انسانی حقوق: پاکستانی ریاست نے کیا وعدے کئے؟


اکتوبر2017 میں پاکستان چوتھی مرتبہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رُکن منتخب ہوا۔ رُکنیت کی معیاد 2018 تا 2020ء ہے۔ اس رُکنیت کے حصول کے لیے کسی بھی ریاست کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو باآسانی اور بلا امتیاز انسانی حقوق فراہم کرنے کا عہد کرے۔ اس ضمن میں ریاستِ پاکستان نے بھی عہد کیا ہے کہ وہ مثبت اقدامات بشمول پالیسی سازی اور قانونی اصلاحات سے انسانی حقوق کا موثر نفاذ کرے گی۔ مستقبل میں خواتین، بچوں، اقلیتوں اور معذور افراد نیز دیگر پچھڑے ہوئے طبقات کے لیے بطورِ خاص اقدامات کیے جائیں گے۔ اس مد میں کیے گئے وعدوں میں سے ایک اہم عہد “بھرپورمالی وانسانی وسائل کی فراہمی کے ذریعے سے انسانی حقوق کے اداروں کے نظام ِکار کو بہتر بنانے کا ہے”۔

نومبر 2017 میں عالمی معیادی جائزہ (Universal Periodic Review)کے نظام کے تحت اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے تیسری مرتبہ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا، اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کے دیگر رکن ممالک کی طرح پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کا 2008 اور 2012 میں جائزہ لیا گیا۔ اس مرتبہ پاکستان کو جائزہ کے بعد انسانی حقوق کی صورت حال بہتر کرنے کے لیے 289 سفارشات دی گئیں۔ ان میں سے ایک اہم سفارش “قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کوعملاً با اختیار بنانے کی ہے”۔

(انسانی حقوق کونسل میں کئے گئے وعدوں اور عالمی معیادی جائزہ کے بارے تفصیلات ادارہ برائے سماجی انصاف کی 10 دسمبر کو شائع کی جانے والی کتاب” حقوقِ انسانی کا بین الاقوامی نظام” سے حاصل کی جا سکیں گی۔)

پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ریاست کی جانب سے وفاقی اور صوبائی سطح پر چند اہم ادارے قائم / فعال کئے گئے اور سماج کے مختلف حلقوں، خاص طور پر انسانی حقوق پر کام کرنے والے اداروں اور افراد کی جانب سے، اس اقدام کو سراہا گیا۔ کیونکہ یہ اقدام اُن کے دیرینہ مطالبات میں سے ایک تھا۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اُن اہم اداروں میں سے ایک ہے۔

جنوبی ایشیا کے ممالک میں سے بھوٹان کے علاوہ باقی تمام ممالک بنگلہ دیش (1987)، بھارت(1993)، سری لنکا(1996)، نیپال (2000)، افغانستان(2002) اور مالدیپ (2003)میں یہ کمیشن بنائے جا چکے ہیں۔ انسانی حقوق کے تحفظ اور ترویج کے لیے قومی سطح پر اداروں کے قیام کا تصور دوسری عالمی جنگ کے بعد اُبھرا۔ تاحال دُنیا بھر کے 100 سے زائد ممالک میں قانون سازی کے ذریعے سے ان اداروں کا قیام وجود میں آ چکا ہے۔ ان کی حیثیت ریاستی ادارہ کی ہوتی ہے اور ان کا بنیادی کام ملک میں انسانی حقوق کا تحفظ اور ترویج ہوتا ہے۔ یہ کمیشن ریاستی نظام کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کو مالی وسائل مہیا کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر یہ اپنے کام میں با اختیار اور غیرجانبدار ہوتے ہیں۔ ان کا دائرہِ کار شہریوں کے سیاسی، شہری، معاشی، معاشرتی اور ثقافتی حقوق کے تحفظ و فروغ سے لے کرتعصبات کی ہر قسم کے خاتمے تک وسیع ہے۔

