مشرف کی لکیر پیٹنے سے کیا ہو گا؟


 mujahid aliپرویز مشرف چلے گئے۔ اب سب مل جل کر اس واقعہ پر بحث کرنے اور اپنے اپنے طور پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنے میں مصروف ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کی سرکردگی میں بلاول ہاؤس کراچی میں پارٹی کی قیادت کے ایک اجلاس میں اس معاملہ پر غور کیا گیا اور حکومت کو سخت نکتہ چینی کا نشانہ بنایا گیا۔ پارٹی کے لیڈر کہتے ہیں کہ انہیں مشرف کے جانے پر نہیں مسلم لیگ (ن) کی منافقت پر اعتراض ہے۔ اس کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا مؤقف ہے کہ گارڈ آف آنردے کر ایوان صدر سے رخصت کرنے کے بعد پیپلز پارٹی اب مشرف کی بیرون ملک روانگی پر کس منہہ سے تنقید کررہی ہے۔ عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ حکومت نے اگر عدالت کی اطاعت میں ایک فیصلہ کیا ہے تو وہ اس مسئلہ پر اب اس قدر سیخ پا کیوں ہے۔

اس کے ساتھ ہی طرح طرح کے دعوے کرنے اور یہ اعلان کرنے کی کیوں ضرورت پیش آرہی ہے کہ سابق حکمران کسی ڈیل کے تحت روانہ نہیں ہوئے بلکہ اس وعدہ کے بعد انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے کہ وہ علاج کروانے کے بعد چند ہفتوں کے اندر ملک واپس آکر مقدمات کا سامنا کریں گے۔ اس دعویٰ کی کوئی دوسری بنیاد تو ہمارے علم میں نہیں ہے لیکن سپریم کورٹ میں ای سی ایل سے نام ہٹانے کے بارے میں مشرف کے وکیل بیر سٹر فروغ نسیم نے جو آخری درخواست دائر کی تھی ، اس میں کم از کم یہی وعدہ کیا گیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں اس درخواست پر تبصرہ کرنے کی بجائے حکومت کی دائر اپیل پر فیصلہ سنایا تھا۔ اب اگر ملک کے وفاقی وزیر اس درخواست کی بنیاد پر یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ مشرف حسب اعلان واپس آجائیں گے تو ان کی انتظامی بصیرت مشکوک کہی جا سکتی ہے۔

علاوہ ازیں  پنجاب کے بااختیار وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا یہ بیان بھی دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے کہ اگر مشرف ’حسب وعدہ‘ واپس نہ آئے تو انہیں انٹر پول کے ذریعے واپس لایا جائے گا۔ رانا صاحب پنجاب کی حد تک بہت با اختیار ہوں گے لیکن مشرف کے ملک میں ہوتے بھی وہ ان کا کچھ بگاڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے ، تو بیرون ملک سے انہیں کیوں کرواپس لا سکیں گے۔ البتہ اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے کہ پرویز مشرف ایک بار پھر اس زعم میں مبتلا ہو جائیں کہ پاکستان کے لوگوں کو ان کا انتظار ہے اور وہ قوم کی قیادت کے جذبہ سے سرشار خود ہی واپس آجائیں۔ اگرچہ جس طرح دو اڑھائی برس تک ایڑھیاں رگڑنے کے بعد وہ ملک سے گئے ہیں، اب ان سے اس قسم کے ایڈونچر کی امید نہیں کرنی چاہئے۔

پیپلز پارٹی تو اقتدار سے محروم ہے اور اسے خود کو عوام کی نگاہوں میں زندہ رکھنے کے لئے کچھ نہ کچھ کہتے رہنا ہے۔ لیکن وزیر داخلہ ضرور اس بات کا جواب دینے کے پابند ہیں کہ انہوں نے ایک مقدمہ قتل میں گرفتاری کے ناقابل ضمانت وارنٹ موجود ہونے کے باوجود سابق آمر کو ملک سے باہر جانے کی اجازت کس اختیار اور قانون کے تحت دی تھی۔ اگر یہ مجبوری تھی تو کیا اب خاموشی بہتر نہیں ہے۔ اگر حکمرانوں کے دعوؤں کا ذکر چل نکلا تو وزیر اعظم کو آدھی کابینہ سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ کیوں کہ ان کے نامی وزیر کچھ اس قسم کے اعلان کرتے رہے ہیں کہ اگر مشرف کو سزا نہ دلوائی گئی تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے وغیرہ۔ پیالی میں یہ طوفان بس اس وقت تک ہے جب تک لوگوں کو مصروف رکھنے اور مسائل سے توجہ ہٹانے کا کوئی دوسرا بہانہ ہاتھ نہیں آجاتا۔ ملک کے حکمران اور اپوزیشن کم از کم اس معاملہ میں متفق دکھائی دیتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 416 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali