی کیوں نہ چھین لے۔ میں ہمیشہ پروفیسر کا ممنون رہوں گا کہ اس نے مجھ میں موجود انسان سے بلا تفریق محبت، سچ کے لیے کھڑا ہونے کی ہمت اور تحقیق کی عادت کو مہمیز دی۔ اور پروفیسر ہی کی وجہ سے میں پارٹی کے ان گوشوں سے بھی آگاہ ہوا جو عام کارکن سے کافی عرصہ تک پوشیدہ ہی رہتے ہیں۔

ہم ہر ہفتے نسبت روڈ کے چائنہ ہوٹل میں اکٹھے ہوتے جہاں چائے کی دس بارہ پیالیوں پر پندرہ بیس سگریٹ پھونکتے رات بھر مباحثے چلتے۔ پروفیسر ہمارا گُرو تھا۔ ایک حلقہ تلامذہ میں گھرا جو اس کی ہر بات اسی احترام سے سنتا اور اپناتا جیسے ارسطو کے شاگرد۔ مذہب، فلسفہ، سیاست، ادب، معاشیات، فنون لطیفہ؛ کون سا موضوع تھا جس پہ اس نے ہماری تربیت نہی کی۔ اکثر فجر کے وقت میں ہی اسے گھر اتار کر آتا اور مجھے اس سے خصوصی گفتگو کی سعادت بھی حاصل ہوتی۔ پروفیسر کچھ باقاعدہ کام وام نہیں کرتا تھا۔ گھر میں سب سے چھوٹا تھا اور اپنے ایک بھائی اور بھابی کے ساتھ رہتا تھا۔ کچھ ایک دو پراجیکٹ کر کے وہ اتنی رقم کما لیتا تھا کہ اگلے دو تین ماہ آرام سے گزر جائیں۔ رات بھر جاگتا، کتابیں پڑھتا، فلمیں دیکھتا اور دن چڑھے تک سو کر اٹھتا تو چائے خانے چلا آتا۔ ایک دن میں نے کہا استاد جی آپ کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ اوئے ۔۔۔۔۔ دیا، جب تک یہ نظام مجھے میری پسند کا کام نہیں دے گا میں کیوں کروں؟ پر آپ کی پسند کا کام کیا ہے؟ جو بھی مجھے پسند ہو، پروفیسر نے غصہ سے کہا۔ پر استاد جی آپ کی پسند کا کام جب تک طے نہی ہو گا، آپ کوشش نہی کریں گے، تب تک نظام کو پتہ کیسے چلے گا کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اوے ۔۔۔۔ ، جب تک یہ نظام نہی بدلے گا کچھ بھی نہی ہو سکتا۔ پروفیسر کے غصے کا گراف چڑھتا دیکھ کر میں خاموش ہی رہا۔ پروفیسر نے ساری عمر شادی بھی نہیں کی۔ جب بھی میں اس بارے میں اس سے سوال کیا اس نے کہا “میری مرضی؟ مجھے باقی رہنے کا کوئی شوق نہیں۔ شادی فقط اولاد کی خواہش کو ایک قانونی نام دینے کا نام ہے۔ کیونکہ انسان چاہتا ہے کہ وہ زندہ رہے، خواہ اپنی اولاد کی ہی صورت۔ سو شادی کا یہ ادارہ وجود میں آیا ہے تو اس کے پیچھے یہی سوچ ہے۔ مجھے زندہ رہنے کا کوئی شوق نہیں۔” اب چونکہ میری اور پروفیسر کی دوستی ہو گئی تھی اور وہ میری ہر قسم کی بات سن لیتا تھا تو ایک دن میں نے کہا استاد جی ایک بات کہوں، آپ دراصل ذمہ داری سے بھاگتے ہیں۔ شادی کا ادارہ ہمارے معاشرے میں مرد پہ جتنا بوجھ ڈالتا ہے آپ اسے اٹھانے سے گریزاں ہیں۔ پروفیسر نے ایک قہر بھری نظر اور دو گالیوں کے ساتھ بس اتنا کہا”چوّلاں نہ مار”۔

