ایک دن کی موت


Shabana Syed- Producer Geo News

“ہم جارہے ہیں، ہم اب کبھی واپس نہیں آئیں گے”

یہ جملہ جیسے ذہن میں اٹک کر رہ گیا ہے۔ یہ الفاظ اس مچھلی فروش کے ہیں جس نے قرض سے تنگ آکر بیوی اور بچے سمیت خودکشی کرلی۔ گھر والوں نے کہا، “اس نے کبھی اپنی پریشانی کا ذکر ہی نہیں کیا” دل میں خیال آیا کہ حرام موت کون خوشی سے گلے لگاتا ہے؟ بس بات اتنی سی ہے کہ ہمارے آس پاس موجود لوگ جب اس تباہی کے راستے پر بڑھ رہے ہوتے ہیں، اس وقت ہمیں خبر ہی نہیں ہوتی۔ کیوں کہ ہم مصروف بہت ہیں۔ جب کوئی چلا جاتا ہے تو اس وقت کا منظر دیکھنے والا ہوتا ہے۔ خونی رشتے بین کرتے ہیں، دوست احباب کی آنکھوں سے رواں آنسووں کی جھڑی رکنے کا نام نہیں لیتی۔ مرنے والے کے حسن اخلاق کے قصیدے دل میں خواہش پیدا کر دیتے ہیں کہ کاش یہ شخص ایک بار پھر زندہ ہو جائے ہم بھی  تو دیکھیں ایسے فرشتہ صفت انسان کو۔ بس کیا کہیں کہ محبتوں کا ایک سیلاب ہے جو آنسووں سے لبریز ہوتا ہے۔

لیکن جب وہی انسان زندہ ہوتا ہے، تو نفرتوں کے کون کون سے رنگ ہیں جو اس پر آزمائے نہیں جاتے۔ زندوں کو زندہ درگور کرنا ہم سے بہتر کون جانتا ہے؟ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو واقعی جی رہے ہیں۔ اور اپنے “اپنوں” کو جینے کا حق بھی دے رہے ہیں۔ ان کی پریشانیوں سے واقف ہیں۔ ان کے مسائل میں مددگار ہیں۔ اور کچھ نہیں تو دو میٹھے بول کے بدلے ان کا حوصلہ بڑھارہے ہیں؟ اگر ہم کسی کا خونی رشتہ ہیں تو اپنی ہی الجھنوں میں الجھے ہیں۔ اگر ہم دوست ہیں تو ہم نے دوستی کے نام کا خوبصورت سا ٹیگ لگا کر اس شخص کو چھوڑ دیا ہے۔ اور اگر ہم کسی کے کولیگ ہیں، تو ہمارا ایک دوسرے سے تعلق اتنا مصنوعی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سلام بھی کرلیں، تو جواب سننے سے پہلے ہی کئی قدم آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں۔ اور جو کسی کا حال پوچھ لیں، تو اس کے چہرے کی طرف ایک نگاہ کی بھی زحمت نہیں کرتے، کہ اس نے جو  کہا کہ “میں ٹھیک ہوں” تو کیا وہ واقعی ٹھیک بھی ہے؟

ہم جب اپنی ذات کے غرور میں آگے بڑھتے ہیں تو پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھتے کہ کسی کو چوٹ تو نہیں لگی؟ یا ہم کیسے ہیرے جیسے دل مٹی میں ملا آئے۔۔۔ کبھی پیسے کی چمک اور کبھی نئے چہروں کی کشش،، ہم سے وہ کچھ کرواتی ہے جو کسی دردمند دل رکھنے والوں کا کام نہیں۔ جب ہم اتنے مصروف اور بے حس ہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ ہمارے ارد گرد کوئی ہے جو موت کی طرف بڑھ رہا ہے؟ ہم دور دیس میں بھوک سے مر جانے والے ایک شخص کی خبر پر دکھ سے نڈھال ہوجاتے ہیں، لیکن ہمیں خبر ہی نہیں ہوتی کہ دو قدم کے فاصلے پر کسی سفید  پوش نے بھوکے پیٹ ہی رات گذار دی لیکن اپنا بھرم ٹوٹنے نہیں دیا۔ جس دن ہم یہ احساس کرنے کے قابل ہوجائیں گے تو ممکن ہے کہ خودکشی جیسے گناہ بھی کم ہوجائیں۔ لیکن ایک بات ہے، ہم مُردوں کی جتنی قدر کرتے ہیں دل میں ایک خواہش جاگتی ہے، کاش اللہ نے ایک دن کی موت کا آپشن رکھا ہوتا، تو ہم بھی مرکے دیکھتے۔۔۔ کہ کیا حشر بپا ہوتا۔۔۔ جُھوٹی ہی سہی، وقتی ہی سہی، کچھ لمحوں کی ہی سہی، محبت تونظر آتی۔۔۔ یہ جو میری لحد پر روتے ہیں ناں۔۔۔ جو اُٹھ بیٹھوں تو جینے نہ دیں۔


Comments

FB Login Required - comments