سپریم کورٹ میں بینچ نمبر ایک کی گیلری کے تماش بین


سپریم کورٹ میں کئی عدالتی ہالز ہیں، جنہیں بینچ نمبر ایک، دو، تین اور اسی طرح مزید گنتی کے نام سے پہچانا جاتا ہے، تاہم بینچ نمبر ایک کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اس بینچ کا ہال گنجائش میں سب سے بڑا اور جدید سہولیات سے آراستہ ہے، دیگر سہولیات تو ایک طرف رہیں، اس بینچ نمبر ایک میں وزیٹرز گیلری موجود ہے جو کہ ججز اسٹیج کے عین سامنے اوپر کی جانب ایستادہ ہے، جنہوں نے سپریم کورٹ نہیں دیکھا تو بس یوں سمجھ لیں جیسے لندن کے تھیٹر ہالز میں نشستیں ہوتیں ہیں، اسٹیج پر اداکر اپنے کردار ادا کررہے ہوتے ہیں، اور اشرافیہ گیلری کی نشستوں پر بیٹھ کر اس تھیٹر سے محظوظ ہوتی ہے، بس ایسا ہی حال سپریم کورٹ کے بینچ نمبر ایک کی گیلری کا ہے۔

2013 میں جب میں نے سپریم کورٹ کی رپورٹنگ شروع کی تب پہلی بار مجھے اسی گیلری کی جداگانہ اہمیت کا اندازہ ہوا، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ریٹائر ہورہے تھے، ان کی ملازمت کے آخری دن اعزازی فُل کورٹ ریفرینس ہوا، بینچ نمبر ایک میں تِل دھرنے کو جگہ نہ تھی، سب ہی چینلز کے رپورٹرز نے افتخار محمد چوہدری کی آخری تقریر نوٹ کرکے کمرہ عدالت سے باہر جاکر موبائل فون پر اپنے چینلز کے دفاتر کو لکھوائی، مگر مبینہ طور پر یہ شرف افتخار محمد چوہدری کے صاحبزادے کی مہربانی سے جیو نیوز کو حاصل ہوا جس نے سابق چیف جسٹس کی آخری تقریر کی ایکسکلوسیو وڈیو بمعہ آڈیو ریکارڈنگ اپنے ناظرین کو دکھائی، یہ وڈیو بینچ نمبر ایک کی گیلری سے بنائی گئی جس کے عارضی پروڈیوسر ڈائریکٹر مبینہ طور پر ارسلان افتخار تھے جو کہ اپنے پیارے ابو کے اعزاز میں ہونے والی سپریم کورٹ کی آفیشل تقریب کو اپنے دیگر بہن بھائی اور اہل خانہ کے ہمراہ دیکھنے آئے تھے، خیر میڈیا نمائندگان نے جیو اور افتخار محمد چوہدری کے خلاف بڑی لے دے کی مگر بہرحال جو پیا من بھائے وہی سہاگن کہلائے۔

یہی روایت رہی کہ ججز کی مدت ملازمت ختم ہونے پر ان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرینس دیا جاتا ہے اور ججز کے اہل خانہ بینچ نمبر ایک کی گیلری سے اپنے گھر والے (یعنی سپریم کورٹ جج) کی سپریم کورٹ سے شاندار رخصتی دیکھ رہے ہوتے ہیں، ججز کے صاحبزادے، صاحبزادیاں اکثر ان لمحات کو اپنے موبائل فون کے کیمرے میں قید کررہے ہوتے ہیں جو کہ خاصا نارمل ہے۔
مگر یہ ہائی پروفائل کیسز کے فیصلے والے دن گیلری میں ججز کے اہل خانہ کی موجودگی کا جواز کچھ سمجھ نہیں آرہا، پاناما کیس کا فیصلہ جس دن دیا گیا، ججز کے اہل خانہ جس میں ان کے نوجوان بچے، گھر کی خواتین اور دیگر عزیز و اقارب شامل تھے سب ہی گیلری میں کسی تماش بین کی طرح بیٹھ کر کیس کا فیصلہ سنتے رہے تھے۔