ہماری محفلوں کی رودادیں بھی بہت دلچسپ ہیں۔ ہم کبھی کبھار کسی مظاہرے وغیرہ کی تیاری کے لیے اکٹھے ہوتے۔ رات بھر کامریڈز مختلف پلان کرتے۔ امیروں کی حرام زدگیوں، غریب کی بے بسی، عورت کے ساتھ جبر، مولوی کی چیرہ دستیوں پر گرما گرم تبصرے ہوتے۔ صبح اکثر مظاہرہ پر کچھ کامریڈ غیر حاضر اور کچھ لیٹ ہوتے تھے، اس نظام میں جو گندی شراب ہمیں ملتی تھی وہ ہینگ اوور ہی اتنا برا دیتی تھی، اس میں کامریڈز کا کیا قصور۔ اکثر ہم کامریڈز اس بات پہ ماتم کناں رہتے کہ جس معاشرے میں شراب بھی چھپ کر پینی پڑے وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ مذہب کا مذاق اڑانا کامریڈ ہونے کا لازمی جزو تھا۔ جو اس میں جتنا پرجوش اور مفصل ہوتا وہ اتنا ہی پرخلوص انقلابی سمجھا جاتا۔ البتہ مذہب ایسا برا جرثومہ ہے کہ جسم سے کم ہی نکلتا ہے۔ اور کچھ نہیں تو جوش، سبط حسن اور مہدی حسن کو ملحد مگر اچھا شیعہ ضرور بنائے رکھتا ہے۔ ایک دن میں نے پروفیسر سے کہا کہ میرا ایک تھیسس ہے۔ جب تک ہم پاکستان میں مذہب کو گالی دے کر سوشلزم اور کمیونزم کی بات کرتے رہیں گے، ہم ناکام ہی رہیں گے۔ مذہب ہزاروں سال سے اس خطے کے لوگوں کی ہڈیوں میں گودے کی طرح ہے۔ کیا بہتر نہیں کہ ہم سٹریٹجی بدلیں۔ پروفیسر نے پہلے تو میری بوژوا سوچ کی گالیوں سے بھرپور تواضع کی، پھر میرے پارٹی میں مستقبل پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا اور ۔۔۔۔۔ دیا، کمیونزم کی ضرورت ہی کیا ہے اگر مذہب کو ہی ماننا ہے۔ خیر میرا آج بھی ماننا ہے کہ مذہب، پاکستان کا وجود میں آنا اور کچھ دیگر ایسی حقیقتیں ہیں کہ جن کو مانے بغیر جو بھی سیاسی نظریہ اس خطے میں آیا، فیض جیسا شاعر تو شاید دے دے، انقلاب نہیں دے پائے گا۔

ہم میں سے اکثر نوجوان “ویلے” ہی تھے۔ کوئی کام کم ہی کرتے تھے۔ رات بھر انقلاب کا خواب دیکھتے تھے مگر میں آج بھی نہیں سمجھ پاتا کہ کوئی بھی انقلاب اس شخص کی مدد کیا کر سکتا ہے جو کچھ کرنا ہی نہ چاہتا ہو مگر پروفیسر کا خیال تھا کہ اس سرمایہ دارانہ نظام میں اس کا حصہ بن کر کوئی کام کرنا اس نظام کو مضبوط کرنے کا باعث ہو گا۔ وقت گزرا، دن بدلے اور بہت کچھ بدلا۔ اکثر نوجوان جو ہمارے گروپ کا حصہ تھے شادی یا معاشی مسائل کی وجہ سے مختلف نوکریاں کرنے پر مجبور ہو گئے۔ جیسے جیسے وہ کام میں پھنستے، معاشی ترقی حاصل کرتے اور گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھتا، ان کی شرکت کا معمول کم ہوتا چلا جاتا۔ ریگولر صرف وہی رہ گئے جن کا رزق پارٹی اور اس کی سرگرمیوں سے وابستہ تھا یا مجھ جیسے جو ابھی اس چکر میں نہیں پھنسے تھے۔ کئی اب بھی مہینے میں ایک آدھ بار آ جاتے اور دوسرے پیگ کے بعد اس نظام کو رونا روتے جس میں بیوی سے چھپ کر شراب پینی پڑتی ہے۔ ایک دن میں نے کہا پروفیسر، میرا ایک اور تھیسس ہے۔ ہمارے ملک میں انقلاب کبھی نہیں آئے گا۔ پروفیسر نے گندی سی گالی دے کر کہا کیوں؟ اس لیے کہ ہم سچے انقلابی ہیں ہی نہیں۔ ہمارے امیر انقلاب کا نعرہ اس لیے لگاتے ہیں کہ اپنے ہی طبقے میں زرا منفرد سمجھے جائیں۔ اور غریب انقلابی اس لیے بنتا ہے کہ اسے لگتا ہے کہ انقلاب آیا تو یک دم اسے وہ سب کچھ میسر آ جائے گا جسے وہ للچائی نظروں سے دیکھتا ہے مگر پا نہیں سکتا۔ ہم نے انقلاب کو نظریہ سمجھا ہی نہی بس نعرہ بنایا ہے اپنی اپنی غرض پوری کرنے کا۔ شاید پروفیسر تھک گیا تھا میری فضول باتیں سن سن کر سو اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ وقت کی گردش مجھے لندن لے آئی۔ رابطہ کمزور ہوتا گیا۔ اب بھی کبھی کبھار بات ہو جاتی یا پاکستان چکر پر ملاقات۔ پروفیسر اب بھی غیر شادی شدہ تھا۔ اب بھی نسبت روڈ پہ بیٹھتا تھا اور اب بھی اٹھارہ بیس برس کے بچے بچیاں اس کے گرد بیٹھے انقلاب پر مباحثے کرتے تھے۔ پچھلے سال پاکستان گیا تو ملاقات نہ ہو سکی۔ ادھر ادھر سے پوچھا تو پتہ چلا عارف والا میں پروفیسر کے والد کی چھوڑی بیس ایکڑ زمین تھی۔ پروفیسر اب وہاں زمینداری کرتا ہے۔

(بھائی انعام رانا، فیض صاحب سے سوال پوچھنے والا آغا نوید کئی برس پہلے فیض صاحب کے پاس چلا گیا تھا۔۔۔ مدیر)


Comments

FB Login Required - comments

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 35 posts and counting.See all posts by inam-rana

32 thoughts on “انقلاب کی تلاش

  • 21-03-2016 at 12:50 am
    Permalink

    یہ جو انعام ہے ناں اس کی ایک بات بہت اچھی ہے سچ بولنا
    سچ بھی منہ پھاڑ کر اور یہ بھی نہیں سوچتا کہ آگے ہو گا کیا
    بے حد شائستہ تحریر مزہ آیا
    واقعی انقلاب وہ لوگ نہیں لاتے جو کچھ نہ کرتے ہوں
    اور وہ بھی نہیں جو اس کی بنیاد خون پر رکھنا چاہتے ہوں اور وہ بھی نہیں جو صبح اٹھ نہ سکتے ہوں 🙂

  • 21-03-2016 at 1:04 am
    Permalink

    جواب تو “مہودا” ہی دے گا۔ وہ لکھتا نہیں بولتا ہے، وہ بھی ہونٹوں کی ایک سمت کی کپکپاہٹ کے ساتھ، نہ وہ تیرے جیسوں کی تحریر پڑھنے کا تردد کرتا ہے، اس لیے ملے بغیر جواب ملنا ممکن نہیں۔ ڈاکٹر لال خان اور کالم نگار زبیرالرحمٰن تو آج بھی یہی کہیں گے کہ انقلاب آج نہیں تو کل ضرور آئے گا۔

  • 21-03-2016 at 1:12 am
    Permalink

    ہاہاہا۔ ڈاکٹر صاب زیادتی زیادتی۔

  • 21-03-2016 at 1:22 am
    Permalink

    بہت عمدہ جناب.

    انقلاب بڑے کمال کی شے ہے. امید، انصاف، امکان اور انسانیت کا اعلی ترین مظہر.

    لیکن یہ بہت خطرناک بھی ہے، زہریلے سیاہ ناگ کی طرح. اپنے نام لیوا پر کڑی نظر رکھتا ہے، جہاں دیکھا توجہ یا اخلاص میں کچھ کمی واقع ہوئی، وہیں اسے ڈس لیا اور ناکامی کا زہر اس کے رگ و پے میں انڈیل دیا.

    اس کے باوجود آپ اسے ناانصاف نہیں پائیں گے. جو اس کا ہؤا، یہ اس کا ہو گیا. یہ وسیع القلب بھی ہے، جو اصول بائیں والوں کے لیے ہیں وہی دائیں والوں کے لیے بھی.

    بائیں کے حالات تو آپ نے بیان کر دیے، دائیں والے خود اپنے پر غور کرلیں. انقلاب تو وہ بھی نہیں لا سکے اب تک … !

  • 21-03-2016 at 1:30 am
    Permalink

    مدیر محترم آغا نوید کی رحلت کا سن کر افسوس ہوا۔ یقینا وہ یہ سوال اب فیض سے جنت میں پوچھتا ہو گا۔ مگر پتہ نہی جنت میں سگریٹ ملتے ہیں نہیں۔

