بے سمت سفر اور مکالمے کا کھیل


aamir hashim

ہمارے ہاں پچھلے کچھ عرصے سے ایک خاص قسم کا فکری بھونچال آیا ہوا ہے۔ سماج میں مختلف نوعیت کی فکری اورنظریاتی لہریں سرائیت کرتی، ابھرتی، ڈوبتی رہتی ہیں۔ اسی حساب سے مکالمے کا عمل بھی جاری رہتا ہے، اسے روکنا نہیں چاہیے، لیکن سفر خواہ جسمانی ہو، روحانی یا فکری، اسے سمت کی ضرورت پڑتی ہے بے سمت سفر اور خواہ مخواہ کا مکالمہ برائے مکالمہ نرا وقت کا ضیاع ہے۔ انٹیلی جنشیا یا اہل دانش کا کام اہم مسائل پر غور کرنا، الجھے ہوئے مسائل سلجھانا اور پیچیدہ گرہیں کھولنے کی سعی کرنا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے مگر مزید گرہیں لگانا یا نئی پیچیدگیاں پیدا کر دینا عقل مندی نہیں۔

پاکستان میں حالیہ ارتعاش کی دو واضح وجوہات ہیں۔ ملک نے پچھلے عشرے میں تین طرح کی دہشت گردی کا سامنا کیا۔ کراچی میں ایک لسانی جماعت کی فسطائیت اور دہشت گردی، جس کے بھارتی ایجنسی را سے فنڈز لینے کے اب خاصے ٹھوس ثبوت آ چکے ہیں۔ بلوچستان میں شدت پسند بلوچ دہشت گروہوں کی جانب سے نہتے، غیر بلوچ آباد کاروں کی ٹارگٹ کلنگ بھی ماضی قریب کی تاریخ کا ایک ہولناک سیاہ باب ہے۔ تیسری دہشت گردی کی سطح زیادہ پھیلی ہوئی، خطرناک اورشدید تھی۔ تحریک طالبان پاکستان اور فرقہ ورانہ دہشت گردی کی اس لہر نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ بدقسمتی سے ایسا کرنے والوں نے ایک خاص قسم کی سخت گیر تکفیری مذہبی فکر کو استعمال کیا اوریوں مسلکی بنیادوں پر بعض مذہبی حلقوں میں کچھ نہ کچھ حمایت حاصل کر لی۔ مسجدوں میں بم دھماکے، سرکاری اداروں پر خود کش حملے، معصوم بچوں تک کو اپنی سفاکی اور درندگی کا نشانہ بنانا اور پھر اس دہشت گردی کا مذہبی تعبیر و تشریح سے دفاع کیا۔ اس کے دو نتیجے برآمد ہوئے۔ ایک تو ہمارا پڑھا لکھا نوجوان اس شدت پسند مذہبی فکر سے نالاں ہو کر روایتی مذہبی حلقے اور مذہبی تعبیر ہی سے دور ہوگیا۔ داعش کے بدصورت بھیانک چہرے کو دیکھ کر اچھے بھلے مذہبی گھرانوں کے پڑھے لکھے نوجوان بھی یہ سوچنے لگے کہ اگر یہ مذہبی تعبیر ہے تو پھر اس سے دور ہی رہنا چاہیے۔ بدکے ہوئے ان سادہ نوجوانوں کو سیکولرازم میں کشش پیدا ہوئی۔ انہیں یہ سلوگن اچھے لگنے لگے کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور صرف مذہب کی بنا پر کسی سے تفریق نہیں ہونی چاہیے، دنیا میں چلنا ہے تو لبرل امیج بنانا پڑے گا، وغیرہ وغیرہ۔

