دائیں بازو کے اسلامسٹ اور ان کی فکری گرہیں


adnan Kakar

برادر عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ ’عرض یہ ہے کہ رائٹ ونگ یعنی اسلامسٹ ہوں یا لیفٹ، لبرل لیفٹ کے لوگ۔۔۔ کئی عشروں کی جدوجہد کے بعد کچھ نہ کچھ باتیں دونوں حلقوں نے منوائی، ریاستی سطح پر تسلیم کرائی ہیں‘۔۔۔ مزید فرماتے ہیں کہ ’برسبیل تذکرہ اب یہ بھی مان لینا چاہیے کہ پاکستان میں رائٹ ونگ صرف اور صرف مذہبی نقطہ نظر رکھنے والے لوگ ہی ہیں۔ دنیا میں رائٹ ونگ کی جو بھی شکل ہو، ہمارے ہاں یہی چلی آ رہی ہے‘۔

سب سے پہلے تو یہ دیکھتے ہیں کہ اسلامسٹ کی انگریزی اصطلاح کا مطلب کیا لیا جاتا ہے۔ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں اس کا مطلب دیا گیا ہے کہ ’اسلامی جنگ جوئی یا بنیاد پرستی کا حامی یا وکیل‘۔ امیرکن ہیریٹیج ڈکشنری میں اسلام ازم کا مطلب دیا گیا ہے کہ ’ایک اسلامی نشاۃ الثانیہ کی تحریک، جو عمومی طور پر اخلاقی قدامت پرستی، الفاظ کے لغوی معنی پر عمل کرنے، اور زندگی کے تمام پہلووں پر اسلامی اقدار منطبق کرنے پر زور دیتی ہے‘۔

کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز کہتی ہے کہ ’اسلامسٹ کی نفرت آمیز اصطلاح انتہا پسند مسلمانوں یا ان مسلمانوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن کو امریکی نیوز میڈیا پسند نہیں کرتا ہے‘۔ کونسل نے ایسوسی ایٹڈ پریس کی اسلامسٹ کی اصطلاح پر اعتراض کیا تھا جو کہ کچھ یوں تھی کہ ’ایسی حکومت کا حامی جو کہ اسلامی قانون کے مطابق ہو اور جو کہ قرآن کو سیاسی ماڈل کے طور پر دیکھتی ہو‘۔

یاد رہے کہ داعش اور القاعدہ کو اسلامسٹ نظریے کی ایک صورت ہی سمجھا جاتا ہے۔ اسلامسٹ نظریے کے ایک اہم مفکر سید مودودی گنے جاتے ہیں جن کی پولیٹیکل اسلام کی تھیوری کو بالخصوص دیوبندی مکتبہ فکر کی طرف سے مسترد کیا جاتا ہے۔ سید مودودی کے رد میں بالخصوص مولانا علی میاں اور مولانا وحید الدین خان کی تحریریں نمایاں ہیں۔

ایسے میں پولیٹیکل اسلام کے مخالفین کو اور پرامن جد و جہد کے حامیوں کو بھی زبردستی ’اسلامسٹ‘ قرار دے دینا، مناسب نہیں ہے۔ یا پھر ایسی بات ہے کہ پولیٹیکل اسلام کے مخالف قدامت پرست، دائیں بازو میں شمار نہیں کیے جائیں گے؟ کیا مولانا علی میاں اور مولانا وحید الدین خان وغیرہ کی فکر دائیں بازو کی ہے یا بائیں بازو کی؟ کیا واقعی ہمارے ہاں صرف اور صرف رائٹ ونگ صرف اور صرف اسلامسٹوں پر ہی مشتمل ہے؟ کیا ہمیں یہ یاد کر لینا چاہیے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی مسلم لیگ ن کو رائٹ ونگ کی جماعت سمجھا جاتا ہے، لیکن اسے اسلامسٹ قرار نہیں دیا جاتا ہے۔

ہاں رائٹ ونگ کا مطلب بھی دیکھ لیتے ہیں کہ کیا ہے۔ اردو میں اسے رجعت پسند یا قدامت پرست کہا جاتا ہے۔ کیا صرف اسلامی مذہبی جماعتیں ہی قدامت پرستی اور رجعت پسندی کی قائل ہیں؟ کیا پاکستان میں غیر مسلم بھی آباد ہیں، اور کیا ان میں بھی قدامت پرست سوچ رکھنے والے پائے جاتے ہیں؟ کیا ونی، سوارا، کاروکاری، اور دوسری قبائلی اور علاقائی رسومات کے پیروکار قدامت پرست کہلائیں گے یا پھر صرف اسلامسٹ ہی قدامت پرست ہوتے ہیں؟ ایسے میں اس دعوے کو کہ ’رائٹ ونگ صرف اور صرف مذہبی نقطہ نظر رکھنے والے لوگ ہی ہیں‘، ایک سویپنگ سٹیٹمنٹ ہی کہا جا سکتا ہے۔