  • 21-03-2016 at 2:04 am
    Permalink

    انقلاب کی تعریف میں مفکرانِ قدیم و جدید نے کیا کیا رنگ میں افسانے باندھے ہیں۔ کسی نے پچھلوں کی بات آگے بڑھائی ہے تو کچھ نے نئی موشگافیاں کی۔ خیر اب اگر مشاہیر کے گلدستے سجانے بیٹھا توانعام رانا کا ذکر رہ جائے گا۔
    لکھنے والوں کے اس ہجوم میں انعام رانا کہنے کو تو نووارد ٹھیرا لیکن اس کی بیساختہ تمثیل نگاری نے بہت تیزی سے قارئین کے دلوں میں سرنگ لگا لی ہے۔ اس کی رنگ برنگی کہانیاں، ذاتی اور مشاہداتی قصے، سب اپنے اندر انعام رانا کی شخصیت کا ایک نیا تعارف ہیں اور یہی بات اس کو باقی لوگوں میں ممتاز کرتی ہے۔ اس کی تازہ قلم کاری کو ہی لے لیں جس میں اسنے ہنسی ٹھٹھے میں کیا پتے کی باتیں بیان کردیں کہ پڑھیں اور دل تھامیں۔ ورنہ یہی بات شاعر نے کس کاٹ دار لہجے میں کہی ہے۔
    ؔ آنکھوں میں خون بھر گئے، رستوں میں ہی بکھر گئے
    آنے سے قبل مرگئے، ایسے بھی انقلاب تھے

    • 22-03-2016 at 9:39 am
      Permalink

      Agreed fully with your view point about Inam Rana — These were the questions which were in my mind but i was not getting the way to ask –Mr Inam rana understands as well as know the questions of our minds
      It is his success

  • 21-03-2016 at 2:26 am
    Permalink

    مذب، پاکستان کا وجود میں آنا اور کچھ دیگر ایسی حقیقتیں ہیں کہ جن کو مانے بغیر جو بھی سیاسی نظریہ اس خطے میں آیا، فیض جیسا شاعر تو شاید دے دے، انقلاب نہیں دے پائے گا۔۔۔۔
    یعنی انعام رانا بھی یہ سمجھتا ہے کہ انقلاب کسی عمارت کا نام ہے جسے بنا لیا جائے یا کسی جانور کا نام ہے جسے خرید لیا جائے۔ ارے بھائی، انقلاب ایک مسلسل عمل کا نام ہے جس میں کئی ردِ عمل بھی مستقل اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ انقلاب ایک نامیاتی اکائی ہے۔
    بہرحال بہت اچھا لکھا۔ اپنا ذہنی سفر لکھنا بھی ایک واردات ہے۔ اور انعام رانا نے یہ ایک اچھی واردات ڈالی۔

    • 21-03-2016 at 7:19 pm
      Permalink

      حافظ صاحب آپ نے اچھا لکھا۔ اسے پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ انقلاب کے موضوع پر آپ کوئی بلاگ لکھیں تو کیسا رہے گا۔ ایک کالم کی ضخامت کا ۔ ہم اسے شائع کریں گے ۔ انقلاب کے حوالے سے جو رومانویت پائی جاتی ہے، اس بارے میں جو غلط تصورات جنم لے بلکہ مستحکم ہوچکے ہیں، ان کو زیربحث لانے، دور کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ یہ کام کر سکتے ہیں۔

  • 21-03-2016 at 6:54 am
    Permalink

    ویل ڈن

  • 21-03-2016 at 8:54 am
    Permalink

    انقالاب کا نعرہ لگانے والے بھوٹے ذہن کے لوگ ہوتے ہیں۔ میں نے بھی چھوٹے ذہن کے ساتھ آغاز کیا تھا۔ کچھ عرصے کے بعد یہ جان لیا تھا کہ ارتقاء ایک فطری عمل ہے جس کی کیمسٹری کو سمجھنے والے علم و حکمت اور کردار کے ساتھ سوسائٹی میں چھوٹے موٹے ڈینٹ ڈال سکتے ہیں۔ باقی آندھی میں اڑنے والے تنکے ہیں خواہ ان کا تعلق کسی بھی بازو سے ہو۔
    دائیں بازو والے نے نوجوان انقلابی سے کہا
    کل کا سورج اسلامی انقلاب کا سورج ہو گا
    بائیں باجو کے کامریڈ نے کہا کل سُرخ سویرا نکلے گا
    دونوں یا تو بیوقوف تھے یا ایکسپلائٹر
    سوسائٹی ان کی نذر ہو کر انتہا پسندی کی جانب بڑھ گئی کہ ارتقاء یہی کر سکتا تھا۔

  • 21-03-2016 at 12:40 pm
    Permalink

    عمدہ تحریر

  • 21-03-2016 at 2:43 pm
    Permalink

    آج کے انقلابیوں کا ذکر خیر بھول گئے۔ جو باپ دادا کی کمائ یا سفارش رشوت سے حاصل کئے پوسٹ پر دادِ عیش دیتے ہوئے، ائر کنڈیشنڈ یا سنٹرلی ہیٹڈ کمروں میں قوم پر بوجھ بنے بیٹھ کر، ہر دوسری سانس میں بے چارے مولوی کو گالی دیتے ہیں کہ اُس کی وجہ سے انقلاب نہیں آرہا۔
    ویسے تحریر بہت شاندار ہے۔ یہ آپ کی سب بے بہترین تحریر رہی۔

