ناقصِ العقل کے لئے ناقص اصطلاح


mehwish

کتنی ہی عجیب بات ہے کہ حقوق نسواں کے لئے اردو میں کوئی مروجہ اصطلاح موجود نہیں ہے۔ یعنی ایک شخص پاکستان میں رہ کے پاکستانی کہلاتا ہے، اسلام قبول کر کے مسلمان ہو جاتا ہے، کرکٹ کھیل کے اسکو کرکٹر کا لقب مل جاتا ہے۔ مگر اگر کوئی حقوق نسواں کا علم بردار بننا چاہتا ہو تو اسکو انگریزی زبان کی طرح ‘فیمنسٹ’ نہیں کہا جاتا۔ اردو میڈیا میں زیادہ تر ‘لبرل’ اور ‘موم بتی مافیا’ سے کام چلا لیا جاتا ہے۔

المیہ یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ چاہے معاشرتی ذرائع ابلاغ کے چبوتروں پہ بیٹھے مسلح جہادی ہوں یا عام زندگی میں چلتے پھرتے زندہ انسان ہوں، جو ہم سے بے پناہ محبت کرتے ہیں – یعنی ایک گمنام کی بورڈ جہادی سے لے کے ہمارے اپنے دوست احباب بھی اس بہت عام اور اہم سی بات کو بھول جاتے ہیں کہ مرد اور عورت دونوں انسان ہیں اور ہر انسان برابر ہوتا ہے۔

جہاں ایک آن لائن جہادی جھوٹے نام اور جعلی تصویر کی آڑ میں چھپ کر ایک عورت کو اظہار رائے پہ اسکے کردار پہ کیچڑ اچھالتا ہے وہیں اصلی زندگی میں اس عورت کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ ‘عورتوں میں صبر کا پیمانہ زیادہ ہوتا ہے’ اس لئے اسے مرد کے بنائے معاشرے میں برداشت کر کے زندگی گزرنا ہوگی۔ جہاں کاروکاری، ونی، غیرت کے نام پہ ناک کاٹنا، تیزاب پھینکنا جیسی خبریں اخباروں کی زینت بنتی ہیں، وہیں اصل زندگی میں یں اخباروں کو ایک “عام” عورت پراٹھوں کے لپیٹنے کے لئے استعمال کرتی ہے۔ وہ پراٹھے جن کے آگے اس کی تعلیم، تربیت اور عزت نفس سب بہت حقیر ثابت ہوتے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے۔ حقوق نسواں کے لئے اب بھی کوئی باقاعدہ لفظ موجود نہیں۔ جب کہ اس عنوان کے پیرائے میں کتنا کچھ سماتا ہے۔

شاید سب اس زبان سے ڈرتے ہیں جو عورت کو مل جائے۔ اگر ہر عورت کو معلوم ہوجائے کہ وہ مرد سے برابری کی توقع رکھ سکتی ہے، وائے افسوس۔ قیامت آجائے گی پھر تو! بہتر یہی ہے کہ ‘فیمنسٹ’ کے لئے اردو زبان میں اصطلاح نہ نکالی جائے۔ بہتر ہے کہ جیسے عورت ہونے کو گالی بنا دیا گیا ہے ویسے ہی عورت کے حقوق مانگنے والوں کو بھی گالی بنا دیا جائے۔ لبرل ہونے کو گالی بنا دیا جائے۔

سنہ 2011 میں پاکستان کو عورتوں کے لئے دنیا کا تیسرا سب سے خطرناک ملک قرار دیا گیا تھا۔ یعنی پوری دنیا میں عورتوں کو سب سے زیادہ خطرہ اگر کہیں ہے تو بس سمجھ لیجئے پاکستان میں ہے۔ مگر مجال ہے کہ بیشتر پاکستانیوں کو اس بات سے عبرت ملے۔ اس طرح کی کسی بھی رپورٹ لکھنے پر ہمارے غیرت مند پاکستانی، اس ویب سائٹ کو، ویب سائٹ کے لکھنے والے کو، لکھنے والے کے گھر والوں کو، اور گھر والوں کی اقداروں کو ایسی ایسی گالیاں دیں گے کہ آپ کو یقین ہوجائے گا کہ یہ ملک واقعی اتنا ہی غیرت مند ہے جتنا ایک پاکستانی فلم کا ہیرو – جسے بہن کے دوپٹے کی زیادہ فکر ہوتی ہے – مگر بہن کی تعلیم کی نہیں۔