دوسرا اہم کام ریاستی سطح پر اہل مذہب سے دور رہنے کی پالیسی کی شکل میں نمودار ہوا۔ آپریشن ضرب عضب نے جہاں دہشت گردوں کا صفایا کر دیا، وہاں اس دہشت گردی کو تقویت پہنچانے والی فکر کے خلاف بھی کارروائیاں ہونے لگیں۔ ریاستی اور حکومتی سطح سے اس کے اشارے ملے کہ پاکستانی ریاست نے پچھلے تین چار عشروں سے جو پالیسی اپنائی تھی، اس پر نظرثانی کا اب وقت آگیا ہے۔ تبدیل شدہ بیانیہ اور نئے سماجی معاہدہ عمرانی کی باتیں ہونے لگیں۔ ایسا ہوتے ہی ہمارا سیکولر، لبرل طبقہ جو ہمیشہ سے اقلیت میں رہا اور عوام کے دلی جذبات و احساسات کو نظرانداز کرنے، سماج کے فیبرک کو نہ سمجھنے کی وجہ سے انہیں کبھی عوامی پزیرائی نہیں ملی۔ اب اچانک ہی صورتحال تبدیل ہوجانے سے انہیں یوں لگا جس وقت کا وہ عشروں سے انتظار کر رہے تھے، وہ آن پہنچا اور اب تیزی سے حرکت میں آ جانا چاہیے۔ انہیں محسوس ہوا کہ اب اہل مذہب یا زیادہ درست الفاظ میں پاکستانی اسلامسٹ (رائٹسٹ )دبائو کا شکار ہیں، ایسے میں نئے ریاستی بیانیہ کے نام پر کچھ بھی منوانا ممکن ہے۔ پاکستانی سیکولر دوست یہ سمجھ رہے ہیں کہ شائد اب پاکستانی ریاست سے اسلامی کا لفظ ہٹایا جا سکے، قانون توہین رسالت میں ترمیم کی جا سکے، قرارداد پاکستان کو متنازع بنایا جا سکتا ہے اور ا س کے ساتھ ساتھ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی جو ترمیم بھٹو صاحب نے پارلیمنٹ سے منظور کرائی تھی، اس پر بھی اعتراض ہونے چاہئیں۔ ”سیانے‘‘ لوگ ایسے میں یہی کرتے ہیں کہ اس قدر غبار اڑا دیا جائے کہ ہر کوئی کنفیوژ ہوجائے۔ کسی کو کچھ سمجھ نہ آئے کہ ٹھیک کیا ہے اور غلط کیا۔ تب سراسیمگی میں وہ کچھ بھی کرایا جا سکتا ہے، جو عام حالات میں شائد ممکن نہ لگے۔

بعض باتیں اصولی طور پر درست ہوتی ہیں، صرف ان کا اطلاق غلط جگہ پر ہو رہا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اس سے کسی کو اختلاف نہیں کہ مکالمہ جاری رہنا چاہیے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ نا انصافی طے شدہ نہیں ہوتی، اگر ماضی میں کوئی غلط کام ہوجائے تو پھر اس کی اصلاح کی بات کرنا غلط نہیں۔ نا انصافی کا آسیب تو ظاہر ہے ہر حال میں دور ہونا چاہیے۔ یہ وہ سب پرکشش، خوبصورت تخلیقی جملے ہیں، جن پر داد دینا بنتی ہے۔ ہمارے محترم دوست وجاہت مسعود نے اپنی حالیہ تحریروں میں یہ سب سوالات اٹھائے ہیں۔ وجاہت صاحب‘ صاحب علم ہیں، پاکستانی سیکولر حلقے میں انہیں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ ناچیز ایک عام اخبار نویس، محدود علم اور کمزور ابلاغ کی وجہ سے بات سمجھانا بھی شائد آسان نہ ہو۔ عرض صرف یہ ہے کہ رائٹ ونگ یعنی اسلامسٹ ہوں یا لیفٹ، لبرل لیفٹ کے لوگ… کئی عشروں کی جدوجہد کے بعد کچھ نہ کچھ باتیں دونوں حلقوں نے منوائی، ریاستی سطح پر تسلیم کرائی ہیں۔ کچھ اصول طے ہوگئے، بعض مشترک نکات سامنے آگئے۔ دونوں اطراف کے لوگ جن کا احترام کرتے اور ان سے ٹکرانے، دوبارہ، نئے سرے سے فکری جنگ چھیڑنے سے گریز کرتے ہیں۔

برسبیل تذکرہ اب یہ بھی مان لینا چاہیے کہ پاکستان میں رائٹ ونگ صرف اور صرف مذہبی نقطہ نظر رکھنے والے لوگ ہی ہیں۔ وہ لوگ جو خدا اور اس کے دین کو گھر تک محدود کرنے کے قائل نہیں، اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور وہ رب کائنات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے طریقوں کو سمجھتے ہیں۔ دنیا میں رائٹ ونگ کی جو بھی شکل ہو، ہمارے ہاں یہی چلی آ رہی ہے، پچاس سال کی تاریخ جس کی پشت پر ہے۔ اس نقطے کو تسلیم کر ہی لینا چاہیے۔