  • 21-03-2016 at 3:34 pm
    Permalink

    انعام بھائی سوسائٹی میں انقلاب ہی کیوں اتنا ضروری ہے، کیا انقلاب کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، یا شاید یہ ہم نے طے کر دیا ہے کہ اس کا کوئی متبادل موجود ہی نہیں اگر ہے بھی تو وہ شاید اتنا Attractive نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا مشاہدہ تو یہ بتاتا ہے کہ انقلاب ایک سراب کا نام ہے جس تک پہنچتے پہنچتے جوانیاں ڈھل جاتی ہیں، وقت سرکنے لگتا ہے یہاں تک کہ امیدیں بھی دم توڑ جاتی ہیں “لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے” والے بھی دیکھے بنا آکے کو نکل جاتے ہیں، لیکن انقلاب پھر بھی ایک نئے نام، نعرے اور نظریے کے ساتھ سامنے کھڑا آپ کا منہ چڑا رہا ہوتا ہے۔

  • 21-03-2016 at 4:37 pm
    Permalink

    رانا صاحب، واہ واہ کیا لکھا ہے، کمال لکھا ہے۔ آپ کی یہ تحریر بہت زیادہ ہٹس لے گی۔ اس لئے پسند نہیں اایا کہ لیفٹ والوں کے خلاف ہے، بلکہ اس لئے کہ اس میں کردار نگاری کمال کی ہے، آپ نے منظر اور کردار زندہ کر دئیے ہیں۔ کیا بات ہے۔ باقی اوپر ڈاکٹر عاصم اللہ بخش نے کمال کا تبصرہ کیا ہے اس پر ۔ واقعی رائیٹ والوں کو بھی محاسبہ کرنا چاہیے، اپنا۔ انقلاب تو وہ بھی نہیں لے آ سکے، مگر شائد خود احتسابی وہاں بھی آسان نہیں۔ اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے لئے بہت بڑی اخلاقی جرات کی ضرورت پڑتی ہے۔

  • 21-03-2016 at 7:06 pm
    Permalink

    Thanks everyone

  • 21-03-2016 at 8:55 pm
    Permalink

    دنیا کی حالیہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تبدیلی کیلیے دو طرح کے تجربات کیے گئے۔ اوّل، انقلاب مثلاً یوکرائن، تیونیشیا، شام، لیبیا اور مصر وغیرہ میں۔۔لیکن اس نوع کے تجربہ کے نتائج آپ کے سامنے ہیں۔یہ سب جگہیں تباہ و برباد ہو کر رہ گئیں۔دوسرا تجربہ جو پاکستان فریڈم موومنٹ نے بہ غور سٹڈی کِیا وہ سافٹ چینج کا ہے۔ اس کی مثال ہمیں ترکی، ملیشیا، ویت نام اور چائنا وغیرہ میں ملتی ہے جہاں کوئی انقلاب نہیں آیا، اس کے باوجود ان لوگوں نے کمال کر دیا۔ وجہ کیا تھی؟ اس حیرت انگیز ترقّی وتبدیلی کا راز کیا ہے کہ کچھ بھی بگاڑے بغیر سب کچھ سنوار دیا گیا؟ ان چاروں ممالک کے کلچر، محلّ وقوع اور حالات مختلف تھے اور ہیں، لیکن ان سب میں ایک بات مشترک نظر آتی ہے: ایک سیاسی جماعت کا اُبھرنا— جس نے حکومت میں آ کر پورے ملک کا نقشہ بدل کے رکھ دیا۔اب پاکستان میں لگ بھگ300 سیاسی جماعتیں ہیں، لیکن یہاں کیوں اُسی طرح کی سافٹ چینج نہیں آئی۔ اس کی وجہ بڑی واضح ہے۔ قائدِ اعظم ہمیں ستّر برس قبل اپنی تقاریرمیں یہ بتا گئے تھے کہ پاکستان تو ہم نے بنا دیا، اب آپکو ایک ماڈرن پولیٹیکل پارٹی چاہیئے۔اب ایک جدید سیاسی جماعت کا مطلب کیا ہے؟ جب ہم سافٹ چینج لانے میں کامیاب ہونے والی سیاسی جماعتوں پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک جدید سیا سی جماعت وہ ہو گی : 1) جس کے پاس ایک پلان ہو۔ یہ نہیں کہ پارلیمنٹ میں آ کر بیٹھ گئے اور پھر سوچنا شروع ہو گئے کہ اب کرنا کیا ہے۔ 2) جس کے پاس جدید تعلیم سے آراستہ ایک ٹیم ہو جو اس پلان کو عملاً نافذ کر سکے۔3) جو پوری طرح ایک ادارے کے بہ طور کام کرے نہ کہ شخصیّات پرdependent ہو۔ 4) ایسی جماعت مالی اعتبار سے بھی اپنے فنڈز کے بل بوتے پر آزاد ہو نہ کہ ایک دو افراد کی دولت کی مرہونِ منّت ہو اور اُن کے اثرو رسوخ میں رہے۔5) ایسی جماعت کے ہاں اپنے ممبرز کی تربیّت کا مستعد اور منطّم سسٹم ہو کہ انہی ممبرز نے آگے چل کر پوری قوم کی تربیّت کرنا ہوتی ہے۔ بس یہ ہے وہ سسٹم جو پاکستان فریڈم موومنٹ لے کر حاضر ہوئی ہے۔ہمارا دعوٰی ہے کہPFM پاکستان کی پہلی ، واحد اور منطّم سیاسی جماعت ہے جو جناح علیہ الرحمۃ کی ہدایات کے مطابق وجود میں آئی ہے۔ اب لوگ ہمارے سٹرکچر کو سٹڈی کرنے اور ہم پر اعتبار کرنے میں جتنی تاخیرکریں گے، اتنی ہی دیر وہ خود کو اُس تمام خوشحالی، امن و سکون بھری زندگی سے خود کو محروم رکھیں گے۔ (ہارون خواجہ، چیئرمین پاکستان فریڈم موومنٹ)

  • 21-03-2016 at 9:27 pm
    Permalink

    ویل سب کے تعریفی تبصرے پڑھ کر مجھے کھجلی ہو رہی ہے تنقید کی.. امید ہے انعام ساب برا نہیں منائیں گے.. جانے کیوں مجھے لال خان کی بات یاد آرہی ہے کہ یقین نہیں آتا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے کعبے ماسکو سے واشنگٹن میں منتقل ہو گئے صرف اس لیے کہ یہ سب چڑھتے سورج کے پجاری ہیں.. کسی بھی شخص کے ذاتی اعمال کسی نظریے کو غلط یا درست ثابت کرنے کا پیمانہ نہیں اگر وہ نظریات اپنہ بنت میں بے ضر اور انسان دوست ہیں.. نئی پود کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مارکسزم نے ایک زمانے تک آدھی دنیا پر حکومت کی ہے. ایسی حکومت جس دوران روس میں جسم فروشی کا کوئی قصہ اتہاس پر موجود نہیں. جبکہ اب کے لبرل ازم اور باقی ازم نے عورت کو قانونی طور پر فاحشہ اور جسم فروش بنا دیا ہے.. کسی شے کا ناکام ہونا اسکے غلط ہونے کی دلیل نہیں نا ہی کسی چیز کا مقبول ہونا اسکے درست ہونے کی دلیل ہے. یہ مت بھولیے کہ سوشلزم کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے امریکہ نے پچاس سال پروپگنڈا کیا اور عالمی جنگیں لڑی ہیں. وسائل کی برابر تقسیم کا نعرہ ابھی بھی اتنا دلکش ہے کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں برنی سٹینڈرڈ جیسے سوشلسٹ کی مقبولیت باقی تمام صدارتی امیدواروں سے زیادہ ہے.. کیا انعام صاحب اس شخص کی مقبولیت کی وجوہات پر روشنی ڈال سکتے ہیں؟ کیوں کہ میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں کہ امریکی شہری جلدی سیاست دانوں کے پرفریب مقبول نعروں کی اندھی تقلید کرنے والے لوگ نہیں.. اور وہ شعوری طور پر بھی ہم سے بہتر ہیں.

  • 21-03-2016 at 11:13 pm
    Permalink

    السلام علیکم
    انعام رانا صاحب بندہ ناچیز عارف والا سے تعلق رکھتا ھے ۔۔ اگر آپ پروفیسر صاحب کا نام اور نمبر عنایت فرما سکیں تو شاید میں بھی ان کے ساتھ کچھ وقت بیتا سکوں۔۔
    ڈھیروں دعائیں

  • 22-03-2016 at 12:14 am
    Permalink

    میں اس بات کا قائل ہوں کہ قاری کو تحریر پر تنقید کی مکمل آزادی ہے اور مصنف کو خوامخواہ صفائی یا دلائل دے کر قاری کے اس حق میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ ویسے بھی جو تحریر واضح کرنے کی ضرورت پڑے اس میں مصنف یقینا کمزور رہا ہوتا ہے۔ لیکن محترمہ نسیم کوثر نے یہ کمنٹ چونکہ تین چار جگہ پر کاپی کیا ہے تو یقینا اس کا تعلق تنقید سے زیادہ کھجلی سے ہے جس کا انھوں نے ذکر فرمایا۔

