عمران خان کو نا اہل ہونے سے کس چیز نے بچایا؟


اس وقت پاکستانی میڈیا کا سب سے بڑا موضوع بحث تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا نا اہلی سے بچ جانا اور تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کا نا اہل ہو جانا ہے۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی طرف سے نا اہلی کے فیصلے کا موازنہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے فیصلے سنانے والے تین رکنی بینچ سے کیا جا رہا ہے۔

میاں نواز شریف کا پانامہ کیس میں نا اہل ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ کو بھی یقین تھا کہ جس طرح میاں صاحب اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ کا ذکر نہ کرنے پر صادق اور امین نہ رہے اسی طرح عمران خان صاحب کی منی ٹریل میں بھی کافی بھول بھلیاں پائی جاتی تھیں اور عمران خان صاحب بھی منی ٹریل کے حوالے سے سپریم کورٹ میں اپنا بیان بدلتے رہے ہیں۔ مگر عدالتی فیصلے میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جس سے عمران خان صاحب صادق اور امین نہ رہیں۔

کچھ لوگ تو جہانگیر ترین صاحب کی نا اہلی کو شاہ محمود قریشی کے لیے خوش آئند قرار دے رہے ہیں اور عمران خان صاحب اپنی پارٹی کے داہنے ہاتھ، جہانگیر ترین کی نا اہلی پر غم زدہ ہیں انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین وہ شخص ہے جو پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔ اس وقت عمران خان صاحب تحریک انصاف کے ورکرز سمیت پرانے سیاسی کلچر سے بیزار لوگوں کے ہیرو ہیں حالانکہ پاکستان تحریک انصاف میں تمام سیاسی پارٹیوں کو چھوڑ نے والے اور مختلف ادوار میں حکومتوں کا حصہ بننے والے جاگیردار، سرمایہ دار، وڈیرے اور سردار شامل ہوتے جا رہے ہیں مگر اس کے باوجود بھی عمران خان کو لیڈر ماننے والے لوگوں کو یہ پختہ یقین ہے کہ چاھے کتنے بھی کرپٹ لوگ تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں مگر عمران خان ایماندار ہیں اور جب تک وہ تحریک انصاف کے سربراہ ہیں وہ ان لوگوں کو کرپشن نہیں کرنے دیں گے۔

کرپٹ اور طاقتور سیاستدانوں کے مقابلے کے لیے بھی تو تحریک انصاف کو اس طرح کے لوگ چاہئیں کیوںکہ لوہا ہی لوہے کو کاٹتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت کے وزیر اعلی سمیت پارٹی کی اعلیٰ قیادت پر اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنان کی طرف سے کرپشن، ہراسانی، تھرڈ ایمپائر کے ساتھ گٹھ جوڑ کے الزامات، اقرباپروری اور پارٹی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ عمران خان صاحب اور ان کے چاہنے والوں نے ان الزامات کو نہ مانتے ہوئے جسٹس وجیہ الدین، مخدوم جاوید ہاشمی اور اکبر ایس بابر جیسے سینئر پارٹی رہنماؤں کو پارٹی سے نکال پھینکا۔ خیبرپختونخوا حکومت کے انصاف کمیشن کے سربراہ کی طرف سے تحریک انصاف کے وزراء پر الزامات سے لے کر ڈی آئی خان میں لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو تحریک انصاف کے رہنما کی سپورٹ کا الزام ہو یا پھر عائشہ گلالئی کے الزامات ہوں یا پھر مسلم لیگ ن یا پیپلز پارٹی کی تنقید ہو اس سے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس وقت جو عمران خان جس مقبولیت کے درجے پر ہیں اس پر سو خون بھی معاف ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف پڑھے لکھے اشرافیہ سے لے کر نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی جماعت ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کا بیانیہ پرانی سیاست اور کرپشن کا خاتمہ اور نیا پاکستان بنانے کا خواب ہے۔ اور اس تبدیلی کے متلاشی پاکستان کی نوجوان نسل جن میں اکثریت کا تعلق پاکستان کے طاقتور طبقے سے ہے۔ یقیناً اس نوجوان نسل نے اپنے والدین کو اس بات پر ضرور قائل کیا ہوگا کہ وزیر اعظم بننے کا ایک موقع عمران خان کو بھی ملنا چاہیے کیونکہ دوسری سیاسی پارٹیاں تو اپنی اپنی حکومت کی باریاں لگاتی رہی ہیں۔ اور ویسے بھی تو عمران خان کرکٹ کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقبول و معروف ہیں۔ اور ویسے بھی اگر خان صاحب میاں نواز شریف کی طرح نا اہل ہو جاتے تو پھر اپنے بچوں کے ان تبدیلی کے خوابوں کیا ہوتا جن کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ نوجوانوں کی ان امنگوں کو قوم کے بڑے کیسے نظرانداز کر سکتے ہیں؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں