مولانا آپ تو جنگی جنون میں ہوش کھو چکے ہیں


معاملے کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے پہلے تین احادیث مبارکہ  پڑھ لیتے ہیں۔

صحیح بخاری میں درج ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم راستوں پر بیٹھنے سے پرہیز کرو، لوگوں نے عرض کیا ہمارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہم وہیں بیٹھتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم وہاں بیٹھنے پر مجبور ہو تو راستے کو اس کا حق عطا کرو لوگوں نے عرض کیا راستے کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نگاہیں نیچی رکھنا ایذاء رسانی سے رکنا سلام کا جواب دینا اور اچھی باتوں کا حکم دینا اور بری باتوں سے روکنا۔

سنن ابی داؤد میں لکھا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رض اللہ عنہ سے فرمایا اے علی نظر کی پیروی مت کر اس لئے کہ پہلی نظر تو جائز ہے مگر دوسری نگاہ جائز نہیں۔

سنن ابی داؤد میں ہی کہا گیا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا یہ کہ اللہ نے ابن آدم کے حصہ میں زنا کا جتنا حصہ لکھ دیا ہے وہ اس کو ضرور پائے گا پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا گفتگو ہے اور نفس تمنا کرتا ہے اور اس میں خواہش پیدا ہوتی ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔


ان احادیث مبارکہ سے برکت و راہنمائی پا کر اب معاملے کی بات کرتے ہیں۔

تحفظ نسواں بل کے معاملے پر پنجاب اسمبلی کے سامنے خواتین نے جلوس نکالا تو اس پر فیس بک کے راستے پر بیٹھے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے ایک دوست کی پوسٹ اور اس پر موجود – صرف وہ کمنٹس جو ضبط تحریر میں لائے جا سکتے ہیں – بصد افسوس درج کر رہا ہوں۔ یہ کمنٹس، املا کی کسی بھی درستگی کے بغیر، بعینہ درج کیے جا رہے ہیں۔ آپ ذہنیت بھی دیکھیں، ارمان بھی دیکھیں، اور لکھنے کی قابلیت بھی ملاحظہ فرمائیں۔ اس وال پر سب سے گھٹیا، اور آہوں اور سسکیوں بھرا کمنٹ ایک صاحب کا ہے جو اپنے نام کے ساتھ مفتی لگاتے ہیں۔ چلیں مان لیا کہ یہ خواتین نہایت گمراہ ہیں اور انہیں دین کی سمجھ نہیں ہے، لیکن یہ مبینہ علما تو 12513889_1532397340387560_6281466730701081234_oبہت پڑھے لکھے ہیں اور ماشا اللہ خوب نام روشن کر رہے ہی جمعیت علمائے اسلام کا۔

جمعیت علمائے اسلام کے اکابرین سے یہی درخواست ہے کہ اپنے کارکنان کی اخلاقی تربیت پر توجہ دیں، اور زبان وغیرہ کے ڈھیلے افراد کو اکابرین جمعیت سوشل میڈیا سے دور رہنے کا مشورہ دیں تاکہ جمعیت کی عزت تو بنی رہے۔

بلا تبصرہ و بلا تصیح

ہم اس جنگ کے لئے تیار ہیں۔
جگہ کا تعین خود ہی کریں ؛ ہم حاضر ہوجایئنگے۔۔۔۔۔ یہ لڑائی سینہ بسینہ لڑینگے ؛ تاکہ لگ پتہ جائے ۔۔۔

کمنٹس

ان سے لڑنے کا نہیں ہے رے ۔۔۔۔ جپھی لگانے کا ہے
ویسے “کھلی جنگ” تو چوپائے لڑتے ہیں
ایک واری ہتھی چڑھ جائے ؛ پھر اس کو سارے تناظر ميں دیکھیں گے ۔۔۔ کہ دوبارہ مولویوں سے کھلی جنگ کی خواہش ہی نہ رکھے۔۔۔۔
بھائی آپ کی باتوں سے لگتا ہے آپ کافی عرسے سے فیملی سے دور رہ رہے ہیں
یہ وہ عورتیں هے جو همیشہ سے اتنے لبرل یعنے 10 یا12 مردوں کی بیک وقت حقوق زوجیت اداکرنے کے ساتہ پہر بهی پیاسی رهتی هے ۔اور گنگار ملا هوتا هے۔ ایسے ذهنی بیماروں کومیں ملاوں کے ساتہ حلال نکاح کادعوت دیتا هوں۔ پہر یہ اپنے لئے چاردیواری کی بجائے اٹهہ دیواری میں خوشی محسوس کرییگی۔
ہیرہ منڈی سے آئے ہیں جی
10411319_565344090307080_6672766959041305507_n (1)منڈی کی پیداوار ھیں یہ ساری روشن خیالیاں
بھائیو ان پورنی نسل سے تو اسلام نے منہ لگانے سے بھی روکا ھے یہ ایڈز ھے دور رھو تو بھترھے ھمارا یہ شان نھین
اگر کچرا گھر کے دروازے پر پڑا هو تو اس کو اٹھا کر پھینکنا تو پڑتا هے نا
ایسے موقعہ کیلئے کب سے انتطار میں ھے جلدی کرو ھم تیار ھے
علماءومفتیان حضرات سےگزارش ہےکہ ان کو مولویوںکےحوالےکرنےکی گنجائش نکالیں
پھر یہ بولیں گی ایک مولوی دس پر بہاری۔