قرارداد مقاصد رائٹ ونگ کی بڑی اور بنیادی کامیابی تھی۔ دراصل یہ پاکستانی عوام کی کامیابی تھی، جو نئے وطن کو اسلام کا مرکز دیکھنا چاہتے تھے۔ ایک رول ماڈل، ایسی ریاست جو اسلام کے تصور ریاست، تصور معاشرت، تصور اخلاق کو مجسم کر کے دکھا دے۔ تہتر کے آئین کے بعد رائٹ ونگ کے لوگ مطمئن ہوگئے۔ تمام اہم سکالروں اور مذہبی جماعتوں کے نزدیک یہ اسلامی آئین ہے اور اس میں تمام بنیادی باتیں آگئی ہیں، اب صرف عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ ہمارے لیفٹسٹ، سیکولر حلقے بھی پچھلی نصف صدی کے دوران اپنے اپنے انداز میں جدوجہد کرتے رہے۔ صوبوں کی خودمختاری کا سوال وہ اٹھاتے تھے، اٹھارویں ترمیم میں وہ سب کچھ دے دیا گیا۔ خواتین کی پارلیمنٹ میں نمائندگی، ان کے لئے مخصوص نشستیں، بلدیاتی اداروں میں نمائندگی، مخلوط طریقہ انتخاب جیسے ایشوز سیکولر سیاست اور اہل دانش کے ایجنڈے پر سرفہرست تھے۔

اب یہ سب ہوچکا۔ کیا ان سب پر دوبارہ سے بحث شروع کرنا مناسب ہوگا؟پارلیمانی نظام پر سب کا اتفاق ہے، مگر صدارتی طریقہ انتخاب بھی دنیا کے کئی اہم ممالک میں رائج ہے۔ صدارتی نظام جمہوریت کا حصہ ہی ہے، مگر کوئی شخص غلطی سے یہ سوال اٹھا دے تو ہمارے لبرل، سیکولر دوست پوری قوت سے اس پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ملک میں پارلیمانی نظام ہو یا صدارتی نظام … یہ سوال کسی بھی مکالمے کا عنوان ہوسکتا ہے، مگر کیا اس مکالمے کی ہمارے دوست اجازت دیں گے؟ ایسا ہرگز نہیں ہونے دیا جاتا، اس مکالمے کا فوراً ہی گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ (یہاں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ میں پارلیمانی نظام کا حامی ہوں اور میرے خیال میں صدارتی نظام والی بات درست نہیں۔ درحقیقت میرے نزدیک تو یہ بات کرنا ایک نئے فتنے کو جگانے کے برابر ہے، جس سے گریز کرنا چاہیے)۔

اسی طرح لبرل، سیکولر حلقوں کے برسوں کے مطالبے کے بعد جا کر مخلوط طرز انتخاب آئین کا حصہ بنا، اقلیتیں اب اس حوالے سے مین سٹریم کا حصہ ہیں۔ ہمارے رائٹ ونگ میں اس حوالے سے ہمیشہ تحفظات رہے ہیں، مذہبی جماعتیں اس کی مخالف ہیں، مگر یہ چیز طے ہوگئی، ٹھیک ہے آگے چلنا چاہیے۔ اب کوئی مرد مجاہد اس پر” مکالمہ‘‘ شروع کر دے تو اس کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے؟ اسی بحث کو ایوب خان کے عائلی قوانین پر منطبق کیا جاسکتا ہے۔ تمام مذہبی جماعتوں کے منشور میں عائلی قوانین کی منسوخی کا مطالبہ شامل ہے، مگر یہ اب پاکستانی قوانین اور سماجی روایت کا حصہ بن چکا ہے۔ میرے جیسے لوگ اس پر نئے سرے سے بحث شروع کرنے کے مخالف ہیں۔ جن باتوں پر اتفاق رائے ہوجائے، سماج اسے قبول کر چکا ہے تو پھر اسے چلنے دیں۔ یہ وقت نئے فتنے پیدا کرنے، طے شدہ باتوں کو چھیڑ کر خواہ مخواہ کے پرانے قضیوں کو جگانے کا نہیں۔