پاکستان میں”قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اےکٹ 2012 ” کے تحت اس ادارے کا قیام عمل میں آیا۔ کمیشن کی ذمہ داریوں میں انسانی حقوق کی تعلیم و تحقیق کو فروغ دینا، انسانی حقوق سے متعلق معاملات پر اداروں کی استعدادِکار بڑھانا، انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق قوانین اور پالیسیوں کا جائزہ لینا اور اصلاحات کے لیے حکومت کو سفارشات پیش کرنا، انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر موصول ہونے والی شکایات پر تحقیقات اور کارروائی کے ذریعے ازالہ کروانا، بین الاقوامی معاہدوں پر حکومتی رپورٹس میں رائے دینا، انسانی حقوق کے مُلکی قوانین اور پاکستان کی جانب سے توثیق کئے گئے بین الاقوامی معاہدوں میں درج انسانی حقوق کے اطلاق کے لیے اقدامات کرنا شامل ہیں، نیز کمیشن انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں از خود نوٹس (Suo Motu action)لینے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ کمیشن نیم عدالتی (سول کورٹ) اختیارات کا حامل بھی ہے اور اسے سرکاری اہلکاروں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی روک تھام میں غفلت کی شکایات کی تحقیقات کرنے، گواہان کو طلب کرنے اور بیانات کو جانچنے، جیل یا حوالات وغیرہ کا دورہ کرنے، سرکاری ریکارڈز، عدالتی کارروائیوں اور دیگر دستاویزات کا حصول، فوجداری کارروائی کے لیے مقدمات کو سرکاری وکیل یا مجسٹریٹ کو بھیجنے، وفاقی و صوبائی حکومتوں سے رپورٹس طلب کرنے اور وفاقی حکومت کو مشورہ دینے کے اختیارات بھی ہیں۔ کمیشن میں شکایت سیل بھی قائم کیا گیا ہے جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی شکایت جمع کروائی جا سکتی ہے۔ شکایت کا اندراج کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود آن لائن فارم کے ذریعے بھی کروایا جا سکتا ہے۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کا سیکرٹریٹ اسلام آباد میں، جبکہ ذیلی دفاتر ہر صوبہ کے مرکز یعنی لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں واقع ہیں۔ کمیشن وفاقی پارلیمان کو جواب دہ ہے جسے ادارہ کے بجٹ کی منظوری اور سالانہ بنیادوں پر مالیاتی امور اور کارکردگی کی رپورٹس وصول کرنے کا بھی اختیار ہے۔

اپنے قیام کے آغاز میں کمیشن کو مالی وسائل کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا رہا جو کہ کمیشن کے دفاتر(وفاقی و صوبائی) بنانے نیز عملہ تعینات کرنے میں تاخیر کا باعث بنا۔ بعد ازاں کمیشن کے لیے 2015 تا 2016 کے مالی سال میں دس کروڑ روپے اور 2016 تا 2017 میں پہلے آٹھ کروڑ تیس لاکھ روپے مختص کیے گئے جو کہ کمیشن کے اخراجات کے لیے ناکافی تھے، اس لیے بعد ازاں کمیشن کی درخواست پر وزیرِ اعظم کے فنڈ سے خصوصی گرانٹ کی مد میں چار کروڑ روپے کمیشن کو جاری کئے گئے۔ مگر تا حال قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ 2012 کی شق/ سیکشن27 کے مطابق کمیشن کے لیے الگ فنڈ کا قیام وجود میں نہیں آیا، جو کہ مالی وسائل کے بر وقت استعمال اور کمیشن کے عملاً بااختیار ہونے میں درپیش رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔

دسمبر 2015 سے نومبر2017 تک کمیشن کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق کُل1097 شکایات موصول ہوئیں (804 شکایات اور293ازخود نوٹس) جن میں سے تا حال 416 شکایات کا ازالہ کیا جا چُکا ہے، جبکہ  534 ابتدائی تحقیقات کی سطح پر ہیں اور 147 زیرِ سماعت۔ انسانی حقوق کمیشن نے ریاستِ پاکستان کی بین الاقوامی معاہدات کے تحت ذمہ داریوں کی مد میں چار رپورٹس اُن معاہدات کی نگران کمیٹیوں کو جمع کروائیں۔ اس کے علاوہ کمیشن انسانی حقوق سے متعلق مختلف مسائل و واقعات پر حکومت کو 18سے زائد تحقیقی رپورٹس پیش کر چکا ہے، جن میں مسائل کے تجزیے کے ساتھ ساتھ اُن کے حل کے لیے تجاویز بھی دی گئی ہیں، مثلاً تھرپارکر میں بچوں کی اموات، قصور میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات اور اوکاڑہ فارمز میں مزارعین کی جبری گرفتاریاں وغیرہ۔ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ حکومت دیگر مثبت اقدامات کے ساتھ ساتھ کمیشن کی جانب سے پیش کی گئی سفارشات پر بلا تاخیر عمل درآمد یقینی بنائے۔

بلا شبہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کا قیام ایک خوش آئند اقدام ہے اور یقیناً حکومت کی جانب سے بین الاقوامی معاہدوں کے تحت ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ کمیشن کو عملاً خود مختار اوراُس کی غیر جانبداری کو یقینی بنایا جائے۔ بالآخر ایسے اقدامات اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے رُکن کے طور پر کیے گئے وعدوں میں سرُخرو ہونے اور پاکستانی شہریوں کو اُن کے حقوق مہیا کرنے کا ایک ذریعہ ہی تو ہیں، تاکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا شمار اپنے شہریوں کو بلا امتیاز حقوق فراہم کرنے والی ریاستوں میں ہو سکے۔

image_pdfimage_printPrint Nastaliq

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

نعمانہ سلیمان

نعمانہ سلیمان، انسانی حقوق، تعمیرِ امن نیزتنازعات کے تجزیے اور حل سے متعلق تحقیق اور تربیت کاری کا کام کرتی ہیں۔وہ ادارہ برائے سماجی انصاف سے وابستہ ہیں اور اُن سے درج ذیل ای میل کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے:[email protected]

naumana-suleman has 2 posts and counting.See all posts by naumana-suleman