شہباز شریف کہیں نہیں جانے والا


فقیر ملتان شہر میں پیدا ہوا۔ والدہ کا تعلق پشاور سے ہے۔ زندگی کی ساتھی کو مقدر کراچی سے کھینچ لایا۔ اب ہم دونوں اور ہماری بیٹی لاہور میں رہتے ہیں۔ ہم لوگ کچھ برس پہلے لاہور آئے تھے۔ لاہور ہمارے لیے ایک بالکل نئی دنیا تھی۔ کراچی کی پلی بڑھی وہ لڑکی اور ملتان کا یہ باسی، ہم دونوں یہاں بڑے مزے میں ہوا کرتے تھے۔ کھلی فضا، بڑی سڑکیں، آرگنائزڈ (باقی شہروں کی نسبت) ٹریفک اور وسیع و عریض بازار ہمیں بہت اچھے لگتے تھے۔ پھر یہاں بہت سے باغ بھی موجود ہیں، نہر ہے، جیسا تیسا باقی ہے لیکن ایک دریا بھی ہے تو یہ سب چیزیں ہم دونوں کو پسند آ گئیں اور ہم نے ادھر رہنے کا سوچ لیا۔

جب کبھی کسی دوسرے شہر سے مہمان ہمارے یہاں آتے ہیں تو لاہور انہیں اچھا خاصا پسند آتا ہے اور لاشعوری طور پہ اس کا موازنہ وہ اپنے شہر سے کرنے لگتے ہیں۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک سنگل بندے نے یہ کہا ہو کہ یار لاہور میں تو فلاں کام نہیں ہوا اور ادھر ہمارے شہر میں دیکھو وہ سب کچھ ہو گیا۔ لاہور بینچ مارک بن چکا ہے، جو بھی آتا ہے وہ کمپیریزن میں اپنے شہر کا رونا روتا ہے اور خوش ہو کر واپس جاتا ہے یا تھوڑا غضبناک بھی ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ اور کہیں نہیں ہے۔

میرے اپنے گھر کی مثال لے لیجیے۔ کراچی سے آنے والی خاتون جو دل و جان سے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوا کرتی تھیں‘ وہ ن لیگ کے گن گانے لگیں۔ وجہ کیا تھی؟ ایک عام انسان کو صاف ستھرے راستے چاہئیں ہوتے ہیں، امن و امان درکار ہوتا ہے، بنیادی انفراسٹرکچر جدید چاہیے ہوتا ہے تو وہ سب یہاں موجود تھا۔ یہاں آ کے انہیں احساس ہوا کہ نہیں یار‘ حکومت اور پارٹی بازی اس طرح نہیں ہوتی جیسے ہم لوگ بچپن سے دیکھتے آئے ہیں، کام وہ ہوتا ہے جو نظر آتا ہے۔ اس بیچ ہم لوگ ٹھیک ٹھاک تنگ بھی ہوئے، کلمہ چوک پہ جب ڈائیوو کے سامنے والی سڑکیں بن رہی تھیں، یا نہر کی سڑک زیر تعمیر تھی یا ابھی تک جو اورنج لائن کے چکر میں آدھا شہر اُدھڑا ہوا تھا، وہ کہانی اپنی جگہ ہے، اینڈ آف دا ڈے آپ کیا دیکھتے ہیں، کام کتنا ہوا؟ تو کیا لاہور میں کیے گئے کام سے انکار ممکن ہے؟

آج بھی آپ کراچی میں بے فکری سے مہنگا موبائل رکھ کے نہیں گھوم سکتے۔ سگنلوں پہ آپ کو چاروں طرف سے محتاط رہنا پڑتا ہے۔ گاڑی ہے تو دروازوں کے لاک چیک کرکے بیٹھتے ہیں۔ گلی، محلوں، بازاروں، اے ٹی ایم مشینوں، کہیں پر بھی کوئی ٹانگ جتنا لونڈا پستول دکھا کے جو مرضی چاہے چھین لے، جان کسے پیاری نہیں ہوتی، دیں گے، جو مانگا جائے گا‘ دیں گے۔ لاہور میں نہ اس وقت ایسا تھا‘ نہ اب ہے۔ چوری، ڈکیتی، قتل سب کچھ ہوتا ہے لیکن اس طرح دن دیہاڑے وارداتیں نسبتاً بہت کم ہیں۔ سب چھوڑیں، دو برس پہلے ڈیش بورڈ پہ موبائل رکھ کے کون گھوم سکتا تھا وہاں کراچی میں؟ یہاں تب بھی گھوم سکتے تھے، آج بھی گاڑی میں کوئی جگہ نہیں ملتی تو بسم اللہ، رکھ لیجیے موبائل سامنے، کوئی بہت ہی مجبور صارف ہو گا تو روک کے مانگے گا ورنہ ادھر اب بھی سکون ہے۔