    میں نے سو تین بار اپنی تحریر دوبارہ پڑھی ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کہ میں نے نظریہ کو ناکام کب کہا؟ اپنا قبلہ کب واشنگٹن کو بنایا(میرا تو ماسکو بھی نہیں تھا)۔ میں آج بھی سوشلزم کو ایک کامیاب اور قابل عمل نظریہ سمجھتا ہوں۔ نظریہ کے ماننے والوں کی ناکامی نظریہ کی ناکامی نہیں ہوتی۔ اگر کمیونزم پٹ گیا تو ایسے تو اسلام بھی کئی بار پٹ گیا۔ جبکہ نہ اسلام پٹا اور نہ ہی سوشلزم۔ بلکہ ان کے نفاذ کی کوشش کرنے والے پٹے/ہارے۔ اب اس بات کا کیا جواب دوں کہ امریکی شروری طور پر ہم سے بہتر ہیں۔ یعنی قبلہ بقول محترمہ پھر بھی ہم نے ہی بدلا؟ ہم تو آج بھی خود کو شعور میں ان سے بہتر سمجھتے ہیں۔

    میں نے اس مضمون میں ان ممکنہ اعمال پر بات کی ہے جو پاکستان میں اس عظیم نظریہ کو صحیح طرح متعارف ہی نہ کرا سکے۔ پاکستان میں سوشلزم کبھی کامیاب کا صحیح متعارف ہی نہی ہوا تو ناکام کیا ہوتا۔ اور رہا ماسکو اور اس کی نہ فاحشہ ہونے والی عورتیں، تو میرے مضمون میں تو اس پر کوئی بات ہی نہیں ہوئی۔
    وہ جس کا سارے فسانے میں ذکر نہ تھا
    وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

  • 22-03-2016 at 1:50 am
    Permalink

    پروفیسر محمود انتہائی خود دار شاندار اور نظریاتی آدمی ہیں ہم سب کے توسط سے آج ان کی گھریلو زندگی کے بارے جان کر معلومات میں اضافہ ہوا مدیر کی ایڈٹینگ ، تحریر کا انتخاب اور معیار تحریر سب کچھ قابل تحسین ہیں۔

    • 22-03-2016 at 9:52 pm
      Permalink

      بھائی کون محمود؟

  • 22-03-2016 at 3:12 am
    Permalink

    محترم اگر آپ محمود صاحب کی بات کررہے تو آپ کی تحریر پڑھ کر افسوس ہوا بے۔ ویسے مجموعی طور پر ہم کم ظرف لوگ ہیں جب ویلے اور نکمے ہوتے ہیں حوصلہ افزائی کا انجکشن لگوانے محمود صاحب جیسے انسان دوستوں کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور تھوڑی سی خوشحالی آتے ہیں ان کی ذات پر طارق ٹیڈی جیسے جملے کسنا شروع کردیتے ہیں۔

    • 22-03-2016 at 9:52 pm
      Permalink

      بھائی کون محمود؟

  • 22-03-2016 at 11:06 am
    Permalink

    پاکستان میں بائیں بازو کے لوگ سیکولر ازم کا نعرہ لگاتے رہے ہیں لیکن یہ لوگ بنیادی طور پر ملحدانہ خیالات کے حامی تھے – جبکہ ہماری عام عوام کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں تھا –

    بائں بازو کے لوگ پاکستانی معاشرے کی ہییت ترکیبی کا اندازہ نہیں لگا سکے اور یوں بائیں بازو کے لوگ عوام کو شکوک و شبہات میں مبتلا کرگئے اور اس کے بعد نفرت کا – بائیں بازو کے لوگ کھڑے ہو کر پیشاب کرتے – روزے میں نفرت کا اظہار کر تے ہوئے کھانا کھاتے – یہ سب روئیے ان بائیں بازو والوں کو عوام سے دور کرتے رہے –
    بائیں بازو والوں کو اندازہ ہی نہیںہوا کہ عوام کا خمیر اسی مذہب کی بنیاد سے اٹھا ہے – پاکستانی چاہے مولوی کو ووٹ نہ دیں – اس مولوی کے خلاف بھی بول لیں لیکن عام عوام کے ذھنوں میں اسلام کے بارے میں جو تصور ہے اس کے تحت عام عوام مذہب کو نظر انداز نہیں کر سکتے –
    مزدور تحریک کا مقصد مذہب سے دوری نہیں ہونا چاہئے تھا کیوں کہ مذہب لوگوں کے ذہن میں اچھی طرح بیٹھ چکا تھا –

    لیکن مزدور تحریک والے ان امور کو نظر انداز کر کے یہی کرتے رہے چنانچہ مزدور تحریک والے اور بائیں بازو والے اپنے اور عوام کے درمیان نا پسندیدگی کی ایک دیوار تعمیر کرتے رہے –

    دوسروں کے ساتھ کیا معاملہ ہے میں حتمی نہیں کہہ سکتا لیکن میں اور میرے کئی ساتھی اس سبب سے ان بائیں بازو والوں سے نفرت کرتے ہیں

    پاکستان میں تو بائیں بازو کا نام آتے ہی علٰحیدگی پسندی کا تاثر بھی ابھرتا تھا –

    یہ سب اسباب عوام اور بائیں بازو میں ایک دوری کا باعث بنے

  • 22-03-2016 at 11:42 am
    Permalink

    بحوالہ آپ کے ایک مضموں کا فقرہ

    <>

    جناب اس فقرے سے متفق نہیں ہوں – میری عمر 66 سال ہو چکی ہے – اور مجھے کسی لحاظ سے بھی نہ تو دائیں بازواور نہ ہی بائیں بازو کے ساتھ مل کر کام کرنے کے فیض اس قوم کو ملتے نظر آئے – چنانچہ اس لحاظ سے مایوسی ہی ملی –

    البتہ عمر کے اس حصے میں آکر ایک اطمینان اس پہلو سے ملتا ہے کہ مخلص اداروں کے ساتھ مل کر ویلفیئر کے کچھ کام کئے ہیں – بیواؤں کو مدد پہنچائی ہے – غریب طالب علموں کی تعلیم مکمل کروائی ہے – معذوروں کے مسائل حل کر نے کی کوشش کی ہے
    اور میں نے اپنی معلومات لوگوں تک پہنچانے کی سعی کی ہے –

    دائیں بازواور بائیں بازو والوں نے مایوسی ہی دی ہے

  • 22-03-2016 at 11:48 am
    Permalink

    بحوالہ آپ کے ایک مضموں کا فقرہ
    <>

    جناب اس فقرے سے متفق نہیں ہوں – میری عمر 66 سال ہو چکی ہے – اور مجھے کسی لحاظ سے بھی نہ تو دائیں بازواور نہ ہی بائیں بازو کے ساتھ مل کر کام کرنے کے فیض اس قوم کو ملتے نظر آئے – چنانچہ اس لحاظ سے مایوسی ہی ملی –

    البتہ عمر کے اس حصے میں آکر ایک اطمینان اس پہلو سے ملتا ہے کہ کچھ مخلص اداروں کے ساتھ مل کر ویلفیئر کے کام کئے ہیں – بیواؤں کو مدد پہنچائی ہے – غریب طالب علموں کی تعلیم مکمل کروائی ہے – معذوروں کے مسائل حل کر نے کی کوشش کی ہے اور میں نے اپنی معلومات لوگوں تک پہنچانے کی سعی کی ہے –

    دائیں بازو والوں اور بائیں بازو والوں نے مایوسی ہی دی ہے

  • 22-03-2016 at 4:01 pm
    Permalink

    عمدہ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو انقلاب “کچھوے کا راگ” لگتا ہے جو کم از کم ہمارے خطے میں ابھی تک کسی کو سنائی نہیں دیا۔ اچھے سے اچھا نظریہ اور ازم اس وقت تک بے معنی ہوتا ہے جب تک اس کی عملی صورت دکھائی نہ دے۔ یہاں تو انقلاب آئے بغیر ہی کلیشے بن چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ 🙂

  • 22-03-2016 at 5:55 pm
    Permalink

    نظریہ ٹوٹا ہے ختم نہیں ہوا۔ کیوبا، شمالی کوریا، ویت نام، چین میں سوشلزم کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فن لینڈ اور آسٹریا میں سیاسی نظام سرمایہ دارانہ ہے لیکن معاشی ڈھانچہ سوشلزم کے قریب ہے۔ 🙂

  • 22-03-2016 at 6:33 pm
    Permalink

    واہ واہ بہترین رانا صاحب
    تحریر میں شگفتگی کے ساتھ روانی بھی اس غضب کی کہ سرسری ہی نظر گزارنی چاہی تھی مگر پہلے ہی جملے نے نظر کو پکڑ لیا، تب کیا کرتے سو پھرحرف حرف پھانکنا پڑا۔۔ بے حد فکر انگیز اور پر لطف
    یقینا دائیں بازو والوں کا بھی یہی حال ہے!

  • 22-03-2016 at 9:04 pm
    Permalink

    میں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ میں کسی پروفیسر محمود کو نہی جانتا۔ جن صاحب کا ذکر مقصود تھا ان کے نام میں نہ محمود ہے نا پروفیسر۔

Comments are closed.