معاشرتی اقدار اور مولانا کے اپنے شرعی احکام


sehrish usman

آپ کہتے ہیں بل واپس نہ لیا گیا تو دمادم مست قلندر ہوگا۔

سود کے ستر درجوں والی حدیث یاد ہے آپ کو؟ مولانا صاحب وہ بیان واپس نہیں لیا گیا۔ اور دما دم مست قلندر تو درکنار کسی کی ’غیرت‘ کی گھڑولی بھی نہیں گائی آپ حضرات نےـ تو پھر کیا ہم یہ سمجھنے می‍ں حق بجانب ہیں کہ آپ لوگو‍ں کہ نزدیک عورت کا تحفظ اللہ اور اس کہ رسول(صلی علیہ وسلم) سے جنگ کرنے سے زیادہ برا، زیادہ خطرناک ہے نعوذ باللہ؟

مولوی ساب آپ کہتے ہیں بل غیر شرعی ہے کیا میں پوچھنے کی جرات رندانہ کر سکتی ہوں کہ کون سی شریعت؟ وہ شریعت جو میرے رب نے اتاری ہے۔ جس میں میرے معاملات کہ متعلق اس سے ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے یا پھر وہ جو آپ پر اس وقت القاء ہوتی ہے جب کبھی کسی آمر کا ساتھ دینا ہو تب جب کبھی کسی خاتون پر فتوی لگانا ہو تب۔ یا پھر جب کبھی اپنے کسی ساتھی کو بچانا ہو تب۔ مولوی ساب مجھےکہنے دیجیےشریعت آپ کے خمِ ابرو کا نام نہیں ہے۔ بس کردیں یہ منافقت کہ بھٹو پیے تو شرابی اور اشرفی صاب کا ’میٹھا پان‘ بھی مقدس۔ اس دوغلے پن سے باہر آئیے، عورت کہ نام پر سیاست کرنا چھوڑ دیجیے، دنیا کافی بدل چکی ہے۔ مذہب کو استمال کرنا ترک کیجیے اور سیاست، سیاست کہ نام پر کیجیے
شریعت اور معاشرتی اقدار کے پیچھے چھپنا چھوڑ دیجیے۔

ویسے معاشرتی اقدار کی بھی خوب کہی، کون سی معاشرتی اقدار؟ جہاں بیٹی کی پیدائش طلاق کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ جہاں وراثت معاف کرا لی جاتی ہے اور جہاں حق مہر طلاق کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے۔ اس معاشرے کی معاشرتی اقدار کی بات کرتے ہیں جہاں باپ دادا سمیت سات پشتوں کی عزت کا بوجھ لڑکی تن تنہا اپنے‘ناتواں‘ کندھوں پر اٹھا کہ پھرتی ہے اور جہاں بیٹی کی زبردستی شادی کر کہ باپ شادی میں شملہ اونچا کر کے پھرتا ہے اور بھائیوں کی غیرت گنے کا رس پیتی ہے؟ کونسی معاشرتی اقدار اور کہاں کی شریعت۔

اس معاشرے میں جب لڑکی سات دیوروں کہ ساتھ ایک ہی گھر میں رہ کہ ’شریعت‘ فالو کرتی ہیں نا تو آپ ہی جیسا کوئی مولوی اس پر پردے کا حکم نرم کر دیتا ہے کیونکہ فریاد لے کہ آپ کا ہم جنس جاتا ہے اور وہی لڑکی احتجاج کرنے کی صورت میں غیرت کہ نام پر بے غیرتی سے قتل کر دی جاتی ہے اور مدعا اسلام پہ ڈال دیا جاتا ہے۔

سمجھ نہیں آتی کہ یہ شرم کا مقام ہے یا افسوس کا۔ ۔جس شریعت میں بیوی شوہر کے گھر کے کام کرنے کی پابند نہیں، اسی شریعت کو ماننے والے جوائنٹ فیملی اور اس کی قباحتوں کو عین اسلامی قرار دینے پر تل گئے ہیں۔ اور ان قباحتوں پر بند باندھنے پر دمادم مست قلندر کی دھمکیاں۔ واہ مولوی ساب واہ کیا، ہی عمدہ خدمت سر انجام دے رہے ہیں آپ اسلام کی۔

اب کافر نہ سہی، گمراہ تو آپ قرار دے ہی ڈالیں گے تو کیوں نہ کہہ دوں کہ اگر شوہر کا بیوی کو مارنا معاشرتی قدر ہے، اگر لڑکی کا پسند کی شادی کرنا جرم اور زبردستی شادی کرانا معاشرتی قدر ہے اور اگر ونی کرنا، کارو کاری کرنا، قرآن پاک سے شادی کرنا جیسے کام معاشرتی اقدار ہیں تو تف ہے ایسے معاشرے پر اور ان اقدار پر۔

مولانا ساب اسلام کی خدمت ہی کرنا ہے تو ریسرچ کیجیے، تفکر کیجیے ،سود کا متبادل بتائیے، بینک بغیر سود کہ کیسے زندہ رہ سکیں، یہ بتائیے۔

ولی زبردستی کر رہا ہو تو لڑکی کی ولی سٹیٹ ہوتی ہے یہ بتائیے۔ بیوی غلام نہیں ہوتی لوگوں کو یہ سمجھائیے۔

مولوی ساب رد عمل کی نفسیات سے ڈریے۔ اور اس شعر کو سمجھ کر پڑھیے۔

فریب ذات سے نکلو جہاں کے سانحے دیکھو
حقیقت منکشف ہو گی کبھی تو آئینے دیکھو


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “معاشرتی اقدار اور مولانا کے اپنے شرعی احکام

  • 21-03-2016 at 11:48 pm
    Permalink

    Agreed, fully and vigorously

  • 06-04-2016 at 7:56 am
    Permalink

    Nice

Comments are closed.