بحیثیت عورت اور ‘فیمنسٹ’ فی الحال اسی بات کا شکر ادا کر رہی ہوں کہ اردو اور تاریخ لکھنے والوں نے لفظ ‘irony ‘ کا ترجمہ دے دیا ہےیعنی ستم ظریفی۔ جو اس وقت خواتین اور خواتین کے احوال کے لئے بہت خوب استمعال کی جا سکتی ہے۔ ایک طرف ہمارے ملک کی خواتین کے ٹو تک سر کر لیتی ہیں، آسکر ایوارڈ ایک نہیں دو بار جیتتی ہیں، نوبل کی حقدار ملالہ یوسفزئی قرار پاتی ہیں، خواتین کے حقوق کے لئے بل بنائے جاتے ہیں اور نرگس مالواوالا کشش ثقل کی لہروں کی کھوج میں جھنڈے گاڑتی ہیں مگر اس ملک میں  منبر پہ بیٹھ کے لوگ شرمین عبید چنائے کو فاحشہ کہتے ہیں، خواتین پہ ہونے والے مظالم کے اوپر بات کرنے پہ لوگ خواتین وزراء کو جھوٹا اور جاہل کہتے ہیں، ملالہ کو ایجنٹ کہتے ہیں اور اسکی تصویروں پہ الٹے سیدھے نقش و نگار بناتے ہیں۔ فیمنسٹ ہونا تو درکنار – اس ملک میں تو انسان کو انسان سمجھنا ہی اب اچھنبا لگتا ہے۔

ہاں البتہ طالبان کے لئے ہر طرح کے وضاحتی الفاظ و بیانات موجود ہیں۔ ‘ناراض بھائی’۔۔۔ ‘بھٹکے ہوئے مسلمان’۔۔۔ ‘جی ہمیں معلوم نہیں، الله بہتر جانتا ہے’ وغیرہ وغیرہ۔ ان معاملات میں بہت خیال سے کام لینے کا کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سوچ کر بات کیجئے۔ جو لوگ سروں سے فٹبال کھیلتے ہیں، درسگاہوں پہ جا کے الله اکبر کا نعرہ لگا کر ننھے معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں، جو نہتے لوگوں پہ وار کرتے ہیں، جو لوگ امام بارگاہوں، پولیس چوکیوں اور گلی کوچوں میں بے قصور لوگوں پہ اعلان جنگ کو غلط نہیں سمجھتے ان کیلئے کالم در کالم وضاحتیں دینا، انکی تعریفیں بیان کرنا اور انکے خلاف بولنے والوں کو امریکہ کا ایجنٹ قرار دینا۔۔۔ یہ سب غلط نہیں ہے۔ البتہ شرمین اور ملالہ ملک کو بدنام کر رہی ہیں لہٰذا انکے حق میں بیان دینا ابلیس سے ہم نوالہ ہونے کے مترادف ہے۔

ہماری زبانوں میں کشادگی انہی گروہوں کے لئے آتی ہیں جن گروہوں کے لئے ہمارے معاشرتی بیانیے میں گنجائش موجود ہوتی ہے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ اس ملک میں پھٹنے والے دہشت گرد کے لئے تاویلیں بنانے والے بہت مل جائیں گے مگر حقوق نسواں پہ بات کرنے کے لئے نہ الفاظ ہیں، اور نہ لوگ، نہ قانون میں فراخدلی ہے، نہ سوچ میں، نہ درسگاہوں میں اور نہ ہی گھروں میں۔ نہ تعلیم میں سکھایا جاتا ہے کہ عورت اور مرد برابر وجود ہیں اور نہ تربیت میں۔ نہ ٹی وی میں عورت مضبوط دیکھتی ہے نہ کتاب میں۔

تو جناب۔ جس معاشرے میں اقدار کا تعین اور اسکی روح شروع سے لے کے آخر تک مرد کے برتر ہونے کی بابت ہو ایسے میں لغت میں ‘فیمنسٹ’ کے معنی ڈھونڈنا بے شک ایک ‘ناقص العقل’ حرکت ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “ناقصِ العقل کے لئے ناقص اصطلاح

  • 21-03-2016 at 2:05 pm
    Permalink

    very good

Comments are closed.