خاکوانی صآحب آگے چل کر فرماتے ہیں کہ تمام اہم سکالروں اور مذہبی جماعتوں کے نزدیک یہ اسلامی آئین ہے۔

چلیں ہم دو مشہور عالموں کا بیان دیکھ لیتے ہیں، جن میں سے ایک ڈاکٹر اسرار مرحوم ایک مذہبی جماعت کے بانی بھی ہیں۔ خاکوانی صاحب کو جمہوریت اور آئین پاکستان پر ڈاکٹر اسرار احمد اور تیسیر القرآن کے مصنف مشہور اہل حدیث عالم عبدالحمان کیلانی صاحب کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ کیلانی صاحب نے تو اس مسئلے پر ایک مشہور کتاب بعنوان ’خلافت و جمہوریت‘ بھی رقم کی ہے۔

ڈاکٹر اسرار اور تنظیم اسلامی کا موقف ڈاکٹر حسین احمد پراچہ صاحب کے روزنامہ نوائے وقت کے 23 نومبر 2012 کے کالم میں کچھ اس طرح درج ہے:۔

حافظ عاکف سعید نے اپنے تحریری خطاب میں قیام پاکستان کے پس منظر اور آزادی سے لیکر اب تک کے حالات پر جامع انداز میں روشنی ڈالی۔ انہوں نے ڈاکٹر اسرار احمد کی فکر اور ان کے تحریروں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان میں جمہوریت کا سفر ایک ناکام سفر ہے، ہمیں جمہوریت کا راستہ ترک کر کے خلافت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ان کے والد گرامی ڈاکٹر اسرار احمد نے 1957 میں اسی بنا پر مولانا مودودی سے اپنا راستہ جدا کر لیا تھا کیونکہ ان کے خیال میں اسلامی نظام یا اسلامی انقلاب انتخاب کے ذریعے برپا نہیں ہو سکتا۔ حافظ عاکف سعید نے ڈاکٹر اسرار احمد کی چند کتب اور ہفت روزہ ”ندائے خلافت“ کا تازہ ترین شمارہ بھی عنایت فرمایا۔ اس جریدے کے مندرجات سے تنظیم الاسلامی کی فکر اور بھی واضح ہو کر سامنے آئی ہے۔ اس شمارے میں خلافت فورم کے ایک فکر انگیز مذاکرے کی روداد بھی شائع کی گئی ہے۔ مذاکرے کے شرکا میں پروفیسر غالب عطا اور ایوب بیگ مرزا شامل تھے۔ ایک سوال کے جواب میں پروفیسر غالب عطا بیان کرتے ہیں ”جمہوریت کو اسلامائز کرنے کی کوشش ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص قربانی کے بکرے کی بجائے سور لے آئے لہٰذا ہمیں اس سور سے نجات حاصل کر کے اس بکرے کو لانا ہو گا جس کی قربانی اللہ کی نظر میں جائز ہے“۔ ڈاکٹر اسرار غیر مسلموں کو ووٹ کا حق نہیں دیتے ہیں اور وہ صدارتی نظام کو خلافت کے قریب قرار دیتے ہیں اور اس پارلیمانی نظام کے خلاف ہیں جسے سپریم کورٹ دستور کے بنیادی ڈھانچے میں سے ایک رکن قرار دے چکی ہے۔

کیلانی صاحب فرماتے ہیں کہ ’اسلامی نقطہ نظر سے بالغ رائے دہی کا تصور موجودہ جمہوری تصور سے یکسر مختلف ہے‘۔ ’موجودہ تصور رائے دہی میں ہر رائے کی قیمت یکساں قرار دی گئی ہے۔ یہ نظریہ بھی اسلامی نقطہ نظر سے باطل ہے‘۔ ’موجودہ دور میں ہر بالغ کو یہ حق دیا جاتا ہے۔ اگر کسی بالغ کا نام فہرست رائے دہندگان میں چھپنے سے رہ جائے تو وہ قانونی طور پر اس پر گرفت کر سکتا اور اس حق کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ تصور بھی یکسر باطل ہے کیونکہ قرآنِ کریم نے بے شمار مقامات پر معاشرہ کی اکثریت کو جاہل، ظالم اور فاسق قرار دیا ہے، جن سے رائے لینا یا ان آراء پر عمل پیرا ہونا ایک گمراہ کن امر ہے‘۔ ’ انتخابِ امیر میں ووٹ کا حق تو اسلام نے سب مردوں کو بھی نہیں دیا، عورتوں کو کیسےدیا جا سکتا ہے؟‘۔ ’امورِ مملکت میں غیر مسلموں کو شریک کرنے یا انتخاب کے سلسلہ میں ووٹ کا حق دینے کی ہمارے خیال میں کوئی گنجائش نہیں‘۔ وغیرہ وغیرہ۔ کیلانی صاحب کی فکر کے پیروکار بھی بہت ہیں جناب۔

