من عاشق تہران۔ ۔ ۔


ahsan sabzدو سال قبل امام خمینی کی برسی کے موقع پر دنیا بھر کے صحافیوں کی طرح خانہ فرہنگ کے توسط سے ایرانی حکومت نے کراچی کے صحافیوں کو بھی دورہ ایران کی دعوت دی۔ تہران لینڈ کرنے سے تھوڑی دیر پہلے تک جہاز میں بھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ ہوائی اڈےکے باہر سڑک پر بیٹھے لوگ دیگچیوں میں یورینئیم افزودہ کر رہے ہونگے، بازاروں میں  جوہری میزائلوں کی لوٹ سیل ہوگی، امریکا اور اسرائیل کے سفارتخانوں پر تازہ حملوں کے لئے شفٹیں چینچ ہورہی ہوں گی، اور اجتماعی پھانسیوں کی وجہ سے ہر اگلے چوک پر ٹریفک جام ہوگا۔

لیکن جہاز سے اتر کر شہر میں بہت اندر تک  داخل ہونے کے بعد بھی ایسا کچھ نظر نا آیا، ہاں نسبتاً گرم مرطوب تہران کے اطراف پہاڑیوں پر جمی برف حیرت انگیز تھی، یہاں جتنے دن قیام کیا، لمحے لمحے اور قدم قدم پر انکشافات ہوئے، آنکھوں دیکھی نے بہت شرمندہ کرایا، اپنا سچ تلاش کرنا کتنا ضروری ہے اس کا کبھی نا بھولنے والا سبق حاصل کیا۔ 12 روز کی کہانی تو مہینوں چل سکتی ہے لیکن دل پر اثر کرنے والے لمحات میں سے بس تین پیش خدمت ہیں۔

3** وہ صرف منرل واٹر کی ایک بوتل ہی تو تھی، وہ بھی آدھی خالی، لیکن کیبن والے کی نہیں، میری ملکیت تھی، حالانکہ ہوٹل سے مفت ملی تھی لیکن کیبن پر بھولا تو اُس نے امانت کے طور پر رکھی لی۔ اپنے اُسی فریج میں جو اُسی برانڈ کی بوتلوں سے پہلے سے بھرا ہوا تھا، باقیوں میں صرف میری بوتل آدھی تھی، باقی بھری ہوئیں، میری معمولی باقی قیمتی۔ لیکن تھی تو امانت۔ وہ امانت کی اہمیت سے واقف تھا، اسی لئے تین روز تک حفاظت سے رکھی۔ رات گیارہ بجے کے وقت جب آدھا تہران سو چکا تھا میں اپنے گروپ کے ساتھ عادت کے مطابق کراچی کے ٹائم والی چائے پینے کیبن پرپہنچا تو اس نے وہی پانی کی بوتل مسکراہٹ کے ساتھ تھما کر مجھے لرزا دیا۔ میں تین روز سے اٹھتے بیٹھتے ویسے ہی تہران کی محبت میں شدت سے گرفتار تھا لیکن اس ادا نے تو مجھے بلکل ہی نڈھال کر دیا۔ یا اللہ میں کس شہر میں کن لوگوں کے بیچ رہ رہا ہوں؟ یہ کون سی مخلوق اور سیارہ ہے؟ مہمان نوازی کی مٹھاس نے مجھے چائے کے پھیکے پن کا احساس بھی نا ہونے دیا۔ بقول چانڈیو صاحب کے۔ یار ہم تواس شہر میں ان لوگوں کے بیچ بیمار ہوجائیں گے۔ دل کو کیسے سمجھائیں گے کہ کم و بیش اپنی رنگت والے انسانوں میں ایمانداری، مہمان نوازی، رکھ رکھاوٴ اور نرم گوئی کی تمام باتیں خواب نہیں، حقیقیت ہیں۔

5** کچھ دیر بُرج آزادی کے سائے تلے کھڑے رہنے کا شاندار احساس لیکر قریبی زیر زمین میٹرو اسٹیشن کی جانب لوٹا، ہمارا ہوٹل تہران کے فردوسی نامی علاقے میں تھا، یوں میدان آزادی سے فردوسی کے بیچ آدھے گھنٹے پر محیط راستے میں چھ اسٹیشنز پڑنا تھے۔ اسٹیشن میں داخل ہوتے وقت مشین کے اسکینر کو میٹرو کارڈ دکھایا تو اس نے کریڈٹ ختم ہونے کی نشاندہی کی۔ پاکستانی چند سو روپوں کا کارڈ کتنے ہزار ایرانی ریال کا بنے گا۔ ذہن میں حساب کرتے کرتے ٹکٹ کاونٹر کی جانب بڑھا، وہاں بیٹھے خوش لباس لڑکے نے سلام کا جواب دیتے ہی بھانپ لیا کہ مجھے فارسی نہیں آتی۔ میں نے بٹوے سے نکال کر بہت سے ایرانی ریال اور طومان اس کے سامنے کاوٴنٹر پر پھیلا دئیے کہ مطلوبہ رقم نکال لے، ابھی وہ دبی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے نرمی سے سمجھاتے ہوئے پیسے وصول کر ہی رہا تھا کہ ایک ہانپتی کانپتی زنانہ آواز نے ہم دونوں کو چونکا دیا۔ وہ بہت خوبصورت اور پرکشش تھی، لائن میں پیچھے لگنے کے بجائے بلکل میرے برابر آکھڑی ہوئی، فرانسیسی طرز کا مدہم میک اپ فیشن کے اعلی ذوق کی عکاسی کر رہا تھا۔ اُس نے کاونٹر کی کھڑکی کے اندر ڈال کر ہاتھ سے نوٹ اوپر نیچے ہلاتے ہوئے بے قراری سے کریڈٹ ری فِل کرنے درخواست کی۔ شاید اس کی ٹرین نکل رہی تھی۔ میں تھوڑا پیچھے کو ہٹا لیکن اگلے ہی لمحے کاونٹر میں بیٹھے نوجوان نے دانت بھینچتے ہوئے اُسے نسبتاً سختی سے مخاطب کیا۔ ان دونوں کے درمیان چند جملوں کے تبادلوں میں مجھے مہمان کا لفظ ایک سے زیادہ مرتبہ سنائی دیا۔ اچانک لڑکی نے پیسوں سمیت ہاتھ کاونٹر کی کھڑکی میں سے کھینچ نکالا اور مجھے دیکھتے ہوئے ٹوٹی پھوٹی انگریز ی میں۔ ۔ (سوری، ، پلیز یو گو) کہا۔ اس بار میں نے اُسے غور سے دیکھا۔ وہ واقعی خوبصورت تھی۔ میں چاہ کر بھی۔۔۔ نو نو۔۔۔ یا لیڈیز فرسٹ کا بوسیدہ تکلف بھرا جملہ نا کہہ پایا۔ مسکراتے نوجوان سے کارڈ لے کر پلیٹ فارم کی طرف لوٹا تو عزت افزائی کے گل قند سے ہونٹ چِپچِپا رہے تھے۔ ٹرین میں سفر کے دوران اُس کا فیس کٹ یاد کرتا رہا اور دل ہی دل میں نام مس تہران رکھ دیا۔