آج عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف مقدمے کا فیصلہ آیا، بطور رپورٹر میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ ججز کی فیملیز کو اس میں کونسی ذاتی دلچسپی ہوسکتی ہے، اگر دلچسپی ہے بھی تو کیا یہ اچھی اقدار سے مطابقت رکھتا ہے کہ آپ گیلری میں بیٹھ کر عدالتی فیصلے سے لطف اندوز ہوں؟ اعلان کیا گیا تھا کہ ٹھیک 2 بجے عمران خان کی اہلیت کا فیصلہ سنایا جائے گا، مگر جج صاحبان کے یہ نجی و ذاتی مہمان تقریباً پونے تین بجے کمرہ عدالت کی گیلری پہنچے، عوام بیچاری کاونٹر لگائے بیٹھی کہ دو بج گئے فیصلہ اب آیا کہ جب آیا، فیصلہ تو ٹائم پہ خاک آنا تھا، مگر فیصلہ تب تک نہ آیا جب تک کہ اس اسپیشل گیلری کے اسپیشل کرسی نشین کمرہ عدالت تک نہ آگئے، بعد میں اگرچہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے تاخیر کی وجہ ایک ٹائپنگ کی غلطی کو قرار دیا مگر دل نہیں مانتا، اس میں وہم سا آتا ہے کہ آیا فیصلے میں موجود اس ایک غلطی کا علم ججز کے نجی مہمانوں کو بھی تھا کہ جنہوں نے غلطی دور ہونے کے بعد ہی گیلری کا رخ کیا؟

یہ گیلری سے فیصلہ سننے کی منطق کسی صورت بھی بھا نہیں رہی۔

بھئی عوامی نوعیت کا کیس تھا، ججز کے اہل خانہ سمیت سب ہی کو انتظار تھا سب ہی کو فیصلہ جاننے کی خواہش تھی، تو پھر سرکاری ٹی وی سے لائیو دکھایا جاسکتا تھا، فیصلہ براہ راست نشر کرنا ایسے بھی کوئی اچنبھے کی بات نہیں، عالمی عدالت انصاف کی کارروائی لائیو دکھائی جاتی ہے، امریکہ میں ہر اسٹیٹ کی عدالت جسٹس لائیو چینل کی بدولت اہم عوامی نوعیت کے کیسز کو براہ راست نشر کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ یہاں تک کہ جنوبی افریقہ کے اولمپک ایتھلیٹ آسکر پسٹوریس کا اپنی گرل فرینڈ قتل کرنے کا مقدمہ سی این این اور بی بی سی نے براہ راست نشر کیا تھا۔

جج صاحبان کو یہ امر سوچنا چاہیے کہ اگر ان کے اہل خانہ دستیاب سرکاری پروٹوکول کے بل بوتے پر گیلری میں بیٹھ کر تاریخی عدالتی فیصلوں کے شاہد بن سکتے ہیں تو کیوں نہ عام عوام کو بھی اس گیلری سے کمرہ عدالت کے نظارے دیکھنے کا موقع دیا جائے، اور فیصلے کی گھڑی براہ راست نشر کرکے ٹی وی اسکرینز کی وساطت عوام کو بھی مستفید کروا دیں۔

کم از کم اس صورت میں ان کا بھی بھلا ہوجائے گا جو فیصلہ غلط سمجھ آنے کے باعث جلد بازی میں مٹھائیوں کے ٹوکرے بانٹ دیتے ہیں اور بعد میں پوچھتے پھرتے ہیں کہ فیصلہ کیا آیا!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عفت حسن رضوی

نجی نیوز چینل میں ڈیفنس کاریسپانڈنٹ عفت حسن رضوی، بلاگر اور کالم نگار ہیں، انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس امریکا اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی فیلو ہیں۔ انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں @IffatHasanRizvi

iffat-hasan-rizvi has 29 posts and counting.See all posts by iffat-hasan-rizvi