بے سمت سفر اور خواہ مخواہ کا مکالمہ بھی ایک خاص سطح پر جا کر فکری عیاشی بن جاتا ہے۔ پاکستان اس وقت اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ لبرل، سیکولر حلقے کے دانشوروں اور لکھاریوں سے یہی درخواست ہے کہ وہ موقعہ کی نزاکت کو سمجھیں اور ملک کو آگے کی طرف لے جانے والا بامقصدمکالمہ شروع کریں، اصلاحات پر بات کریں۔ ریاست کی تعمیر وترقی کو اپنا ایجنڈا بنائیں۔ وقت کی ضرورت یہی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “بے سمت سفر اور مکالمے کا کھیل

  • 21-03-2016 at 5:00 pm
    Permalink

    جناب عامر صاحب
    وہ لبرل جو یہ سب کر رہے ہیں وہ ہیں کہاں؟ہم سب جیسی بے ضرر ویب سائٹ پر یا فیس بک جیسے ناپائیدار پلیٹ فارم پر،اس کے علاوہ کہیں ہیں تو نشاندہی کیجئے،تاکہ ہم بھی ان کی آواز میں آواز ملا سکیں۔ان بیچاروں کی آواز نقارخانے میں طوطی کی آواز ہے جس پر کان دھرنے والا مقتدر حلقوں میں شاید ہی کہیں ہو۔ایسے عالم میں بھی ان کی کاوشوں سے آپ یا دایاں بازو تشویش میں مبتلا ہے تو یہ تشویش ناک صورتحال ہے۔شریعت کے واضح اصولوں کے علاوہ طے شدہ کچھ بھی نہیں ہوتا کہ جس پر رائے زنی یا مکالمہ نہ ہوسکے۔تہترکا آئین بھی ایک قابل بحث ہے اور احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے والا فیصلہ بھی۔اس فیصلہ پر تو اسی وقت ہی آوازیں اٹھنی شروع ہوگئی تھیں،کہ کسی اسمبلی کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ کسی کے مذہب کا فیصلہ کرے۔
    جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ
    :’’سیکولر، لبرل طبقہ جو ہمیشہ سے اقلیت میں رہا اور عوام کے دلی جذبات و احساسات کو نظرانداز کرنے، سماج کے فیبرک کو نہ سمجھنے کی وجہ سے انہیں کبھی عوامی پزیرائی نہیں ملی‘‘
    یہ بھی عجیب قصہ ہے۔ایک طرف پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم جیسی لبرل جماعتیں ہیں جو اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھی ہیں اور دوسری طرف نام نہاد جماعت اسلامی جسے آج تک عوام رد کرتی آئی ہے۔

  • 21-03-2016 at 8:27 pm
    Permalink

    لبرل ، سیکولر حلقے کمزور ہی ہیں تو اس لئے جو چیزیں جنرل ضیا جیسا ڈکٹیٹر آئین میں شامل کرا گیا، وہ تک نہیں نکلوا سکے ۔ حالانکہ ملک پر جنرل ضیا کی مخالف جماعتوں کی کئی بار حکومت رہی، ویسے تو میاں صاحب بھی اب جنرل ضیا کو ڈس اون کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے لبرل دوستوں کو اپنے مقاصد میں کامیابی نہیں ہو رہتی تو ان سے ہمدردی تو بنتی ہے۔ اور چھوڑئیے، جو بھٹو صاحب ترمیم کر گئے، یہ بقول آپ کے اقتدار کی سنگھاسن پارٹیاں وہ بھی ختم نہیں کرا سکیں، چاہنے کے باوجود آپ دوستوں کو دلی خوشی نہیں دے پا سکیں۔

  • 22-03-2016 at 3:06 pm
    Permalink

    آج بہت خوب تصورِ کائنات ملا ہے۔ اس میں کوئی بھی قانون بن کے جامد ہو جاتا ہے؛ سورج کے گویا سوا نیزے پہ آنے کا وقت آن پہچا۔ اب چُپ سادھنا ہوگی کیونکہ آپ کم ہیں کیونکہ اہلِ مکہ اپنے بتوں کو پوجنے کو ہی حق سمجھتے ہیں اور وہ زیادہ ہیں۔ فرانسس فُکویاما کی طرح قبلہ خاکوانی صاحب نے بھی پاکستان میں دائیں بازو کی ما بعد ابد کی فتح کے لمحے کو قید و بند کی صعوبت میں ڈال دیا ہے۔

    خوش رہئے

Comments are closed.