6** جس وقت قاری نے تلاوت شروع کی، پہلی آیت ختم ہونے سے پہلے ہی میرے بازؤوں کے بال کھڑے ہوگئے، حالانکہ اسپیکر مناسب فاصلے پر تھا اور تیز اے سی والے ہال میں نیند کی سی کیفیت تھی، لیکن آواز کی پِچ نے مجھے ایک لمحے کے لئے جھنجوڑ ڈالا، مخصوص ایرانی نقوش، قد چھوٹا لیکن چوڑی پیشانی والا پُر اعتماد چہرہ، اُس پر قرانی آیت کے ایک ایک لفظ کی آدائیگی انتہائی سلیقے سے جما بٹھا کر، وہاں قاری صاحب کی آنکھیں بند تھیں لیکن یہاں میں پلکیں جھپکانا بھول گیا، یہ تہران کے صدارتی کمپاونڈ میں صدر احمدی نژاد کی طرف سے دنیا بھر سے آئے صحافیوں کے اعزاز میں سجی تقریب تھی جس کا آغاز کسی کے بھی تعارف یا ہدایتی اعلان کے بجائے براہ راست کلام اللہ سے ہوا۔ یہ تلاوت ہماری اعلی سطح کی محافل کی طرح رسمی یوں نا تھی کہ جس انداز میں صدق اللہ العظیم کے بعد بغیر کسی اناؤنسمنٹ صدر احمدین نژاد خود کرسی سے اٹھ کر آگے بڑھے اور دونوں شانوں سے جکڑ کر قاری صاحب کو گلے لگایا اور دونوں گالوں پر بوسے دئیےمیری لئے منظر بلکل نیا اور چونکا دینے والا تھا، میں نے ایسا ہوتا پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، نا صرف یہ بلکہ صدر صاحب اسٹیج کی سیڑھی کے قریب قاری صاحب سے سوالیہ انداز میں گفتگو کرنے لگ پڑے، اللہ جانے کسی آیت کا مطلب پوچھا یا حسنِ قرات سے متعلق کوئی تکنیکی پہلو دریافت کیا،  لیکن درجنوں غیر ملکی مہمانوں کو خوش آمدید کہنے سے پہلے یوں اپنے ہم وطن اور 24/7 قابل دسترس قاری صاحب کی یوں آن دی اسپاٹ عزت افزائی، وہ بلا شبہ ایک متاثرکن لمحہ تھا، میں نے خود سے کہا کہ یار ایسا کون کرتا ہے، ایسا تو صرف قدردان ہی کرسکتےہیں، اس کے بعد اپنی تقریر میں صدر صاحب نے مہمانوں کو سلام کیا، خوش آمدید کہا، خیریت جانی، پھر تصوف سے لے کر مذہبی رواداری، ثقافت کی اہمیت، بین القوامی سیاست، اقتصادی پیچیدگیوں، تیل کی تجارت توانائی کی بڑھتی ضرورت اور سائینس و ٹیکنالوجی کے بدلتے رجحانات تک ہر موضوع پرجم کر گفتگو کی، کئی باتیں سمجھ آئیں اور جو نہیں آئیں، انہیں بھی میں بالکل اُسی طرح شوق سے سنتا رہا جس طرح قائد اعظم کو سنتے ہوئے ان پڑھ دیہاتی کہا کرتے تھے، کہ معلوم نہیں کیا کہہ رہا ہے، لیکن اتنا یقین ہے کہ سچ کہہ رہا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “من عاشق تہران۔ ۔ ۔

  • 21-03-2016 at 2:06 am
    Permalink

    ایسا ضیاء الحق کیا کرتے تھے جس کی تلاوت پسند آجاتی اسے یورپ کا ٹور کروا دیا کرتے تھے۔ مزید تلاش کے لئے گوگل کیجئے۔ شکریہ

  • 21-03-2016 at 10:14 am
    Permalink

    یہ چوتھا بلاگ پڑھا ہے آپ کا اور میں سبز سبز ہو گیا ہوں ۔ مبشر علی زیدی کی طرح آپکے اگلے بلاگ کا بھی انتظار رہے گا۔

Comments are closed.