جہاں تک خاکوانی صاحب کےاس نکتے کا تعلق ہے کہ تمام بنیادی امور پہلے ہی طے ہو چکے ہیں، اس لیے ’بے سمت اور خواہ مخواہ مکالمے‘ سے گریز کیا جائے، تو اس کا جواب یہ خاکسار چند دن پہلے اپنے مضمون ’آئین تو زندوں کے لیے ہوا کرتا ہے‘ میں دے چکا ہے۔ عرض یہی ہے کہ زندہ قوموں میں مکالمہ زندہ رہتا ہے، خاص طور پر جب یہ مکالمہ قوم کی سمت متعین کرنے کے متعلق ہو تو اسے بے سمت کہنا سادگی ہی کہلائے گا۔ یہ بات نہ ہوتی تو اوسطاً ہر ڈیڑھ دو سال بعد دستور پاکستان میں ایک نئی آئینی ترمیم نہ آ رہی ہوتی۔

یکطرفہ فکر، جمود کی طرف لے جاتی ہے اور فکری جمود تباہی کا باعث ہوتا ہے۔ اگر خاکوانی صاحب کو یقین نہیں آتا ہے تو پھر دائیں بازو کے ’اسلامسٹ‘ مصنفین کو دیکھ لیں کہ اسی فکری جمود کے باعث اب ان کے پاس کہنے کو کوئی ایسی نئی بات ہے ہی نہیں جس میں نئی نسل دلچسپی لے۔ معاشرے اعتدال سے چلتے ہیں۔ اور اعتدال کا تقاضہ یہ ہے کہ اگر دایاں بازو ایک نظریہ پیش کر رہا ہے، تو اس کے مقابلے میں بائیں بازو کی طرف سے بھی کچھ سامنے آئے، اور معاشرے کے دونوں طبقات مل کر بقائے باہمی کے سمجھوتے کی راہ نکالیں۔ کیا 1973 کا دستور دائیں اور بائیں بازو کے درمیان ایسا ہی سمجھوتہ نہیں تھا؟ اگر ایک بازو بھی ختم ہو گیا تو پھر یہ قوم معذوری کی حالت میں جینے پر ہی مجبور ہو گی۔

خاکوانی صاحب فرماتے ہیں کہ ’انٹیلی جنشیا یا اہل دانش کا کام اہم مسائل پر غور کرنا ، الجھے ہوئے مسائل سلجھانا اور پیچیدہ گرہیں کھولنے کی سعی کرنا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے مگر مزید گرہیں لگانا یا نئی پیچیدگیاں پیدا کر دینا عقل مندی نہیں‘۔ حضور اس وقت یہی تو کیا جا رہا ہے، جو پیچیدہ گرہیں پچھے تین عشروں میں یکطرفہ ’اسلامسٹ‘ سوچ نے لگائی ہیں، اب وہی تو سب دانتوں سے کھولنے کی جد و جہد کر رہے ہیں۔

حضور کوئی وجہ تو ہے کہ ملک پاکستان کے اس وقت کے حالات کو دیکھتے ہوئے دائیں بازو کی مسلم لیگ ن کی حکومت بھی اب چیخ اٹھی ہے کہ ملک کو لبرل بنانے کی ضرورت ہے۔

چلیں ہماری مت سنیں، حکیم الامت، مفکر پاکستان، اقبال ہی کا حکم سن لیں

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 387 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “دائیں بازو کے اسلامسٹ اور ان کی فکری گرہیں

  • 21-03-2016 at 5:06 pm
    Permalink

    خوب است

  • 21-03-2016 at 6:10 pm
    Permalink

    ستر کی دہائی میں جماعت اسلامی والے خود کو اسلام پسند قرار دیا کرتے تھے۔ خبر نہیں کہ وہ آج کل یہ اصطلاح کیوں استعمال نہیں کرتے۔ جو لوگ خود کو اسلامسٹ قرار دے رہے ہیں انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ یہ اصطلاح انہوں نے خود وضع کی ہے یا ان کے مخالفین نے انہیں مطعون کرنے کے لیے وضع کی ہے۔ تاہم کسی تصور کی تعریف کے لیے مخالف ذرائع پر انحصار کرنا علمی اعتبار سے شاید درست نہ ہو۔

Comments are closed.