دائیں اور بائیں فکر کی نفسیاتی گرہیں ۔ 1


waqar ahmad malik

کیا ہی دلچسپ مطالعہ ہے۔ ڈھیر سارے سوالات ہیں لیکن ان سوالات کے درست جوابات کے لیے جن تعصبات سے بالاتر ہو کر سوچنا ضروری ہے وہ ایک مشکل کام ہے۔ ہم اپنی سوچ اور عمل میں بہت زیادہ دیانت دار ہوتے ہوئے بھی صرف ایک دن میں ڈھیر سارے تعصبات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہمیں کسی طور ان تعصبات کا ادراک تک نہیں ہو پاتا۔
بائیں فکر چاہے دعوے میں آزاد خیالی کا پرچم اٹھاتی ہو، دائیں فکر سے مکالمہ میں کسی طوراپنے آپ کو تعصب سے پاک نہیں کر پاتی۔
دائیں فکر چاہے دعوے میں خوبصورت روایات کی پیروکار ہو ، مکالمے میں اسی طور تعصب برتتی ہے۔
سوالات یو ں تو بہت سارے ہیں لیکن کیوں نہ ان چند سوالوں کو زیر بحث لایا جائے جن کا سائنسی بنیادوں پر جوابات دینا ممکن ہے۔
میرا زور سائنسی بنیادوں پر اس لیے ہے کہ نوع انسانی کی تاریخ میں یہ واحد کارآمد ہتھیار ہے جس سے ان سینکڑوں تعصبات پر قابو پایا جا سکتا ہے جو ارتقا میں ہماری بقا کے لیے دماغ کا حصہ بن گئے۔ ایک بہترین اور غیر جانبدار نتیجہ ، صرف تعصبات کو پہچاننے اور ان سے بچنے میں ہی مل سکتا ہے۔
دماغ خوف کوبطور ایک پروڈکٹ، کیسے لیتا ہے یعنی دماغ اور جسم میں کیا طبعی تبدیلیاں رونما ہو تی ہیں ؟
کیا خوف ہماری بقا کے لیے لازم ہے یاتھا؟ کیا خوف ایک مثبت چیز ہے؟ کیا روایت کے ختم ہونے کے خوف، اور سانپ یا شیر کے خوف میں مماثلت ہے؟
شدت پسندی اور دہشت گردی کا خوف سے کیا تعلق ہے؟
کیا قدامت پسند فکر کسی stockholm syndrome کا شکار ہوتی ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ بائیں فکر کے پیروکار اپنے مخالف پر جسمانی تشدد پر یقین نہیں رکھتے، یعنی شاید ہی کبھی آپ نے سنا ہو کہ کسی فلسفی نے پادریوں یا مولویوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہو ۔ لیکن یہی بائیں فکر جب دلائل یا مکالمہ پر آتی ہے تو دلیل میں طنز کے نشتر در آتے ہیں۔ آپس میں بیٹھ کر باقاعدہ دائیں بازو کا ٹھٹھا اڑایا جاتا ہے ۔ آپ کو معلوم ہے کہ بعض اوقات بات کا زخم زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ بائیں فکر میں اس ہم دلی کا فقدان کیوں پایا جاتا ہے؟
اگر آپ کے پاس چند ایسی تصویریں ہوں جن میں خوف ہو جیسے کوئی سر بریدہ لاش یا کسی سوتے انسان کے چہرے پر چلتی چھپکلی وغیرہ تو دائیں فکر یا قدامت پسند اس تصویر کو لبرل کی نسبت 15% زیادہ دیر تک کے لیے کیوں دیکھتا ہے؟ وہ کسی خوفزدہ صورتحال میں جلدی کیوں رد عمل دیتا ہے؟
قدامت پسند یا دائیں فکر کی سوچ کے حامل افراد ، بائیں فکر کی نسبت 68% زیادہ خوش کیوں رہتے ہیں؟
لبرل یا آزاد خیال میں قبائلی نفسیات کا فقدان کیوں پایا جاتا ہے؟
لبرل یا آزاد خیال میں Split Personality Disorder کے چانسز کیوں زیادہ ہوتے ہیں؟
قدامت پرست طبقہ میں Negativity Bias کیوں زیادہ پایا جاتا ہے؟
کیا دونوں فکر کے پیروکاروں کے دماغ کی ساخت میں کوئی طبعی فرق ہوتا ہے؟ اگر ہوتا ہے تو یہ فطری ہے یا یہ تبدیلی وقت کے ساتھ ساتھ آتی ہے؟
قدامت پسند (پاکستانی تناظر میں) مغربی یلغار، اغیار، مشرقی اقدار خطرے میں ، جیسی اصطلاحات کیوں استعمال کرتا ہے؟
قدامت پسند کسی ایک صلاحیت میں کمال حاصل کرنے کے حوالے سے کیوں لبرل سے بہتر ہوتے ہیں۔ وہ لبرلز کی نسبت بہترین ڈاکٹر ، پائلٹ یا اینجیئنرکیوں ہو سکتے ہیں؟
لبرلز یا آزاد خیالوں کی دلچسپیوں کا میدان کیوں وسیع ہوتا ہے؟ وہ کسی ایک صلاحیت میں کمال حاصل کرنے میں نسبتا کیوں کمزور رہتے ہیں؟
ایک خوبصورت ننگے مجسمے کو دیکھ کر قدامت پرست کیوں شرم سے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتا ہے جبکہ آزاد خیال اس مجسمے کی خوبصورتوں میں کیوں کھو جاتا ہے؟
آزاد خیال تبدیلی کو خوش آمدید کیوں کہتا ہے اور قدامت پسند قدامت کے ساتھ کیوں جڑا رہنا چاہتا ہے؟
چھوٹے شہروں یا گاؤں میں قدامت پسندی کی شرح کہیں زیادہ ہوتی ہے جبکہ شہروں میں لبرل اور آزاد خیالی کی شرح نسبتا زیادہ ہوتی ہے، اور یہ مطالعہ دنیا کے کسی بھی حصے میں کریں جواب یہی آتا ہے ۔ امریکہ اور یورپ کے نواح میں قدامت پسندی کی شرح شہروں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ کیوں؟
کسی مخالف ثقافت اور قدروں کوقبول کرنے کی صلاحیت آزاد خیال طبقے میں کیوں زیادہ ہے اوراس صلاحیت کا تعلق براہ راست تعلیم سے بھی کیوں ہے یعنی یہ صلاحیت ایک کم پڑھے لکھے میں کم جبکہ ایک گریجویٹ میں کیوں زیادہ ہوتی ہے؟

قدامت پسندوں اور آزاد خیال یا لبرلز میں سیاسی وابستگی کی نفسیات میں کیوں فرق ہے؟ قدامت پسند وفاداری کو ایک اچھے کتے کی علامت کیوں سمجھتا ہے؟
قدامت پسند کے مضبوط فوج، بہترین اسلحہ رکھنے کی خواہش اور ہر وقت حملے کے خدشات میں گھرے رہنے کیا نفسیاتی وجوہات ہو سکتیں ہیں؟
اگر کوئی پر خطر کھیل کھیلا جائے تو کون جیتے گا، قدامت پسند یا لبرل؟
اپنی سر زمین کی بات کی جائے تو آزاد خیال یا لبرل طبقہ ، اپنی عمومی سوچ کی ساخت کے برعکس، بلھے شاہ اور وارث شاہ کی پسندیدگی کا اعلان کیوں کرتا ہے؟
قدامت پسند تقدیر پسند کیوں ہوتا ہے جبکہ لبرل یا آزاد خیال ، انسان کے کلی اختیار کے کیوں قائل ہوتے ہیں؟ دونوں اپنے اپنے عقیدوں میں کیوں آسانی محسوس کرتے ہیں؟
اور تعصب سے بالاتر ہو کر ، فقط ریکارڈ کی بنیاد پر ہم دیکھیں تو بائیں فکر کی جھولی میں سائنسدانوں ، فلسفیوں ، ادیبوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے؟ اس کی تکنیکی وجوہات کیا ہیں؟
دائیں فکر اخلاقی قدروں پر فخر کرتی ہے اور بائیں بازو پر مادر پدر آزادی کے حوالے سے شہرت رکھتی ہے۔
ترغیبات پر قابو پانے کے حوالے سے آزاد خیالوں اور قدامت پسندوں میں کیا فرق ہے؟
کیا بائیں بازو کی اخلاقی قدریں ہوتیں ہیں اور اگر ہوتیں ہیں تو ان قدروں کی کیا نفسیاتی بنیادیں ہیں ؟ بالخصوص کہ جب یہ فکر اس بات پر زور دیتی ہو کہ سچ مطلق یا حتمی نہیں ۔
کیا دائیں اور بائیں فکر کی جینیاتی بنیادیں ہیں؟ ہیں تو کیا ہیں؟ اس حوالے سے تیرہ ہزار افراد پر کیے گئے تجربات کا کیا نتیجہ نکلا؟
دائیں فکر کے حامل افراد میں amygdala کا سائز کیوں زیادہ ہوتا ہے جبکہ بائیں بازو کی فکر کے حامل افراد میں anterior cingulate cortex میں سرمئی حصے نسبتا کیوں زیادہ ہوتے ہیں؟
یہ کالم تو سوالات کی نذر ہو گیا۔ آپ بھی سوچیے ۔ میں بھی سوچتا ہوں۔

(جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 62 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

8 thoughts on “دائیں اور بائیں فکر کی نفسیاتی گرہیں ۔ 1

  • 21-03-2016 at 9:56 pm
    Permalink

    عمدہ۔۔۔جوابات کا انتظار رہے گا

  • 21-03-2016 at 10:56 pm
    Permalink

    بہت سے جوابات تو سوالات ہی میں دے دیے گئے ہیں 🙂

  • 21-03-2016 at 11:01 pm
    Permalink

    Lol… Naseer sb

  • 22-03-2016 at 11:46 am
    Permalink

    وقار بھائی ویسے تو سارا کالم ہی مجسم سوال ہے اور اصطلاحات سے پربھی لیکن کچھ کا تذکرہ کر رہا ہوں جو اگرآسان پیرائے میں بیان ہو جائیں تو مجھ ایسا عامی بھی شائید ان سے استفادہ کر سکے۔

    Split Personality Disorder
    amygdala
    Negativity Bias ،
    anterior cingulate cortex
    stockholm syndrome
    خوش رہے اور سوال کرتے رہیے

  • 22-03-2016 at 1:06 pm
    Permalink

    Food for thought. which is good, and refreshing…..

  • 22-03-2016 at 1:15 pm
    Permalink

    jee mubeen sb inshaAllah next article mein

  • 23-03-2016 at 1:14 pm
    Permalink

    بہت خوب، بہت عمدہ!

    اتنا دل کو چھو جانے والا اور دماغ کو تسکین و اضطراب کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا و مست کردینے والا، استفہامیہ سوالوں پر مرتب مضمون ہمارے ہاں کم ملتا ہے۔
    میرے جیسے قاری کو شاید ان کے جوابوں سے زیادہ ان کے سوالوں نے لطف دے دیا۔ کچھ سوال یقیناً جوابوں کے آدم و حوا سے بھی بڑے عالی بزرگ ہوتے ہیں۔
    لیکن اس کا مطلب ہر گز نہیں لیجئے کہ آپ جواب نا لکھیں۔ جناب ہم تیارہ شدہ جوابوں پر چلنے والے معاشرہ کی اسی روایت کے پروردہ انسان ہائے رشید ہیں۔

  • 23-03-2016 at 2:43 pm
    Permalink

    Shukria Yasir bhai

Comments are closed.