سات یگوں کا سنیاسی باوا


naseer nasirآنند یار

کہاں کے سچے ہو تم

ڈپلومیٹ ہو پکے

سہ ملکی شہری ہو

تثلیثِ محبت کے ماہر

الفاظ گری میں یکتا

آفاقی سفارت کار ہو تم

علم و ادب کے ہر شعبے میں

303142_225468634181274_1635182436_nٹانگ اڑائے بیٹھے ہو

اردو، انگلش، ہندی اور پنجابی

چار زبانوں میں لکھتے ہو

اصلاْ “اردو وار” ہو تم

سچ مانو تو

ادبی اجارہ دار ہو تم

ادبوں کا تقابل کرتے ہو

مشرق و مغرب کو مقابل کرتے ہو

انگریزی تراجم سے لے کر

مضمون نگاری تک

311318_223707227690748_1513564917_nہر کام مسلسل کرتے ہو

نظموں سے یاری ہے، غزلوں کے دشمن ہو

تنقید خسارے کا کام ہے لیکن

اس میں بھی تم ارجن ہو

عمر تمہاری کیا ہو گی؟

دیکھنے میں تو بوڑھے لگتے ہو

یونانی متھ کے کردار ہو تم

عہدِ مسیحی اور زبوری دور کے عینی شاہد ہو

گوتم بدھ کے چہیتے ہو

صدیوں کا گیان اور دھیان ہو تم

گیتا تم کو ازبر ہے

قرآنی آیات سناتے ہو، نعتیں بھی لکھتے ہو

ہندو ہو کہ مسلمان ہو تم؟

320938_222435787817892_924624406_nسات یگوں کے سنیاسی باوا

شبدوں کے شیر جوان ہو تم

کہنہ سالی کا بہروپ بھرے بیٹھے ہو

اندر سے تو میرے جیسے بچے ہو تم

آئے ہوئے اک یگ بھی نہیں گزرا اور

جانے کی باتیں کرتے ہو

آنند یار کہاں کے اچھے ہو تم!

آنند یار کہاں کے سچے ہو تم!!

(ستیہ پال آنند کے لیے)


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “سات یگوں کا سنیاسی باوا

  • 21-03-2016 at 5:03 pm
    Permalink

    محبت، محبت اور محبت
    اب میری عمر کے لوگ ہی کتنے رہ گئے ہیں، نصیر
    لڑکپن کے دوستوں میں، نارنگ، گلزاراور میں
    اور تیس برس پرانے دوستوں میں
    فرشی اور تم
    زندہ رہو، خوش رہو،آباد رہو
    میری طرح ہی پوتوں کی خوشیاں دیکھو
    یہی زندگی کا تسلسل ہے۔

  • 21-03-2016 at 7:26 pm
    Permalink

    نصیر صاحب ۔۔۔ کیا اچھی اور دل کو چھونے والی نظم لکھی ہے اپنے یار کے لیے۔۔۔ اور یار بھی ایسا جو دنیا بھر سے محبتیں بٹور کر بیٹھا ہے ۔۔۔ اللہ تعالی آپ دونوں کو زندگی دے اور یہ محبتیں قائم رکھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین ۔۔۔۔۔۔۔

Comments are closed.