ہارٹی کلچر کی بات کر لیجیے۔ ٹھیک ہے یار میں نے بھی ماتم کیا ہے، ڈھیر درخت اکھاڑے گئے ہیں، اب بھی سڑکیں بنتی ہیں تو سب سے پہلے انہیں کی گردنیں ناپی جاتی ہیں لیکن کیا درخت اور پودے لگ نہیں رہے؟ گزشتہ برس جس دن عمران خان صاحب رائیونڈ روڈ اڈے پلاٹ پہ جلسہ کرکے گئے‘ اگلے دن پورا رائونڈ اباؤٹ مالیوں سے بھرا ہوا تھا۔ تیسرے روز ساری گھاس، سب پودے ایسے لگے ہوئے تھے جیسے برسوں تک ان کو کسی نے چھوا تک نہیں ہے۔ جو نئی سڑک بنتی ہے ساتھ ساتھ نئے پودے لگتے ہیں۔ کئی سڑکوں پر گرافٹڈ بوگن ویلیا اور پائن کے درخت لگائے گئے ہیں۔ پائن‘ جو شدید گرمی میں لگایا گیا اور جس کا چلنا بہت رسک ہوتا ہے کہ ٹھنڈے موسم کا جاندار ہے، چل گیا۔ کوئی شدید قسم کا چیک اینڈ بیلنس ہو گا‘ جو مالی بے چارے صبح صبح روز آ کے لگے ہوتے ہیں۔ شوکت خانم چوک سے آگے کی سڑک پہ جہاں چار برس پہلے تک نرسریاں اور پیچھے گندا نالہ ہوتا تھا، اسے دیکھ لیجیے، پھول ہی پھول نظر آئیں گے۔ نہر والی سڑک کے دونوں طرف نظر کیجیے، بھرپور ہارٹی کلچر، مال روڈ کے درمیان، فلائی اووروں کے نیچے، انڈر پاسز میں، ہر جگہ پھول پودے لگے ہوئے ہیں اور چل بھی رہے ہیں۔ باقی شہروں میں ایسی جگہوں پہ نشئی بھائی اپنا کام پورا کرکے بے سدھ پڑے ہوتے ہیں۔ ادھر بھی ہوتے ہوں گے، شاید پودوں کی آڑ میں ہو جاتے ہوں۔ تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شہر کی سجاوٹ میں بھی کوئی کسر نہیں رکھی گئی۔

میٹرو یا اورنج ٹرین‘ جس علاقے والے اس سے فائدہ اٹھائیں گے ان کے لیے یہ نعمت ہے، باقی باہر والوں کو یا پورے شہر کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ایک بات ہے۔ جب کوئی پشاور یا کراچی سے آ کے دیکھتا تھا تو یہ ضرور کہتا تھا کہ دیکھو، پیسہ کہیں تو لگ رہا ہے‘ نظر آ رہا ہے، ہمارے یہاں تو نہ لگتا ہے نہ نظر آتا ہے۔ شاید اسی مسلسل محرومی نے عمران خان صاحب کو بھی آج میٹرو بنانے پہ مجبور کر دیا اور جس کی صفائیاں ٹی وی پہ بیٹھ کے ان سے دی نہیں جاتیں۔ ایک بات طے ہے، جتنی مدت میں شہباز شریف کوئی بھی بڑا سے بڑا پروجیکٹ کر جاتے ہیں، کسی بھی اور حکومت کے لیے شاید ناممکن ہو۔ پشاور تاحال بری طرح کھدا ہوا ہے، میٹرو عام شہریوں کی ناک پہ لڑ چکی ہے، ویسے تقریباً یہی حال ملتان میں بھی ہوا تھا لیکن بہرحال بن تو گئی، اب راوی چین لکھتا ہے اور باقی سڑک کے تنگ ہو رہنے کا گلہ کرتا ہے۔

ہسپتال دیکھ لیں، سروسز ہسپتال کی نئی بلڈنگ جو او پی ڈی (صرف چیک اپ کے لیے آنے والے) مریضوں کے لیے ہے، یا پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی یا کوئی بھی اور ادارہ دیکھ لیجیے۔ کراچی والے اس کا تقابل آغا خان ہسپتال سے کریں گے یا ضیاالدین ہسپتال سے کریں گے۔ وہاں بھی رش اور افراتفری اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ برا حال ہوتا ہے۔ دیکھیے بات ڈاکٹروں کی قابلیت پہ ہرگز نہیں، بات انفراسٹرکچر کی ہو رہی ہے کہ کس ہسپتال کے پاس کیا سہولیات موجود ہیں۔ لاہور میں ابھی گردوں کا ایک بالکل نیا ہسپتال افتتاحی مراحل میں ہے۔ ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے شوگر، بلڈ پریشر وغیرہ کی دواؤں کا بہت بڑا معاہدہ ہوا ہے، مطلب کام ہو رہا ہے تو نظر آ رہا ہے۔

پھر پورے شہر میں کیمرے لگانے کا پروجیکٹ ہے، اندرون شہر مسجد وزیر خان، شاہی حمام اور پتہ نہیں کہاں کہاں تک مکمل رینوئیشن ہوئی ہے، رات کو سڑکوں پہ روشنی نظر آتی ہے، صبح صبح سڑکیں صاف کرنے والے نظر آتے ہیں، کوڑا کرکٹ لے جانے کی بند گاڑیاں عرصہ پہلے کی آ چکی ہیں جو گزرتے ہوئے آلائش باہر نہیں ٹپکاتیں وغیرہ وغیرہ۔ تو بھئی ایسے سب حالات میں حکمران لاہور تو کیا کراچی یا پشاور سے بھی اگلا الیکشن جیت سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ میں بالکل ریٹائر رہی ہے، فل ٹائم آرام کیا ہے، یہی کام کے پی میں خان صاحب کا تھا چونکہ ان کی ترجیح ہی پنجاب تھا، سارے دھرنے ورنے ادھر ہی رہے، پیچھے کوئی کام نہیں ہوا تو اب یہ دونوں سٹیک ہولڈر قادری صاحب کے ساتھ لگے ہیں اور شہباز شریف کی سیاست ختم کرنے پہ تلے ہیں۔ گزارش ہے کہ شہباز شریف تو اتنی کارکردگی پہ اگلے دو الیکشن جیت سکتا ہے، اپنی فکر کریں، لاہوری شہباز شریف کو چھوڑنے والے نہیں، آپ کے پاس ایسا وفادار اور مطمئن ووٹ بینک کہاں ہو گا؟ ایک چکر بے شک آبائی حلقوں کا بھی لگا کے دیکھ لیجیے!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 457 posts and counting.See all posts by husnain