Bulkul۔ Attaurrehman Bahia hm bi aap۔ Ky saath hy۔
Jang rahe ga۔sena ba sena
Iñ Se To Aisey laraingey Phir umar bhar yad rakhengey۔
12801581_565344106973745_6604714083261869523_nجنگ سینہ بہ سینہ ھو تو فدائین میں نام لکھ نا بھائی
ایڈز زدہ عورتوں سے کہلی جنگ نہیں هوسکتی
مولیوں کی تو لاٹری نکل ائ ھے
Koi prblm nhi Sena ba Sena k chkr ma amosnl ho gia jnb۔
جیسا بہی جنگ ہو مگر دشمن یہی ہو آج تو شہید ہی ہوجایں یار
بھائی جان یہ جنگ کونسی عیسوی یا ھجرئ تاریخ سے شروع ھوگا تاکہ ھمارے بہت سارے دوست مولوی حضرات غیرشادی شدہ اور شاگرد اس جنگ سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔۔
میں بھی بہ خوشی تیار ھو بلا کر آزما لینا اگر ضرورت پڑھی تو
سمیع جی نا بائ نا یہ ملاووں کو چیلنج ھے یہ جنگ بھی ھماری مال غنیمت بھی ھمارا
درنا ضرور دیی لکن ناچ گانے کا محفل نہ سجانہ اس درنے میی طالبان ضرور ھونگے جو مال غنمت لوٹ نے کے لے تیار ھونگے
سمیع جی یہ موقعے کبھی کبھی میسر آتے ہیں آپ کی باری پھر کبھی
ایسی خوبصورت جنگ کیلئے ہم بے تاب ہیں آئے
haha lagta hy D chowk enko yad agya hy kuch dil karne laga hy enka
اصل میں یہ بازاری لب سوز خواتین آنکھیں لڑانی والی جنگ کی بات کررہی ہے ان کو اپنے مرد نامرد لگ رہے ہے اس لیے مولویوں سے مدد کی اپیل کی ہے۔۔۔
جی میں بھی حاضر ھوں اس جنگ کیلیئے وہ بھی خوشبو لگا کے
همارا نام اگر فرنٹ میں هو تو مهربانی هوگی
اصل میں ان کومردصرف مولوی ھی نظرآتے ھیں
وا جی کیا مزہ ھوگا
اقوام متحدہ کو اس جنگ پر بہت اعتراضات ہے اگر یہ جنگ لڑی گئی تو 2020 پاکستان کی آبادی 30 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے باخبر زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اگر پاکستان میں مولویوں نے یہ جنگ لڑی تو اس کی خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں
جس میں سب سے خطرناک معاملہ آبادی میں اضافہ ہو سکتا ہے

اور ستم ظریفی یہ کہ وہیں کمنٹ میں یہ تصویر بھی موجود ہے

1909871_1697505257176769_3381460635988579490_n


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 326 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

5 thoughts on “مولانا آپ تو جنگی جنون میں ہوش کھو چکے ہیں

  • 22-03-2016 at 12:24 am
    Permalink

    ویسے انہوں نے تو خباثت کی حد کر ہی دی اور ان سے توقع اور امید بھی یہی ہے لیکن اس پوسٹ کو یہاں لگانا بھی محل نظر ہے جناب

  • 22-03-2016 at 12:31 am
    Permalink

    توقع نہیں تھی، اسی لیے تو لگائی ہے۔ یہ عام احادیث مبارکہ ہیں، جن سے ہم جیسے کم علم بھی آشنا ہے۔ کیا قوم پر وہ برا وقت آ چکا ہے کہ ہم جیسے علما کو احادیث مبارکہ یاد کرایا کریں گے؟

    اور ابھی یہ وہ کمنٹس ہی جو کہ مہذہب الفاظ پر مبنی ہیں اور ضبط تحریر میں لائے جا سکتے ہیں۔ باقیوں کا آپ خود اندازہ کر لیں۔

    اس پوسٹ کا مقصد یہ ہے کہ جمعیت علمائے اسلام والے اپنے کارکنوں کی اخلاقی تربیت پر بھی توجہ مرکوز کریں۔ ورنہ پھر سیاست چھوڑ دیں کہ سیاست میں تو ووٹروں کی اکثریت انہی طبقات کی ہے جن کے بارے میں یہ الفاظ کہے گئے ہیں۔

  • 22-03-2016 at 7:57 pm
    Permalink

    saheb aap ney likhney ka haq ada ker dya……dukh k saath dua go hon Allah shurpasandon say bachaey

  • 24-03-2016 at 11:15 pm
    Permalink

    ویسے آپ تو کئی بار جمعیت علما اسلام والوں کو تمام سیاسی کارکنوں میں مہذب قرار دے چکے ہیں حضور۔ کیا اب رجوع کر لیا ھے یا خوش فہمی باقی ہے؟

Comments are closed.