دیوار مہربانی یا دیوار گریہ؟


Shabana Syed- Producer Geo News

کہتے ہیں کہ جب کسی آئیڈیے سے متاثر ہوکر کام کیا جاتا ہے، تو یا تو وہ کام مزید شاندار ہوجاتا ہے، یا دوسری صورت میں آئیڈیا خود اپنی موت آپ مرجاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ ہوا بے چاری دیوار مہربانی کے ساتھ۔ دیوار مہربانی کا خیال سب سے پہلے ایران میں کسی درد مند کے دل میں آیا اور اس نے ایک دیوار کو پینٹ کیا جس پہ لکھا تھا، “اگر آپ کو ضرورت نہیں تو چھوڑ جائیں (کوئی بھی ضرورت کی شے) یا اگر آپ کو اس کی ضرورت ہے تو لے جائیں (دیوار مہربانی پر لٹکی اشیاء)” اس دیوار کو (وال آف کائںڈنیس) کا نام دیا گیا۔

 دیوار بھی ایسی خوش رنگ اور خوبصورت،کہ دل خوش ہوجائے ۔ اور اس دیوار پر لٹکے کپڑے اور دیگر اشیائے ضرورت بھی اتنی ہی عمدہ، کہ جو ضرورت مند گھر لے جائے،جب تک وہ اشیاء استعمال کرے دعائیں دیتا رہے۔ ایران میں بنی دیوار مہربانی میڈیا اور پھر سوشل میڈیا پر بھی آئی۔ خیال بہت مثبت تھا، اس لیے خوب پزیرائی سمیٹی۔ اور مختلف ممالک سے ہوتے ہوئے دیوار مہربانی کا سوشل ورک پاکستان بھی پہنچا۔ اب تک پاکستان کے کئی شہروں میں یہ سرگرمی ہوچکی ہے۔

اب آتے ہیں آئیڈیے کی تباہی کی طرف۔ کچھ روز پہلے ایک علاقے سے گذر ہوا جہاں دیوار مہربانی پر کچھ زیادہ ہی مہربانی نظر آئی۔ اور اس دیوار پر بڑا بڑا “دیوار ضرورت” لکھا نظر آیا۔ گویا پہلی فرصت میں دیوار مہربانی کے فلسفے “مدد عزت نفس کے ساتھ” کا گلا گھونٹا گیا۔ پھر اس دیوار پر جو کپڑے لٹکے نظر آئے، اسے دیکھ کر ماتم کرنے کو دل چاہا، اور وہ دیوار، دیوار مہربانی نہیں بلکہ دیوار گریہ محسوس ہوئی۔ جو خود اپنے آپ پر آنسو بہا رہی ہو۔ دیوار پر لٹکے ہوئے کپڑوں کی ایسی مخدوش حالت کہ کوئی انتہائی غریب انسان بھی ان کپڑوں کو پہننے سے بہتر، گھر گھر کپڑے مانگنے کو ترجیح دے۔

جیسے جیسے سوشل میڈیا کی مقبولیت بڑھتی جارہی ہے ہماری نفسیات تبدیل ہوتی جارہی ہے۔ شاید ہم میں نمائش کا جرثومہ بڑی تیزی سے بڑھتا جارہا ہے۔ ہم اچھے کام تو کرنا چاہتے ہیں، کوشش بھی کرتے ہیں، لیکن اس اچھے کام کی روح کہیں گم کر دیتے ہیں۔ دیوار مہربانی کی مقبولیت بھی سوشل میڈیا کی ہی مرہون منت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے دن فیس بک پر کسی نہ کسی دیوار مہربانی کے ایونٹ سامنے آتے رہتے ہیں۔ اور تو اور ایک ایونٹ کے نیچے تو یہ بھی لکھا دیکھا “Tickets Available”، تو جناب عرض صرف اتنی سی ہے کہ برائے مہربانی، دیوار مہربانی کو مہربانی ہی رہنے دیں، دیوار گریہ نہ بنائیں۔


Comments

FB Login Required - comments